حلف لیے پانچ ماہ گزر گئے کام شروع نہیں ہوا: بلدیاتی نمائندے

بلدیاتی نمائندوں نے پشاور میں اپنے حقوق کے لیے مظاہرہ بھی کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ انہیں وہی حقوق دیے جائیں جو صوبے کے مقامی حکومت ایکٹ میں موجود ہیں۔

19 دسمبر 2020 کی اس تصویر میں پشاور کے ایک پولنگ سٹیشن میں خواتین بلدیاتی انتخابات کے دوران ووٹ ڈال رہی ہیں (اے ایف پی فائل)

صوبہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا سلسلہ تو مکمل ہوگیا ہے لیکن انتخابات کے تقریبا پانچ ماہ مکمل ہونے کے باوجود ابھی تک بلدیاتی نمائندگان نے اپنا کام شروع نہیں کیا اور ان کے مطابق صوبائی حکومت نے بھی کوئی دلچسپی نہیں لی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات دو مراحل میں منعقد کرائے گئے تھے۔ پہلے مرحلے میں 17اضلاع کی 66 تحصیلوں میں جبکہ دوسرے مرحلے کے انتخابات رواں سال مارچ میں 18 اضلاع کی 65 تحصیلوں میں کرائے گئے۔

انتخابات کے بعد مقامی حکومتوں کے نمائندگان منتخب ہوئے جن میں تحصیل چیئرمین یا میئر، ولیج کونسل اور نیبرہڈ کونسل کے چیئرمین کا انتخاب ہوا تھا۔

انتخابات میں نوجوانوں اور خواتین کے لیے بھی نشستیں مختص تھیں اور وہ بھی انتخابی عمل سے گزر کر منتخب ہوئے۔ تاہم جتنے بھی امیدواران انتخابات جیت کر منتخب ہوئے، انہیں ابھی تک صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی رہنمائی نہیں ملی ہے کہ وہ اب کیا کریں۔

صوبے کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) مقامی حکومتیں بنانے کا کریڈٹ ہمیشہ لیتی رہی ہے اور اس کے رہنما بار بار اس بات کا ذکر کرتے رہے ہیں کہ باقی صوبوں کے مقابلے میں سب سے توانا مقامی حکومتیں خیبر پختونخوا میں ہیں۔

تیمور کمال ضلع نوشہرہ کے گاوں ترخہ کے چیئرمین ہیں اور انتخابات جیتنے کے بعد کام شروع کرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

تیمور کمال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ’ہم اس امید سے تھے کہ جوں ہی انتخابات ہوں گے تو جس طرح صوبائی اسمبلیاں اپنا کام شروع کردیتی ہیں اسی طرح مقامی حکومتیں بھی کام شروع کریں گی لیکن پانچ ماہ گزرنے کے باوجود ہم اسی انتظار میں ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’اس میں سب سے بڑا مسئلہ رولز آف بزنس کی منظوری کا ہے۔ رولز آف بزنس نہ ہونے کی وجہ سے اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل نہیں ہوئے اور یہی وجہ ہے کہ عوام بھی اپنے منتخب نمائندوں سے پوچھتے ہیں کہ ان کو کس مقصد کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔‘

بلدیاتی انتخابات میں خواتین نمائندگان بھی منتخب ہوئی ہیں اور وہ بھی یہی گلہ کر رہی ہیں کہ ابھی تک انہوں نے کوئی کام شروع نہیں کیا ہے۔

ضلع خیبر سے خاتون تحصیل رکن نبیلہ قیوم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہماری صرف حلف برداری ہوئی ہے باقی ابھی تک تحصیل چیئرمین کا دفتر ہے اور نہ ہی کوئی کونسل ہال موجود ہے۔ صرف انتخابات کرانا مسئلے کا حل نہیں بلکہ بلدیاتی نمائندوں کو با اختیار بنانا اور صوبائی حکومت کی طرف سے ان کی معاونت کرنا ضروری ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’پانچ ماہ گزر گئے اور اب عوام ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ کو ہم نے ووٹ دے کر منتخب کیا ہے لیکن بدلے میں کسی قسم کے ترقیاتی کام ابھی تک شروع نہیں ہوئے اور نہ ہمیں اس حوالے سے مقامی حکومتوں کے ادارے کی طرف سے کچھ بتایا گیا ہے۔‘

بلدیاتی نمائندوں نے اسی سلسلے میں گذشتہ روز پشاور میں اپنے حقوق کے لیے مظاہرہ بھی کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کو وہی حقوق دیے جائیں جو صوبے کے مقامی حکومت ایکٹ میں موجود ہیں۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ منتخب تو ہوگئے ہیں لیکن ملک میں جاری سیاسی ہل چل کی وجہ سے وہ حکومت کی نظروں سے اوجھل ہیں۔

حکومت کیا کہتی ہے؟ 

مقامی حکومتوں کو اختیارات کی متنقلی کے حوالے سے صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہم پہلے بھی اس حوالے سے بتا چکے ہیں کہ مقامی حکومتوں کو چلانے کے لیے رولز آف بزنس بنے ہیں اور کابینہ نے ان کی منظوری دی ہے جو تقریبا 25 صفحات پر مشتمل ہیں۔‘

بیرسٹر سیف نے مزید بتایا کہ ’رولز آف بزنس پر وزارت قانون اور محکمہ بلدیات نے کچھ وقت مانگا ہے تاکہ رولز آف بزنس کو مقامی حکومت ایکٹ سے ساتھ دیکھا جائے تاکہ کوئی قانونی تضاد سامنے نہ آسکے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اب تین چار دنوں میں وزارت قانون ان رولز آف بزنس پر نظر ثانی کرے گی اور پھر ایک حتمی اجلاس میں ان کی منظوری ہوگی اور جس کے بعد یہی رولز آف بزنس لاگو کر دیے جائیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست