وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ’ایک اور 9 مئی کرنے کا حکم‘ دیا گیا تھا، اس لیے ’ملک کو تباہی سے بچانے‘ کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا۔
شہباز شریف نے یہ بات منگل کی شب مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ خیبرپختونخوا میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، تعلیمی ادارے اور ہسپتال فعال ہوں، ادویات دستیاب ہوں، امن و امان بہتر بنایا جائے اور دہشت گردی کا مؤثر مقابلہ کیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف نے پہلے 27 ستمبر اور پھر 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال دی تھی جسے بعد میں مزید موخر کرتے ہوئے 11 اکتوبر کو دارالحکومت کی طرف روانہ ہونے کا کہا گیا تھا۔
تاہم اس سے قبل ہی اتوار 11 اکتوبر کی صبح وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کر دیا، جسے پی ٹی آئی نے ’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سینیٹ میں قرارداد جمع کروا رکھی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات اور ان کی ناکامی کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ ’ان کو (پی ٹی آئی) حکم تھا کہ نو مئی کو دوبارہ کرنا ہے، اس سے بھی آگے بڑھنا ہے، تباہی مچانی ہے اور کوئی چیز منظور نہیں کرنی۔‘
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں کی شرکت سے دن رات مذاکرات جاری رہے اور معاہدے کا متفقہ مسودہ بھی تیار ہو گیا، تاہم آخری مرحلے میں مذاکرات ناکام ہو گئے۔ بعد ازاں مولانا فضل الرحمٰن سے مشاورت اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ کابینہ اجلاس میں تفصیلی بحث کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ملک کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس لیے ایمرجنسی کا نفاذ کیا جائے۔ پاکستان سب سے پہلے ہے۔ پاکستان کی خوشحالی، ترقی اور بقا سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں۔ پاکستان کے مفاد میں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) October 13, 2026
انہوں نے 11 اکتوبر کی کارروائی سے قبل کا احوال سناتے ہوئے کہا: ’ڈھائی گھنٹے تک ہماری کابینہ کی میٹنگ جاری رہی جس میں یہ فیصلہ ہوا یہ گھڑی ہے پاکستان بچانے کی۔ اب ہم مزید انتظار نہ کریں، ورنہ ہر چیز جل جائے گی اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔
’بعد ازاں (جے یو آئی کے سربراہ) مولانا فضل الرحمٰن سے مشاورت اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ کابینہ اجلاس میں تفصیلی بحث کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ملک کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس لیے ایمرجنسی کا نفاذ کیا جائے۔ پاکستان سب سے پہلے ہے۔‘
بقول وزیراعظم: ’پاکستان کے مفاد میں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔‘
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں کی شرکت سے دن رات مذاکرات جاری رہے اور معاہدے کا متفقہ مسودہ بھی تیار ہو گیا، تاہم آخری مرحلے میں مذاکرات ناکام ہو گئے۔ بعد ازاں مولانا فضل الرحمٰن سے مشاورت اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ کابینہ اجلاس میں تفصیلی بحث کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ملک کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس لیے ایمرجنسی کا نفاذ کیا جائے۔ پاکستان سب سے پہلے ہے۔ پاکستان کی خوشحالی، ترقی اور بقا سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں۔ پاکستان کے مفاد میں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) October 13, 2026
انہوں نے سوال کیا کہ ’جب دہشت گردی پھیل رہی ہو، روزانہ قربانیاں دی جا رہی ہوں اور ایک سیاسی جماعت اپنا وقت اور وسائل ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے پر صرف کر رہی ہو تو ترقی اور خوشحالی کا سفر کیسے آگے بڑھ سکتا ہے؟‘
وزیراعظم نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں ایک ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی ہے جس میں ماہرین، پیشہ ور افراد، ڈاکٹرز، ماہرین تعلیم اور مالیاتی امور کے ماہرین شامل ہیں۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’حکومت خلوصِ نیت کے ساتھ خیبر پختونخوا کے عوام کی خدمت کرے گی اور انہیں دکھائے گی کہ ترقیاتی منصوبے کس طرح شروع کیے جاتے ہیں، انہیں کس طرح مکمل کیا جاتا ہے اور امن و امان کو کیسے بہتر بنایا جاتا ہے۔‘