خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے خلاف پی ٹی آئی کی سینیٹ میں قرارداد

سینیٹر علی ظفر اور راجہ ناصر عباس سمیت دیگر سینیٹرز کی قرارداد میں گورنر راج کو صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے 13 اکتوبر، 2026 کو پارلیمنٹ  ہاوس میں احتجاج کیا گیا(پی ٹی آئی سوشل میڈیا)

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف منگل کو سینیٹ میں قرارداد جمع کرا دی گئی، جس میں ان اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبے کے عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سینیٹر علی ظفر، راجہ ناصر عباس اور دیگر سینیٹرز کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے تحت کیے گئے اقدامات صوبائی خودمختاری، پارلیمانی جمہوریت اور آئین کے وفاقی کردار کے منافی ہیں۔

یہ قرارداد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر آصف علی زرداری نے اتوار کو وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور آرٹیکل 232 کے تحت صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے اعلانات جاری کیے تھے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

وفاقی حکومت نے ان اقدامات کی وجہ صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ’دانستہ عدم تعاون‘ کو قرار دیا ہے۔

قرارداد میں کیے گئے مطالبات اور اعتراضات

قرارداد کے متن کے مطابق ایوان آئین، پارلیمانی جمہوریت، وفاقی نظام اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور خیبر پختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کے احترام پر زور دیتا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت اندرونی خلفشار کی بنیاد پر ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری ہے، تاہم شائع شدہ اعلان میں خیبر پختونخوا اسمبلی کی کسی ایسی قرارداد کا ذکر موجود نہیں۔

اس میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے نفاذ کے لیے گورنر کی رپورٹ لازمی ہے۔

قرارداد کے مطابق صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ اور کابینہ کو ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ صوبائی اسمبلی بدستور برقرار ہے۔

سینیٹرز نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سکیورٹی پالیسی پر اختلافات ایمرجنسی کے نفاذ کا جواز نہیں بن سکتے اور نہ ہی سیاسی مذاکرات کی ناکامی کو گورنر راج نافذ کرنے کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے باہمی تعاون اور مشترکہ اقدامات ہی سے ممکن ہے۔

سینیٹرز نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کے تحت کیے گئے اقدامات کو عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور آئین کے وفاقی کردار پر حملے کے مترادف قرار دیا ہے۔

گورنر راج کی پارلیمانی منظوری کا طریقہ کار

آئین کے آرٹیکل 234 کے مطابق گورنر راج کا اعلان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرنا ضروری ہے۔ اگر دو ماہ کے اندر مشترکہ اجلاس سے اس کی منظوری حاصل نہ کی جائے تو یہ اعلان غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مشترکہ اجلاس قرارداد کے ذریعے گورنر راج کی مدت میں مزید دو ماہ تک توسیع بھی کر سکتا ہے۔

پی ٹی آئی سے سیاسی مفاہمت کا عمل ختم کرنے کا فیصلہ درست تھا: اسحاق ڈار

دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کو سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ نے گذشتہ ہفتے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ سیاسی مفاہمت کا عمل ختم کرنے کا درست فیصلہ کیا تھا۔

ان کا یہ بیان خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سامنے آیا ہے۔

وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دانستہ عدم تعاون کے باعث یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھنا ہوگا: محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کو سینیٹ میں کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی آئینی حیثیت پر اٹھائے گئے اعتراضات کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین کی کمیٹی بنانے کی تجویز دی، جو واضح کرے کہ آئین کی کس شق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

محسن نقوی کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہوئے، جن میں اسد قیصر نے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور متعدد تجاویز پر اتفاق بھی ہوا، تاہم دو روز کی کوششوں کے باوجود طے شدہ امور پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا یا ان کے نمائندے کی شرکت بھی چاہی تھی تاکہ اختلافات دور کیے جا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنا آسان فیصلہ نہیں، لیکن امن و امان کے قیام اور سکیورٹی اہلکاروں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے بعض واقعات میں افغانستان سے آنے والے عناصر ملوث ہیں، تاہم حکومت پختون عوام کو دہشت گردی سے منسوب نہیں کرتی۔ ان کے بقول دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق، صوبے اور تمام سیاسی قوتوں کا تعاون ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست