’قلندر،‘ پنجاب کی ثقافت کے رنگ

پنجاب کے دیہات کو بہت عرصہ بعد کسی ڈرامے نے اپنے لمس سے یوں مہکایا ہے کہ پی ٹی وی کے سنہرے دور کی یاد تازہ ہو گئی۔

بڑے شہر کیسے تہذیبی اعتبار سے آلودہ ہو جاتے ہیں، اس ڈرامے میں بخوبی دکھایا جا رہا ہے (جیو ٹی وی)

پنجاب اور لاہور کی ثقافت ڈراما ’قلندر‘ میں اپنی تمام جزئیات سمیت موجود ہیں۔ شیخوپورہ اور لاہور کے مناظر نے ڈرامے کو فطرت کے ہم رنگ کر دیا ہے۔

ہرن مینار پہ تھیم سونگ کی ریکاڈرنگ، اس میں پنجاب کا صوفیائی رنگ اوراس کے ساتھ ساتھ مولانا روم کے قونیہ کے رقص کو ملا کر بہت ہی علامتی روحانی سا تصور پیش کیا گیا ہے۔

روح کو بھی غذا کی ضرورت ہوتی ہے تو یہ ڈراما روح سے جڑے افراد کے لیے ہے جو سادہ سے ہوتے ہوئے بھی بہت خاص ہوتے ہیں۔

زمین کے ساتھ جڑا ہر شخص خاص ہو جاتا ہے۔ زمین اس میں اپنی طاقتیں بانٹ دیتی ہے۔ ’قلندر‘ بنیادی طور پہ ایک یتیم مسکین لڑکی درعدن کی کہانی ہے جس کو اس کے تایا جی نے اپنے بھائی بھابھی کی وفات کے بعد پالا ہے۔

درد نے اسے خدا سے ملا دیا ہے۔ گاؤں والوں کا خیال ہے کہ وہ جو دعا کرتی ہے، پوری ہو جاتی ہے اس لیے سب اسے دعا کروانے آتے ہیں۔ اس کی طبعت درویش صفت ہے۔ ہر حال میں شاکر رہتی ہے۔ اسے اپنی تائی امی کے نامناسب رویے سے بھی کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے، اور اپنی تقدیر سے بھی نہیں۔

پنجاب کی تہذیب میں یہ درویش روایات رچی بسی ہوئی ہیں۔ شاداب کھیتوں اور کھلے آسمانوں کے پلنے والے کھلے دل و دماغ کے مالک بن جاتے ہیں زمین اور آسمان کی طرح دینا ان کی فطرت بن جاتی ہے۔

در عدن کے ایک چچا لاہور شفٹ ہو جاتے ہیں وہاں ان کا ایک بیٹا استاد بن جاتا ہے۔ دوسرا ابھی یونیورسٹی میں پڑھ رہا ہے۔ جن گھرانوں میں پہلی بار تعلیم نے دستک دی ہو وہ اس کو سورج بخت سمجھ لیتے ہیں۔ ایسا ہی تبریز کے ساتھ ہو رہا ہے۔

وہ خود بھی سمجھ رہا ہے کہ سارے ملک کی گریڈ 22 کی کرسیاں اس کی منتظر ہیں اور اس کے والدین کا بھی یہی خیال ہے لیکن تجربہ ایک الگ ڈگری ہوتا ہے۔ کہانی کار ناظر کو اسے گزارنے جا رہا ہے۔

تبریز کے بڑے بھائی عرفی کو اپنی خالہ زاد سے محبت ہے اور خالہ زاد شفق بھی اسے پسند کرتی ہے لیکن اس کی ماں شفق کی شادی تبریز سے کرنا چاہتی ہے، عرفی تبریز کو شامل حال کر کے شفق سے منگنی کرنے میں تو کامیاب ہو جاتا ہے۔ لیکن ان کی بہن جوہی اس رشتے پہ راضی نہیں، بلکہ وہ تو دونوں بھائی کے رشتوں پہ راضی نہیں۔

اسے بھی اپنے والدین کی طرح دولت سے محبت ہے۔ یونیورسٹی میں ایک امیر باپ کی اکلوتی بیٹی تبریز پہ عاشق ہو جاتی ہے۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے چاہنے لگتا ہے کیونکہ وہ اس کے خواب پورے کرسکتی ہے۔ اس کے سارے خواب امیر ہونے کے ہیں، جب کہ اس کے بھائی کے خواب سکون اور شکر کے ہیں۔

مادیت کی چمک نے تبریز اس کے والدین اور بہن کی آنکھوں کے سامنے سے بھی زمین کی طاقت کو دھندلا رکھا ہوا ہے۔ انہیں دکھائی نہیں دے رہا کہ ایک طرف وہ درعدن سے اس کی شادی کر رہے ہیں دوسری طرف مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ شہر میں اس امیر لڑکی سے شادی کر لے۔

ڈرامے کا ہر سین دوسرے سین سے مالا کے موتی کی طرح جڑا ہوا ہے۔ مکالمے لاہور اور پنجاب کی دیہی تہذیب کے عین مطابق لکھے اور ادا کیے گئے ہیں۔

درعدن سے اس کی شادی ہو جاتی ہےاب کو شہر کی شہزادی کے گھر چلا گیا ہے۔ لاہور ایک جادو گر شہر ہے۔ پہلے تو آنے نہیں دیتا، آ جاؤ، تو جانے نہیں دیتا۔ اس بات کو بہت عمدگی سے دکھایا گیا ہے

تبریز اب لاہور کا عادی ہونے لگا ہے۔ اس کا دل شیخوپورہ میں نہیں لگتا اور بڑے شہر کی ان دیکھی چمک اس کے تایا کے گھر تک چلی جاتی ہے کہ اس کی تائی امی خواب دیکھنے لگتی ہے کہ تبریز کے داماد بننے کے بعد ان کی بیٹی کی شادی بھی لاہور میں کسی بڑے گھر میں ہو جائے گی۔

یہ نفسیات انسان کو تجربے کے بنا ایسے ہی آلودہ کر رہی ہے جیسے لاہور اس وقت فضائی اعتبار سے دنیا کا سب سے آلودہ شہر ہے۔ یہ کیسے آلودہ ہو رہا ہے یا بڑے شہر کیسے تہذیبی اعتبار سے آلودہ ہو جاتے ہیں، اس ڈرامے میں بخوبی دکھایا جا رہا ہے۔

عدن کے تایا چونکہ زمین سے جڑی ہوئی طاقت ور روح ہیں، ان کا من مندر گھنٹی بجا رہا ہے کہ کہیں کچھ نامناسب ہونے والا ہے۔

آپ دیکھتے رہیں، پالنے میں کہانی بتا رہی ہے کہ درعدن کی قلندر دعا نے پوری ہو کر تبریز اور اس کے گھر والوں کی زندگی میں ہلچل مچا دینی ہے، کیونکہ تبریز نے اسے کہا تھا میرے لیے دعا کرو کہ میں بہت امیر ہو جاؤں۔

قلندر صفت لوگ بد دعا نہیں دیتے، ان کی چپ نسلوں کو لگ جاتی ہے۔ قلندر صفت استعارہ ہے اس لیے برہم ہونے کی ضرورت نہیں۔ کبھی یہ صفت تھی اب یہ حیرت ہے۔ تعجب تو ہوتا ہے۔

درعدن میں یہ جو روحانی طاقت ہے یہ موروثی ہے۔ اس کے تایا چچا میں جو کرنیں ہیں جو ذہانت دکھائی گئی ہے وہ در عدن میں سورج بن چمک رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ناظر کو کہانی پہ اختلاف ہو سکتا ہے مگر صوفی منش کو نہیں ہو گا کیونکہ یہ کہانی شروع کی اقساط عام انسان کی کم خاص ذہنی و قلبی سطح والوں کی زیادہ ہے اور بہت طویل عرصہ کے بعد اس کو یوں پوری تہذیب کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔

بہن بھائیوں کے رشتے موجود ہیں جو ڈراموں سے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔  کزنوں کے چٹکلے زندگی کا احساس دلاتے ہیں۔ چچا، تایا، سب رشتے مل کر خاندان سے معاشرے کا عکس بنتا ہے۔

شہر آنے کے بعد لالچ کی بنیاد پہ تبریز نے جو نئی زندگی شروع کی ہے، دیکھیے کہ اس کی عزت نفس اس میں کیسے مجروح ہو رہی ہے۔ ابھی وہ صرف ٹرائل پہ ہے، کب شہزادی کے دل سے اتر جائے، نہیں معلوم کیونکہ لالچ کی قمیت اگر تبریز نے عزت نفس سے ادا کی ہے تو لڑکی کے باپ نے بھی یہ سب اس لیے قبول کیا ہے کہ ان کو وہ داماد چاہیے جو ان کی اکلوتی، لاڈلی، خود سر بیٹی کا غصہ بھی سہہ سکے اور کاروبار بھی سنبھال سکے۔

ہر کردار اپنی جگہ جچ رہا ہے اور کہانی میں جھول نہیں ہے۔  ایک سین دوسرے سین سے مالا کے موتی کی طرح جڑا ہوا ہے۔ مکالمے لاہور اور پنجاب کی دیہی تہذیب کے عین مطابق لکھے اور ادا کیے گئے ہیں۔ پنجاب کے دیہات کو بہت عرصہ بعد کسی ڈرامے نے اپنے لمس سے یوں مہکایا ہے کہ پی ٹی وی کے سنہرے دور کی یاد تازہ ہو گئی۔ ڈرامے کی تہذیبی زبان میں کہیں تو ’سواد آگیا بادشاہو!‘

ثمرہ بخاری مصنفہ ہیں اور صائمہ وسیم ڈائریکٹر ہیں۔ صابر ظفر نے گیت لکھا ہے اور راحت فتح علی خان کی آواز نے جادو جگایا ہے۔ بیک گراؤنڈ موسیقی بہت عمدہ ہے۔

یہ ڈراما سیونتھ سٹار کی تخلیق ہے اور جیو سے ہفتے اور اتوار کو نشر ہوتا ہے۔

یہ ڈراما دیکھتے ہوئے بےنظیر بھٹو کے لیے لکھی گئی حسن مجتبیٰ کی نظم یاد آ گئی:

وہ لڑکی لال قلندر تھی
وہ عورت تھی یا جادو تھی
وہ دکھی دیس کی کوئل تھی
وہ لڑکی لال قلندر تھی

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ