ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے بتایا کہ یہ تین رکنی پاکستانی وفد غیر سرکاری حیثیت میں افغانستان میں موجود ہے‘ اور یہ کہ ’وفد کے ارکان معزز ہیں۔‘
وزارت پیٹرولیم و خزانہ کے حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر مارچ کے آخر تک موجود ہیں۔