پشاور کی سٹریٹ لائبریری:’کتاب واپسی کی کوئی پابندی نہیں‘

پشاور کے علاقے حیات آباد میں واقع اپنی نوعیت کی انوکھی لائبریری کے منتظمین نے اسے ’سٹریٹ لائبریریُ کا نام دیا ہے کیونکہ یہ سڑک کے کنارے فٹ پاتھ کے دیوار پر بنائی گئی ہے جہاں کتابوں کے مختلف سیکشن ہیں۔

سڑک کے کنارے گاڑیوں کے ہارن اور شور اپنی جگہ لیکن پینٹنگز سے سجی دیوار پر لکڑی سے بنے شیلف پر نظر ٹھہر جاتی ہے، یہ ہے پشاور کی ’سٹریٹ لائبریری‘۔

بچے اور بڑے شیلف سے ایک ایک کتاب اٹھا کر سرورق اور بیچ کے کچھ اوراق پڑھنے کے بعد واپس رکھ دیتے تھے اور اپنی پسند کی کتاب ڈھونڈ رہے تھے۔

یہ منظر تھا پشاور کے حیات آباد میں واقع اپنی نوعیت کی انوکھی لائبریری کا جسے منتظمین نے ’سٹریٹ لائبریریُ کا نام دیا ہے کیونکہ یہ سڑک کے کنارے فٹ پاتھ کے دیوار پر بنائی گئی ہے جہاں پر مختلف کتابوں کے سیکشن بھی نظر آ رہے تھے۔

لائبریری میں انگریزی، اردو ناولز، اسلامی کتابین، بچوں کے ڈائجسٹ سمیت کچھ جنرل نالج کے کتابیں بھی موجود تھیں جبکہ سکول ٹیسکٹ بک کی کچھ نئے اور کچھ پرانے کتابیں بھی رکھی گئی ہیں۔ یہ لائبریری گوہر زمان فاؤنڈیشن نامی ادارے نے بنائی ہے اور اس کا مقصد عوام میں کتاب بینی کی شوق کو اجاگر کرنا ہے۔

گوہر زمان فاؤنڈین نے یہ لائبریری قریب ہی ایک نجی سکول کی تعاون سے بنائی تھی اور اسی سکول کے ہیڈ مسٹریس صائمہ حامد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ لائبریر ی بنانے کا واحد مقصد یہی ہے کہ لوگوں میں کتابیں پڑھنے کے شوق بڑھ جائے۔

انہوں نے بتایا ’جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کتاب بینی سے لوگ دور جارہے ہیں اور بچوں سمیت بڑوں کا بھی کتابوں کا شوق کم ہوتا جارہا ہے تو ہم نے لوگوں کی آسانی کے لیے یہ چھوٹی لائبریری قائم کی ہے اور اس میں تمام کتابیں لوگوں نے ہدیہ کی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صائمہ نے بتایا، ’یہاں کوئی بھی شخص ان کے پاس کتابیں ہدیہ کر سکتے ہے تاکہ لوگ ان کو پڑھیں اور اگر کوئی گھر کے کر جانا چاہتے ہیں تو وہ گھر میں لے جا سکتے ہیں اور واپسی کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ اگر کوئی کتاب رکھنا چاہتے ہیں تو بے شک رکھ بھی سکتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ لائبریری بننے کے بعد بہت آچھا فیڈ بیک آیا ہے اور اب تک ایک ہزار تک کتابیں لوگ لے کر جا چکے ہیں جبکہ بہت سے لوگوں نے کتابیں ہدیہ بھی کی ہیں۔

صائمہ کے مطابق یہ اوپن شیلف لائبریری ہے اور یہاں سے کتاب لے کر جانے کے لیے کسی قسم کے فارم بھرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ کتاب لے جانے کے لیے کوئی حد مقرر ہے کہ آپ کتنے دنوں کے لیے کتاب لے کر جا سکتے ہیں۔

صائمہ نے بتایا کہ بچوں نے بہت شوق دکھایا ہے اور بعض والدین نے مجھے یہ بھی بتایا ہے کہ ان کو اور بچوں کو کتابیں پڑھنے کا شوق تو ہے لیکن آج کل کتابیں بھی اتنی مہنگی ہے کہ وہ خرید بھی نہیں سکتے اور اسی مقصد کے لیے ہم نے یہاں مفت کتابیں قارئین کے لیے فراہم کی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا