ایسا لگتا ہے کہ موجودہ نظام پر اشرافیہ کا قبضہ ہو چکا ہے جبکہ عام آدمی مشکلات کا شکار ہے۔
حقائق کی روشنی میں اور ہمارے ہاں صدیوں سے رائج پدرانہ سوچ اور رویے سے ثابت ہے کہ مقامی حکومتی نظام میں خواتین کی نمائندگی کو تسلی بخش حد تک ممکن بنانا ایک چیلنج ہے۔