پاک ترک تجارت پانچ ارب ڈالرز تک پہنچانا ہدف ہے: وزیراعظم پاکستان

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’سرمایہ کاری کے لیے ترکی اور پاکستان کو تمام رکاوٹیں دور کردینی چاہییں۔‘

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف ترکی کے شپر انقرہ میں پاک ترک بزنس فورم کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں (تصویر: مسلم لیگ ن ٹوئٹر)

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ترکی اور پاکستان کے درمیان 1.1 ارب ڈالر کا دو طرفہ تجارتی حجم کافی نہیں ہے اور اسے آئندہ تین سالوں کے دوران پانچ ارب ڈالرز تک لانا ہدف ہے۔

ترکی کے شہر انقرہ میں پاک ترک بزنس فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی تاجر برادری بیٹھے اور بات کرے کہ کیسے اس تجارت کو آگے بڑھائیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’میں تو چاہتا ہوں کہ پانچ ارب ڈالرز کی باہمی تجارت کا ہدف آئندہ چھ ماہ میں حاصل ہوجائے لیکن اس کو عملی طور پر آئندہ تین سالوں کے دوران حاصل کرنے کے لیے کوششیں کریں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس ہدف کے حصول میں پاکستان کی جانب سے وہ جو کر سکے ضرور کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’زراعت، آئی ٹی، نئی الیکٹرک گاڑیاں، ڈیری فارمنگ اور دیگر شعبوں میں تعاون کے طریقے تلاش کریں۔‘

وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ ’ترک بھائی بہنوں کو پاکستان آنے میں ویزے کا مسئلہ حل ہونا چاہیے اور انہیں پاکستان کے ایئرپورٹ پر آمد کے موقع پر ویزہ سٹیمپ لگنی چاہیے۔‘

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ ’ترکی نے صدر اردوغان کی قیادت میں زبردست ترقی کی ہے۔‘

ان کے مطابق: ’ترکی نے پاکستان کے گرم و سرد میں بہت مدد کی ہے۔ سیلاب آیا تو ترک صدر اور خاتون اول نے پاکستان کا دورہ کیا اور عطیات دیے۔ ترکی نے مشرق وسطی، افریقہ اور دنیا بھر کے لیے عظیم منصوبے بنائے ہیں۔‘

شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بھائی چارے کے باوجود تجارتی تعلقات آگے نہیں بڑھ سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی لاہور میں بننے والی پہلی میٹرو کے لیے پورا ڈیزائن ترکی نے مفت میں پاکستان کو دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے دکھ ہوتا ہے کہ اس سب کے بدلے میں ہم نے اپنے ترک بھائیوں کو کیا دیا۔ ترکی کے بعض تاجروں کے ساتھ برے رویے پر مجھے شرمندگی ہے۔ سرمایہ کاری کے لیے ترکی اور پاکستان کو تمام رکاوٹیں دور کردینی چاہییں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ترک اور سعودی عرب کی کمپنیز نے پاکستان کو گرانٹ دینی تھیں لیکن ہم اس پر ٹیکس چارج کرنے کے لیے بیٹھے رہے لیکن اب ہم نے سب ٹھیک کر دیا ہے۔ میں یہاں سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کروں گا وہ ہم پاکستان میں کرتے رہتے ہیں لیکن اب یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ’سرمایہ کار میرے ماسٹرز‘ ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا