پاکستانی معاشرے کی صورت حال اس وقت ایک اور نئی شکل لے رہی ہے۔ مسائل سے مایوس ہو کر پاکستانی دانشور شان دار ماضی کی تلاشِ احیا کی تحریکوں کو اپنا رہنما بنائے ہوئے ہیں اور جب یہ اپنا مقابلہ مغرب سے کرتے ہیں تو انہیں زوال ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔
پاکستان کے لیے امکانات اور حدود دونوں ہیں۔ روس کے ساتھ توانائی، تجارت اور علاقائی رابطوں پر تعاون مفید ہو سکتا ہے، جن پر دو طرفہ مذاکرات جاری رہے ہیں۔ مگر کسی نئے عالمی محور کی جذباتی حمایت معاشی حکمت عملی کا متبادل نہیں۔