’اچھی‘ اور ’بری‘ عورت کی تقسیم صرف شاہی خاندانوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ گھروں، دفاتر، کلاس رومز اور دوستیوں تک سرایت کر جاتی ہے۔
میڈیا، مبصرین، سابق فوجیوں اور یہاں تک کہ افغان طالبان نے بھی اس پر تنقید کی ہے، تاہم بکنگھم پیلس کتاب کے مندرجات کے بڑے پیمانے پر افشا ہونے کے معاملے پر خاموش ہے۔