کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات: خواتین امیدواروں کی مایوس کن تعداد 

حقائق کی روشنی میں اور ہمارے ہاں صدیوں سے رائج پدرانہ سوچ اور رویے سے ثابت ہے کہ مقامی حکومتی نظام میں خواتین کی نمائندگی کو تسلی بخش حد تک ممکن بنانا ایک چیلنج ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں خواتین امیدواروں کی شمولیت نہ صرف انتہائی غیرتسلی بخش بلکہ مایوس کن رہی(اے ایف پی فائل فوٹو)

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کی سیاسی شرکت اور نمائندگی کے حوالے سے حالات میں بہتری آنی چاہیے تھی اور اسے ممکن بنانے کے لیے حکومت اور سیاسی جماعتوں کو ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیے لیکن حقیقت اس سے یکسر مختلف ہے۔ اس کا تازہ ثبوت حالیہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات ہیں۔

ان انتخابات کے نتائج اور تجزیے پر مبنی فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے ایک حالیہ سروے میں انکشاف کیا ہے کہ کل 1499 امیدواروں میں سے صرف 19 خواتین تھیں جنہوں نے کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں حصہ لیا۔

فافن کے مطابق 19 خواتین امیدواروں میں سے نو نے آزاد حیثیت سے مقابلہ کیا جبکہ تین کو پیپلز پارٹی، دو کو تحریک انصاف اور ایک ایک کو مسلم لیگ ن، پاک سرزمین پارٹی، تحریک لبیک پاکستان، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ نے ٹکٹ دیئے۔

ملک بھر میں کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کے بارے میں فافن نے کہا کہ ٹرن آؤٹ کم رہا۔ صرف 32 فیصد لوگوں نے اپنے انتخابی حق کو استعمال کیا۔

تنازعات سے پاک انتخابی نتیجہ جمہوری روایات کے لیے ایک مثبت علامت ہے تاہم افسوس کی بات ہے کہ ان انتخابات میں خواتین امیدواروں کی شمولیت نہ صرف انتہائی غیرتسلی بخش بلکہ مایوس کن رہی۔

ہمیں امید تھی کہ 2018 کے الیکشن سے سیکھتے ہوئے اور موجودہ قانون کی پاسداری کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام انتخابات میں سیاسی جماعتیں، انتخابی نشستوں پر خواتین کی شمولیت کو ممکن بنانے کے لیے پانچ فیصد مختص کوٹہ کو یقینی بنائے گی، جس کی منظوری 2017 کے الیکشن ایکٹ کے سیکشن 206 میں موجود ہے۔

اس قانون  کے مطابق سیاسی جماعتوں کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں سمیت انتخابی نشستوں پر خواتین کے لیے کم از کم پانچ فیصد کوٹہ یقینی بنانے کی ضمانت دینے کا پابند کیا گیا ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اسے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں کیسے لاگو کیا جا سکتا ہے؟

خواتین کی انتخابی عمل میں شرکت میں سیاسی جماعتوں کی عدم دلچسپی اور ماضی میں ہونے والے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی غیر ذمہ دارانہ رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے، کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات سے پہلے ہی الیکشن کمیشن کو متقلقہ قانونی اداروں کی مدد سے اس قانون کے موثر اطلاق پر زور دینا چاہیے تھا اور یہ واضح کر دینا چاہیے تھا کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے دوران بھی یہ قانون لاگو ہوگا۔

ماضی کے تجربات کی بنیاد پر ہم سب کو یہ اندازاہ ہے کہ ہماری اکثر سیاسی جماعتیں خود سے کبھی بھی خواتین کی موثر سیاسی شرکت اور تسلی بخش نمائندگی کو یقینی نہیں بنائیں گی۔

اس بات کا ثبوت ایک دفعہ پھر 1499 انتخابی نشستوں میں صرف 19 خواتین کی بحیثت امیدوار شرکت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔

خواتین کے انتخابی عمل میں شرکت کے حوالے سے کیا یہ رویہ انتہائی غیر تسلی بخش اور مایوس کن نہیں؟

یہاں یہ بات ضرور غور طلب ہے کہ نو خواتین کا آزاد امیدوار کی نشستوں پر آگے آنا اور انتخابی عمل میں حصہ لینا خواتین کی جرات اور سیاسی عمل میں شرکت کے حوالے سے دیدہ دلیری کی ضمانت دیتا ہے کیونکہ ہم سب کو بخوبی ان تمام حقائق کا اندازہ ہے کہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے  انتخابی عمل میں حصہ لینا اچھا خاصا دل گردے کا کام ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈ کے مقامی انتخابات میں تمام بڑی چھوٹی سیاسی جماعتوں  نے حصہ لیا۔ ان میں اکثریت ان جماعتوں کی ہے جو اپنے آپ کو خواتین کی حقوق کی علم بردار سمجھتی ہیں۔

ان میں سے اکثر جماعتوں کے اندر سیاسی بصیرت رکھنے والی خواتین کی خاطر خواہ تعداد موجود ہے جو اپنی جماعتوں کے اندر اپنی ذمہ داریاں انجام دینے میں اکثر کوشاں نظر آتی ہیں۔

انتخابات کے دوران آپ کو یہ خواتین اپنے جماعت کے امیدوارں کے لیے گھر گھر جاکر ووٹ مانگتے نظر آتی ہیں۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سیاسی جماعتیں خواتین کو انتخابی نشستوں پر ٹکٹ دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار کیوں ہیں۔

خواتین کو انتخابی نشستوں پر ٹکٹ دلوانے کے لیے ہمیں ہمیشہ سے اضافی قوانین کا مطالبہ کرنا پڑتا ہے حالانکہ سیدھی بات ہے کہ آپ آدھی سے زیادہ آبادی کو کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں؟

خواتین کی سیاسی و انتخابی عمل میں غیرتسلی بخش شرکت کے لیے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی فہمی برچہ سیاسی جماعتوں میں موجود خواتین کو بھی مورد الزام ٹھراتی ہیں۔ وہ  پیپلز پارٹی کی سرگرم کارکن ہیں۔

انہیں عام انتخابات میں مخصوص نشست پر پارٹی نے نامزد کیا تھا تاہم پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں اکثریت نہ جیت سکی۔

فہمی برچہ کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں تقریباََ ہمیشہ سے انتخابات میں خواتین نے مخصوص نشستوں پر ہی انتخابات میں حصہ لیا ہے۔

بہت کم خواتین اپنی جماعت کے اندر انتخابی نشستوں پر براہ راست انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اصرار کرتی ہیں۔ یہی رویہ خواتین کے سیاسی و انتخابی عمل میں شرکت کی ایک اہم رکاوٹ ہے۔

فہمی کے مطابق خواتین کو اپنی سیاسی جماعتوں کے اندر موثر انداز سے اپنی آواز بلند کرنی ہوگی اور اس بات کی ضمانت لینی ہوگی کہ سیاسی عمل میں اس کے ساتھ صنف کی بنیاد پر فرق نہ برتا جائے۔

بصورت دیگر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا جس کا نقصان یہ ہوگا کہ خواتین اپنی محنت اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنا سیاسی کیرئر نہیں بنا پائیں گی۔

اس سے ہمارے ہاں موجود یہ سوچ کہ خواتین سیاسی بصیرت وصلاحیت نہیں رکھتیں کو مزید فروغ ملے گا۔ حقائق سے ثابت ہے کہ خواتین کی نمائندگی صرف خواتین ہی بہتر طور پر کرسکتی ہیں۔

اگر مرد مناسب نمائندگی کرسکتے تو ہمارے ہاں خواتین کے مسائل میں آج خاطر خواہ کمی ہوتی۔  

فافن کی ٹیم ممبر جوبلی ہنزائی کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پارلیمنٹ کی جانب سے انتخابی سیاست میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی کے لیے مثبت اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات تشویشناک امر ہے۔

جوبلی نے فافن کی حالیہ رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حقائق اور تجزیے کے بنیاد پر پارلیمنٹ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کے معاملے میں انتخابی قانون کے قابل عمل ہونے کی وضاحت کرے تاکہ امیدواروں کے طور پر خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اگرچہ پولنگ ووٹوں کا صنفی تفریق شدہ اعداد و شمار اس وقت صرف جزوی طور پر دستیاب ہیں۔ انیس وارڈز میں (پنجاب میں گیارہ، سندھ میں چھ اور خیبر پختونخوا میں دو) فافن کو کوئی بھی وارڈ ایسا نہیں ملا جس میں 10 فیصد سے کم خواتین ٹرن آؤٹ ہو۔ تاہم غلط ووٹوں کی تعداد فتح کے مارجن سے زیادہ رہی۔

مجموعی طور پر کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں خواتین کی شرکت بطور ووٹر اور امیدوار دونوں کم تھی۔

یہ صنفی تفاوت پولنگ ووٹوں میں بھی برقرار رہا۔ پول کیے گئے ووٹوں میں سے خواتین امیدواروں نے صرف 2،681 (0.4 فیصد) ووٹ حاصل کیے جبکہ مرد امیدواروں نے مجموعی طور پر 686،784 (99.6 فیصد) ووٹ حاصل کیے۔

جوبلی نے مزید کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 206 کے خدوخال کو مزید واضح کرنا ہوگا تاکہ اس کا اطلاق عملی طور پر سیاسی جماعتوں کو پابند کر کے ممکن بنایا جائے۔

تاہم جوبلی نے ایک تشویش ناک امر کی طرف توجہ دلائی اور کہا کہ خواتین پارلمینٹرینز کے ساتھ ایک حالیہ نشت میں ان کے علم میں یہ بات آئی کہ پی ٹی آئی کے ممبران نے چھ جون، 2021 کو قومی اسبملی میں ایک ترمیمی بل پیش کیا ہے۔

بل میں ڈیمانڈ کی گئی ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 206 کے تحت سیاسی جماعتوں کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں سمیت انتخابی نشستوں پر خواتین کے لیے کم از کم پانچ فیصد کوٹہ یقینی بناتے ہوئے کسی بھی حلقے میں کامیاب ہونے والے امیدوارں کو خواتین کی نامزدگی کا حق حاصل ہو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس ترمیمی بل کی منظوری سے میرٹ اور انصاف کی بنیاد پر نامزدگی کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہوجائیں گے۔

جوبلی کا کہنا ہے کہ اس وقت سیاسی جماعتوں میں موجود خواتین ممبران کو اس ترمیمی بل کو مسترد کرنا ہوگا۔ ورنہ یہ بل آگے جا کر بذات خود ان کے لیے سب سے زیاد نقصان دہ ہوگا۔  

حقائق کی روشنی اور ہمارے ہاں صدیوں سے رائج  پدرانہ سوچ اور رویے سے یہ بات ثابت ہے کہ مقامی حکومتی کے نظام میں خواتین کی نمائندگی کو تسلی بخش حد تک ممکن بنانا ایک چیلنج ہے لیکن یہ ناممکن ہرگز نہیں ہے بشرطیکہ حکومت، الیکشن کمیشن، سیاسی جماعتیں اور عوام بشمول مرد و خواتین مل کر اس میں اپنا کردار ادا کریں۔

 یہاں یہ یاد دلانا بھی اہم ہے کہ ایس ڈی جیز کے اہداف پر عمل درآمد کرنا اور اس کے تحت متعین ٹارگٹس کو 2030 تک حاصل کرنے پر اس وقت پوری دنیا میں شدت سے زور دیا جا رہا ہے۔

اکثر ممالک  بشمول پاکستان کو ان اہداف کے حصول کا پابند بنایا گیا ہے۔ ان اہداف میں ایک اہم ہدف 5.5 خواتین کے خلاف امتیازی رویے کے خاتمے سے متعلق ہے جس میں وضاحت سے کہا گیا ہے کہ ’سیاسی، معاشی اور عوامی زندگی میں فیصلہ سازی کی ہر سطح پر خواتین کی مکمل اور موثر شرکت اور قیادت کے مساوی مواقع کو یقینی بنایا جائے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر