روزنامہ صباح کے مطابق پانچ صوبوں میں خفیہ اداروں اور پولیس کی مشترکہ کارروائی کا ہدف ایک ایسا گروہ تھا جس پر حساس فوجی اور سکیورٹی معلومات اکٹھی کرنے کا الزام ہے۔
انقرہ
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’سرمایہ کاری کے لیے ترکی اور پاکستان کو تمام رکاوٹیں دور کردینی چاہییں۔‘