سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے حوثی میزائلوں کو تباہ کرنے کے بعد ان کا ملبہ گرنے سے چار افراد زخمی ہو گئے۔
سعودی سول ڈیفنس کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب ریاض میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جب سعودی فضائی دفاعی نظام نے شہر کے اوپر دشمن اہداف کو نشانہ بنایا۔
حکام نے بدھ کو بتایا کہ روکے گئے دو کروز میزائلوں کے ٹکڑے تقریباً 15 رہائشی مکانات کے اطراف میں گرے، جس سے چار افراد زخمی ہوئے۔
سول ڈیفنس نے متاثرہ رہائشی عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان کی تصاویر بھی جاری کیں۔یمن میں اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بدھ کی علی الصبح بتایا کہ الخرج گورنری میں ایک کروز میزائل تباہ کیا گیا۔
سعودی حکام کے مطابق منگل کو مملکت کے مختلف علاقوں میں متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے گئے۔ ظہران اور حرض کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو بھی روک لیا گیا۔
سعودی وزارت توانائی نے ایک بیان میں کہا کہ ظہران میں سعودی آرامکو کی ایک انتظامی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ترکی المالکی نے منگل کی شب بتایا کہ ریاض کے شمال میں تین ڈرونز بھی تباہ کیے گئے۔
سعودی کابینہ کا حوثیوں کو نتائج بھگتنے کا انتباہ
سعودی حکومت نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کو مملکت پر بار بار حملوں کے نتائج بھگتنے سے خبردار کیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں حوثیوں کی کارروائیوں کی مذمت کی گئی اور بحیرہ احمر اور باب المندب آبنائے میں جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ حوثیوں کی جانب سے ان اہم بحری راستوں کو بھی خطرات لاحق ہونے کا ذکر کیا گیا۔
سعودی کابینہ نے اتحادی افواج کی اس کارروائی کی بھی حمایت کی جس کا مقصد حوثی گروپ کی جانب سے یمنی عوام، بین الاقوامی امن و سلامتی اور عالمی تجارت کو لاحق خطرات کا تدارک کرنا ہے۔
دوسری جانب عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے اثرات دنیا بھر کے لوگوں پر پڑ سکتے ہیں، کیونکہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور تیل سے مالا مال خطے میں متعدد تنازعات جاری ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے یہ بات بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ ’سعودی معیشت خطے اور دنیا کے لیے اہم ہے، اور اس تناظر میں ان واقعات کے ممکنہ منفی اثرات ہر جگہ ہر شخص پر مرتب ہوسکتے ہیں۔‘