خیبر پختونخوا میں مقامی حکومتوں کے چار سال: کارکردگی کیسی رہی؟

2015 میں منتخب ہونے والی مقامی حکومتوں کی مدت28  اگست کو ختم ہو رہی ہے لیکن مختلف اضلاع کے رہائشیوں کے مطابق یہ حکومتیں ان کی امیدوں پر پورا نہ اتر سکیں۔

22   مارچ 2016 کو لی گئی اس تصویر میں  پشاور کی ایک ماں اپنی بیٹی کو لوٹے سے پانی پلا رہی ہے (اے ایف پی)

 ’25 سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا لیکن ہمارے ضلع میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کے بعد لوگوں کو امید تھی کہ یہ مسئلہ حل ہو جائے گا لیکن مقامی حکومتوں کی مدت بھی ختم ہوگئی مگر مسئلہ حل نہ ہو سکا۔‘

یہ کہنا ہے ضلع ٹانک کے رہائشیوں کا جو گذشتہ کئی دہائیوں سے پینے کے صاف پانی سمیت دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی پانی کو ترس رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی پہلی حکومت آنے کے بعد2015  میں لوکل گورنمنٹ کے انتخابات منعقد کیے گئے، جسے پی ٹی آئی اپنی بہت بڑی کامیابی سمجھتی تھی۔ ان مقامی حکومتوں کی مدت28  اگست کو ختم ہو رہی ہے لیکن مختلف اضلاع میں بسنے والے لوگوں کے مطابق مقامی حکومتیں وہ کام نہ کرسکیں جن کی انہیں امید تھی۔

پانی کا مسئلہ جوں کا توں

ضلع ٹانک کے رہائشی عصمت شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے پورے ضلع میں پانی کا مسئلہ ہے۔ انگریزوں کے زمانے میں جو پائپ بچھائے گئے تھے، اب بھی وہ وہیں پر موجود ہیں۔ کہیں کہیں یہ پائپ گندے نالوں میں بھی پڑے ہوئے ہیں اور مختلف جگہوں سے لیک ہو رہے ہیں۔

عصمت شاہ کے مطابق ان کے علاقے سے کئی کلومیٹر دور ایک ٹیوب ویل ہے جہاں سے چند لوگ ٹینکرز بھر کر پانی لاتے ہیں اور پھر ایک ٹینکر1800 روپے میں فروخت کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب اُن سے پوچھا گیا کہ لوگ پانی کی ضروریات کیسے پوری کرتے ہیں تو اس کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ لوگ پانی کے ٹینکرز خرید کر ہی اپنی ضرورت کو پورا کرتے ہیں جبکہ علاقے سے تقریباً چھ کلومیٹر کے فاصلے پر گندے پانی کے تالاب ہیں جہاں سے پائپوں کے ذریعے پانی کو مین بازار تک لایا گیا ہے۔

عصمت شاہ نے بتایا: ’مین بازار میں ان تالابوں کے پانی کے لیے ٹینک رکھے گئے ہیں، جن کے ذریعے سے گھروں کو پانی سپلائی کیا جاتا ہے جو پینے کے قابل نہیں ہوتا۔‘

لوکل گورنمنٹ کی کارکردگی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں  نے بتایا کہ لوگوں کو امید تو تھی لیکن ضلع اور صوبے دونوں میں پی ٹی آئی جبکہ ٹانک تحصیل میں جمعیت علما اسلام کی حکومت ہے، اس کے باوجود پانی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔

انہوں نے بتایا کہ مقامی حکومتوں کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری یہ تھی کہ علاقوں کو پانی کی سپلائی بہتر بنائی جائے لیکن بد قسمتی سے ان کے ضلع میں یہ کام مقامی حکومتوں نے چار سال گزرنے کے بعد بھی نہیں کیا۔

 صحت کے شعبے میں کوئی بہتری آئی؟

مقامی حکومتوں کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم کام اضلاع اور تحصیل کی سطح پر عوام کو صحت کی بہتر سہولیات دینا ہے۔ اضلاع میں ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال تو صوبائی حکومت کے ماتحت ہوتا ہے لیکن تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سمیت بنیادی صحت کے مراکز کو بہتر بنانا مقامی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔

اس حوالے سے ضلع دیر کے ناظم محمد رسول خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ضلع کے ترقیاتی بجٹ کا 10 فیصد حصہ بنیادی صحت کے مراکز کے لیے مختص کیا گیا تھا، جو صحت کے ان مراکز اور تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کی ضروریات کو پورا کرتا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان چار سالوں میں صحت کے شعبے میں بڑا پراجیکٹ چکدرہ کے تحصیل ہسپتال میں گردوں کے ڈائیلاسز مشین یونٹ کا قیام ہے جو ابھی فعال ہے اور کام کر رہا ہے۔

محمد رسول نے بتایا: ’اس ڈائیلاسز یونٹ میں تین مشینیں پہلے سے موجود تھیں جبکہ تین مزید ایک کروڑ روپے کی لاگت سے خریدی گئیں، جس سے گردوں کے مریضوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔‘

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے کا دس فیصد بجٹ ان بنیادی مراکزِ صحت کے اخراجات اور ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فراہم کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی کہ بنیادی مراکز میں بہتری کے لیے کون سے اقدامات کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب اضلاع میں موجود بنیادی مراکز میں ڈیوٹیاں انجام دینے والے ڈاکٹروں نے نام نہ بتانے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کہ اب بھی بہت کچھ کرنے کو باقی ہے کیونکہ بنیادی صحت مراکز میں صحت کے بہت سے مسئلوں کا علاج کیا جاتا ہے۔

ان ڈاکٹروں کے مطابق کچھ مراکز میں بنیادی ضرورت کی ادویات بھی بہت مشکل سے ملتی ہیں جبکہ بہت معمولی مسئلے کے شکار افراد کو یا تو ضلعی ہسپتال یا پھر پشاور ریفر کیا جاتا ہے۔

تعلیم کے شعبے میں کارکردگی کیسی رہی؟

مقامی حکومتوں کے ترقیاتی بجٹ میں سب سے زیادہ حصہ تعلیم کے لیے مختص تھا، جو ضلعی ترقیاتی بجٹ کا 20 فیصد ہے۔ ضلعی ناظمین کے مطابق یہ بجٹ پرائمری، مڈل و ہائی سکولوں میں بنیادی سہولیات کو یقینی بنانے پر خرچ کیا جاتا رہا۔

انڈپینڈنٹ اردو نے مختلف اضلاع میں واقع سکولوں میں بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا ہے۔ حکومتی ادارہ انڈپینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ جو صوبے میں سکولوں کے مختلف شعبوں پر نظر رکھتا ہے، کی جون کی رپورٹ کے مطابق ضلع دیر کے 100  فیصد سکولوں  میں ٹائلٹ کی سہولت موجود ہے جبکہ 98 فیصد سکولوں میں بجلی اور 93 فیصد سکولوں میں پانی کی سہولت موجود ہے۔

اسی طرح دیر بالا ضلع کے 97 فیصد سکولوں میں ٹائلٹ، 90 فیصد میں پانی اور 71 فیصد سکولوں میں بجلی کی سہولت موجود ہے۔

چترال کی اگر بات کی جائے تو وہاں کے 99 فیصد سکولوں میں ٹائلٹ، 98 فیصد میں پانی اور 82 فیصد سکولوں میں بجلی کی سہولت موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع کے 95 فیصد سے زائد سکولوں میں پانی، 96 فیصد سے زائد میں ٹائلٹ جبکہ 90 فیصد سے زائد سکولوں میں بجلی کی سہولت موجود ہے۔

ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی

اضلاع کے ناظمین کو صوبائی حکومت سے چار سال تک شکوہ رہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ترقیاتی بجٹ کا33   فیصد مقامی حکومتوں کے لیے مختص تھا لیکن انہیں پورا نہ مل سکا۔ ضلع دیر کے ناظم محمد رسول نے بتایا کہ ہر سال تقریباً ضلعی ترقیاتی بجٹ پر 50 فیصد تک کٹ لگا رہا۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال بھی انہیں صرف تین چوتھائی کے لیے فنڈ ملا ہے جبکہ ایک چوتھائی اب  بھی رہتا ہے جس کی وجہ سے کچھ جاری پراجیکٹس طوالت کا شکار ہیں جبکہ مقامی حکومتوں کی مدت ختم ہوگئی۔

یہی شکوہ دیگر اضلاع کے ناظمین کو بھی پورے چار سال رہا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے مختص فنڈ میں کٹوتی ہوتی رہی اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی تھی کہ وفاق کی جانب سے این ایف سی میں مختص فنڈ ان کو نہیں ملتا تھا، اسی وجہ سے اضلاع کے ترقیاتی فنڈ ز میں کٹوتی کی گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان