پی ٹی ایم رہنما محسن داوڑ، علی وزیر کی ضمانت منظور

محسن داوڑ اور علی وزیر پر مئی میں خڑ کمر میں پیش آنے والے واقعے کے بعد دہشت گردی، عوام کو اُکسانے اور دیگر مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔

پی ٹی ایم رہنما اور اراکینِ اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر (فوٹو: اے ایف پی)

پشاور ہائی کورٹ کے بنوں بینچ نے وزیرستان سے قومی اسمبلی کے گرفتار ارکان اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سرکردہ رہنما علی وزیر اور محسن داوڑ کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

محسن داوڑ اور علی وزیر کی وکلا ٹیم میں شامل طارق افغان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’عدالت نے دونوں اراکین کی درخواست ضمانت منظور کرلی اور ان کی رہائی کا تفصیلی حکم نامہ عدالت کی جانب سے آج جاری کیا جائے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محسن داوڑ اور علی وزیر پر دہشت گردی، عوام کو اُکسانے اور دیگر مختلف دفعات کے تحت اُس وقت مقدمات درج کیے گئے تھے، جب وزیرستان کے علاقے خڑ کمر میں، پاکستان فوج کے تعلقات عامہ کی پریس ریلیز کے مطابق، انہوں نے ایک آرمی چیک پوسٹ پر گروہ سمیت دھاوا بول دیا تھا۔ ان دونوں اراکین پر جون کے مہینے میں وزیرستان میں پاکستانی فوج کی گاڑی پر دھماکے کا بھی الزام ہے۔

 خڑ کمر کا واقعہ رواں سال مئی کی 26 تاریخ کو پیش آیا تھا، جس میں رپورٹس کے مطابق 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ خڑ کمر واقعے میں ہلاکتوں کا الزام پی ٹی ایم کی جانب سے ریاستی اداروں پر عائد کیا گیا تھا۔

طارق افغان کے مطابق دونوں اراکین کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکلین پر بے جا الزامات لگائے گئے ہیں جبکہ ایف آئی آر میں درج الزامات کو ثابت کرنے کے لیے حکومتی وکلا کے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ محسن داوڑ اور علی وزیر کی رہائی کب تک متوقع ہے تو انہوں نے بتایا کہ ابھی عدالت کے تفصیلی حکم نامے کا انتظار ہے، جس میں پوری تفصیل درج ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان