1858 میں شائع ہونے والی یہ کتاب ایک مقامی شخص کو ایک چائے کی ایک پیٹی کے اندر ملی، جو ایک غیر استعمال شدہ آتش دان میں اینٹوں سے بند کی گئی تھی۔
حبیب حسین عباسی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’کبھی تین، چار یا پانچ گاہک آ جاتے ہیں جس سے دکان کا خرچہ بھی نہیں نکلتا مگر جب تک ممکن ہو سکا اسے چلاؤں گا۔‘