اسی نیلامی میں ایک امیر تاجر کی گھڑی، جو جہاز ڈوبنے کے دوران مارا گیا تھا، ایک لاکھ 80 ہزار پاؤنڈ میں فروخت ہوئی۔
ریکارڈ توڑ فن پارے کے لیے پانچ پانچ تصاویر کے درمیان سخت مقابلہ ہوا جس کے بعد اسے کرسٹیز کے شعبہ جنوبی ایشیائی جدید اور ہم عصر فن، کے سربراہ نشاد آواری کے توسط سے نامعلوم ادارے نے خرید لیا۔