کنٹونمنٹ انتخابات: ٹی ایل پی کالعدم ہونے کے باوجود میدان میں کیسے؟

ٹی ایل پی رہنما محمد نعمان رضا کے مطابق ’جس بنیاد پر حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی لگائی اور سعد رضوی سمیت قیادت کو جیل میں بند کر رکھاہے اسی طرز پر حکمران جماعت اپنے اپوزیشن کے زمانے میں کرتی آئی ہے۔‘

تحریک لبیک کے بانی  خادم رضوی  کافروری 2019 میں اینٹی   ٹیررسٹ کورٹ لاہور  آمد کے موقع پر استقبال(فائل تصویر: اے ایف پی)

حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے کنٹونمنٹ انتخابات کے دوران 42 حلقوں میں سے 17 میں 84 امیدوار نامزد کیے ہیں۔

تحریک لبیک اس حساب سے ملک کی بڑی جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں امیدوار میدان میں اتارنے والی پانچویں جماعت ہے۔

ٹی ایل پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کنٹونمنٹ انتخابات میں ٹکٹ پارٹی پالیسی کے مطابق جاری کیے نیز ٹی ایل پی کے حمایت یافتہ امیدوار تمام وارڈز میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔

حکومت کے مطابق ٹی ایل پی پر انتظامی پابندی عائد ہے لیکن عدالتی مرحلے کے بغیر انہیں الیکشن لڑنے سے نہیں روکاجاسکتا۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک لبیک سے متعلق معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہونے اور انہیں روکنے کی کوئی درخواست موصول نہ ہونے کے باعث ان کو انتخابات میں حصہ لینے سے نہیں روکا جاسکتا۔

کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں اتوار 12 ستمبر کوصبح آٹھ سے شام پانچ بجے تک پولنگ ہوگی۔ یہ انتخاب ملک کے کنٹونمنٹ میں مقامی طور پر نظام چلانے کے لیے عام ممبران منتخب کرنے کے لیے منعقد ہوتےہیں۔

ٹی ایل پی اوردیگرجماعتوں کے امیدوار:

الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک بھر میں کنٹونمنٹس کے 219 وارڈز کے امیدواروں کی بنائی گئی فہرستوں کےجائزے سےظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی جماعت ٹی ایل پی نے پنجاب کے نو کنٹونمنٹس میں سب سے زیادہ یعنی 57 امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ اس کے بعد سندھ کے 6 کنٹونمنٹس میں 24 اور خیبر پختونخوا کے تین کنٹونمنٹس میں تین امیدوار ہیں۔

ٹی ایل پی نے بلوچستان کے 3 کنٹونمنٹس کے 9 وارڈزمیں سے کسی میں بھی کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا۔

‎ملک بھر میں امیدواروں کی تعداد کی بات کی جائے تو ٹی ایل پی کی پانچویں پوزیشن ہے کیونکہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سب سے زیادہ 178 امیدوار میدان میں اتارے ہیں، اس کے بعد پاکستان مسلم لیگ(ن) ہے جس کے 140 امیدوار میدان میں ہیں جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی 112 اور جماعت اسلامی (جے آئی) نے 105 امیدوار میدان کھڑے کیے ہیں۔

ٹی ایل پی نے لاہور کنٹونمنٹس کے تمام 20وارڈز میں امیدوارکھڑے کیے ہیں اس جماعت کا مرکز بھی لاہور میں ہی واقع ہے ۔

تحریک لبیک نے والٹن، راولپنڈی، چکلالہ اور واہ چھاؤنیوں کے نو وارڈز میں نو امیدواروں کو ٹکٹ دیے ہیں،گوجرانوالہ میں ٹی ایل پی کے چھ، ٹیکسلا میں تین اور کھاریاں اور سیالکوٹ کنٹونمنٹس میں ایک ایک امیدوار ہے۔

سندھ میں کالعدم ٹی ایل پی نے کراچی میں واقع چار کنٹونمنٹس میں 18 اور حیدرآباد کنٹونمنٹس میں چھ امیدوار کھڑے کیےہیں۔

تحریک لبیک کے رہنما محمد نعمان رضا نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹی ایل پی کی قیادت جیلوں میں ہے اس کے باوجود انتخابی عمل کا حصہ بن رہے ہیں۔ ہمارے امیدواروں کی کامیابی یقینی ہے کیونکہ ہم نے عوامی امنگوں کی ترجمانی کی ہے اور حکومت وقت سے مطالبات منوانے کے لیے کوئی سودے بازی نہیں کی۔‘

پابندی کے باوجود ٹی ایل پی انتخاب میں قانونی طور پر حصہ لے سکتی ہے؟

اس سوال کے جواب میں الیکشن کمیشن آفس پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر تعلقات عامہ جاوید خان نے انڈپینڈںٹ اردو سے گفتگو میں کہاکہ ’انتخابی عمل میں حصہ لینے سے روکنے کا ایک قانونی طریقہ موجود ہے۔ حکومت کی جانب سےکسی جماعت کو کالعدم قرار دے کر پابندی سے کسی جماعت الیکشن لڑنے سے نہیں روکا جاسکتا جب تک حکومت الیکشن کمیشن کو درخواست نہ دے یا عدلیہ ایسا کوئی حکم نہ دے۔‘

ان کے مطابق ابھی ٹی ایل پی پر پابندیوں کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا نہ ہی حکومت یا کسی اور فریق کی جانب سے کوئی تحریری درخواست دی گئی ہے کہ ٹی ایل پی کو انتخابی عمل کا حصہ بننےسے روکا جائے۔ ’اگر مستقبل میں ٹی ایل پی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا عدالت کوئی حکم دیتی ہے یا کوئی فریق درخواست دیتا ہے تو الیکشن کمیشن اپنے اجلاس میں اس کا جائزہ لے کر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔‘

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق صرف سپریم کورٹ کو اختیار ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت کو الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پر انتظامی طور پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ کسی جماعت کو الیکشن میں حصہ لینےسے روکنے کے لیے دو مراحل ہیں ایک انتظامی اور دوسرا عدالتی، جب تک عدالتی مرحلہ مکمل نہیں ہوتا پارٹی کوانتخابات میں حصہ لینے سے نہیں روکا جا سکتا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ابھی تک کیس کو سپریم کورٹ میں پیش نہیں کیا حالانکہ صوبائی کابینہ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پارٹی پر پابندی بھی عائد کی تھی۔

اس معاملہ پر جب تحریک لبیک کے رہنما محمد نعمان رضا سے بات کی گئی تو انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سےانہیں کالعدم قرار دینے کا فیصلہ عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے ہمیں جمہوری حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہاکہ ’جس بنیاد پر حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی لگائی اور سعد رضوی سمیت قیادت کو جیل میں بند کر رکھاہے اسی طرز پر حکمران جماعت اپنے اپوزیشن کے زمانے میں کرتی آئی ہے۔‘

ان کے بقول کنٹونمنٹ انتخابات میں مہم چلانے والے متحرک کارکنوں کو انتظامیہ ہراساں کر رہی ہے۔ ’ریلیوں سے روکا گیا اور دوسری جماعتوں کی طرح جلسے جلوس کرنے سے بھی روکا گیا۔ مگر ان تمام ہتھکنڈوں کےباوجود کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں ٹی ایل پی امیدوار بڑی تعداد میں کامیاب ہوکر یہ پیغام دیں گے کہ پاکستان کےعوام ہمارے موقف کے ساتھ ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان