وانا اور نواحی علاقوں میں طالبان کی بڑھتی کارروائیوں، اغوا اور بھتہ خوری کے خلاف قبائل ایک بار پھر متحد ہو گئے اور 18 سال بعد بننے والے قومی لشکر نے مختلف مقامات پر مورچے سنبھال لیے۔
پاکستان کا صبر جواب دے گیا اور آخر کار چار سال کی ناکام سفارت کاری کے بعد، اب ٹی ٹی پی کے بجائے براہِ راست افغان طالبان کے ٹھکانے اور گولہ بارود کے ڈپو نشانے پر ہیں۔