اس میں شک نہیں کہ عسکریت پسندی کی لہر کے تانے بانے سرحد پار تک جاتے ہیں، مگر کیا اس پیچیدہ بحران کا حل محض جذباتی نعروں یا فوری عسکری جوابی کارروائیوں میں ہے؟
التجا مفتی نے تسلیم کیا کہ کشمیر کی سیاست میں قدم رکھنا ایک مشکل کام ہے، لیکن ان کا عزم ہے کہ وہ عوام کی امیدوں پر پورا اتریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ بہت مشکل سفر ہے، لیکن میں اپنی پوری کوشش کروں گی۔ اس کے بعد اللہ بہتر جانتا ہے۔‘