چین میں کمیونسٹ پارٹی کے 70 سالہ اقتدار کا راز کیا؟

کمیونسٹ پارٹی کے رہنما اور چینی صدر شی جن پنگ نے ملک کے قیام کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت چینی قوم کو نہیں ہلا سکتی۔

کمیونسٹ پارٹی کے رہنماؤں کے شانہ بشانہ کھڑے شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی طاقت نہیں ہے جو اس عظیم قوم کی اساس کو ہلا سکے۔ (اے ایف پی)

عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی 70 ویں سالگرہ کے حوالے سے آج وسیع پیمانے پر جشن منایا جا رہا ہے۔ سالگرہ کی مرکزی تقریب بیجنگ کے تاریخی تیانمان سکوائر میں منعقد کی گئی۔ اس موقع پر کمیونسٹ پارٹی کے رہنما اور چینی صدر شی جن پنگ نے اہم خطاب کیا جس کے بعد فوجی پریڈ اور عوامی پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔

اپنے خطاب میں صدر شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت چینی قوم کو نہیں ہلا سکتی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کمیونسٹ پارٹی کے رہنماؤں کے شانہ بشانہ کھڑے شی جن پنگ کا کہنا تھا: ’ایسی کوئی طاقت نہیں ہے جو اس عظیم قوم کی اساس کو ہلا سکے۔ ایسی کوئی طاقت نہیں جو چینی عوام اور چینی قوم کو آگے بڑھنے سے روک سکے۔‘

جہاں چین بھر میں سالگرہ کا عظیم الشان جشن منایا جا رہا ہے وہیں ہانگ کانگ اور جنوب مغربی صوبے سنکیانگ میں عوام کمیونسٹ پارٹی کی مطلق العنان طاقت سے خائف ہیں۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیسے ایک جماعت 70 سالوں سے اقتدار پر اپنی مضبوط گرفت نہ صرف قائم رکھے ہوئے ہے بلکہ کمیونسٹ پارٹی نے اس آمریت نما جمہوریت میں اپنی قوت میں بے مثال اضافہ  بھی کرلیا ہے۔  

اس کا جواب شاید یہ ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی نے سوویت یونین میں اپنے کامریڈز کے برعکس خود کو ایک بدلتی دنیا میں ڈھالتے ہوئے 70 سالوں سے اقتدار پر مستحکم کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔

کمیونسٹ پارٹی کا 70 سالہ اقتدار— تاریخ پر ایک نظر

عوامی جمہوریہ چین منگل کو اپنی 70 ویں سالگرہ منا رہا ہے، اس موقعے پر ہم تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں کہ کیسے یہ جماعت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی۔

تقریباً تین دہائیوں تک چین کا اپنا طرزِ حکمرانی تھا جیسے ’ماؤ ازم‘ کہتے ہیں۔

عوامی جمہوریہ کے بانی ماؤ زے تنگ کے دور میں حکومت نے صنعتوں پر قبضہ کیا اور کسانوں کو اجتماعی طور پر منظم کیا گیا۔

1958 میں ’گریٹ لیپ فارورڈ‘ دور کا آغاز ہوا جس میں زرعی اور صنعتی پیداوار بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے اور مزدوروں میں تحریک پیدا کی گئی تاہم اس کا اختتام قحط سے لاکھوں افراد کی ہلاکت پر ہوا۔

ماؤ نے 1966 میں ثقافتی انقلاب کا آغاز کیا جو اپنے سیاسی حریفوں کو زیر کرنے کی تحریک تھی۔ یہ تحریک بھی ایک مصیبت میں تبدیل ہو گئی اور نوجوانوں پر مشتمل ’ریڈ گارڈز‘ نے ملک بھر میں تباہی مچا دی۔

ماؤ کی موت کے دو سال بعد پارٹی نے ماؤ ازم ترک کر دیا اور 1978 میں عظیم قائد ڈینگ ژیاؤپنگ کی رہنمائی میں ’اصلاحات اور نئے آغاز‘ کی پالیسی کا اجرا کیا۔

مارکیٹ پالیسیوں کے ایک سلسلے کے بعد معیشت نے ترقی کی منازل طے کیں، جس سے ملک میں نجی سرمایہ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی ریل پیل ہو گئی۔

امریکہ کے ولیمز کالج میں چینی سیاست میں ماہر پروفیسر سیم کرین نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’کمیونسٹ پارٹی کی ایک خاص سوچ ہے، جس کے مطابق کسی بھی حکومت کی بقا معاشی کارکردگی پر منحصر ہوتی ہے اور معاشی کارکردگی کو عالمی معیشت کے ساتھ باہمی روابط کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

اس سوچ نے لاکھوں افراد کو غربت سے نکالا ہے جبکہ چین میں اب سینکڑوں ارب پتی موجود ہیں اور علی بابا اور ٹین سینٹ  جیسی دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں کے مالک چینی افراد ہیں۔

چین کے اس سوشلزم نظام کے تحت ملک میں معاشی انقلاب برپا ہو گیا جہاں اب بڑے شہروں کی سڑکوں پر فراری گاڑیاں فراٹے بھرتی نظر آتی ہیں اور چینی شہری گوچی جیسے لگژری سٹورز پر خریداری کر سکتے ہیں۔  

لیکن اس دوران ایک چیز نہیں بدلی اور وہ یہ کہ کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) نے کبھی معیشت کی لگام کو ڈھیلا نہیں چھوڑا۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق شی جن پنگ نے گذشتہ ہفتے اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ ملک کے تاریخی کارنامے پوری طرح سے ظاہر کرتے ہیں کہ صرف کمیونسٹ پارٹی ہی چین کی قیادت کرسکتی ہے۔ 

چین میں آج کمیونسٹ پارٹی کی جڑیں نجی کمپنیوں میں موجود ہیں اور سرکاری کمپنیاں آج بھی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہاں تک کہ علی بابا کے ارب پتی بانی جیک ما بھی کمیونسٹ پارٹی کے نو کروڑ چھ لاکھ ارکان میں سے ایک ہیں۔

اگر کارل مارکس آج زندہ ہوتے اور جدید چین کو دیکھتے تو ان کے کیا تاثرات ہوتے؟ کرین نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا: ’اگر مارکس آج زندہ ہو جائیں تو میرے خیال میں وہ کہیں گے کہ یہ ’سوشلسٹ‘ نہیں ہیں یعنی وہ ’کمیونزم‘ کے تاریخی راستے پر گامزن نہیں ہیں بلکہ انہوں نے اسے مضبوط آمرانہ عناصر کے ساتھ ایک ’سخت ریاستی سرمایہ دارانہ نظام‘ میں تبدیل کر لیا ہے۔‘

ماؤ کی موت کا مطلب ایک شخص کی حکمرانی کا خاتمہ تھا۔ ڈینگ نے 1997 میں ان کی موت کے بعد ’اجتماعی قیادت‘ اور ’منظم جانشینی‘ کے نظام کی حمایت کی۔ جیانگ زیمین نے دو بار صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور ان کے جانشین ہوجن تاؤ نے بھی اس نئی روایت کی تعمیل کی۔ لیکن موجودہ چینی صدر شی جن پنگ، ماؤ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سب سے طاقتور رہنما بننا چاہتے ہیں۔ 

’گریٹ ہیلسمین‘ کی طرح صدر شی نے بھی اپنی ذات اور شخصیت کی پذیرائی کے لیے سرکاری میڈیا کا خوب فائدہ اٹھایا ہے۔ ملک کے بانی کے پاس ’ماؤ زیڈونگ‘ سوچ تھی جبکہ موجودہ قیادت نے آئین میں چینی ساختہ سوشلزم کے ذریعے نئے دور کے لیے شی جن پنگ کی سوچ کو تحفظ فراہم کیا ہے۔

ماؤ کے پاس ’چھوٹی سی سرخ کتاب‘ تھی لیکن صدر شی کے پاس اس کا 21 ویں صدی کا ورژن ہے جو ایک موبائل ایپلیکیشن ’سٹڈی شی‘ کی صورت میں موجود ہے، جس میں ان کی تعلیمات موجود ہیں۔

صدر شی نے بدعنوانی کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تھا، جس کے تحت ان کی اپنی پارٹی کے 15 لاکھ سے زیادہ عہدیداروں کو سزا دی گئی ہے۔ عام شہریوں کے لیے یہ ایک مقبول اقدام ہے لیکن مبصرین کے خیال میں یہ حریفوں سے نمٹنے کی ایک چال تھی۔ ماہرین کے مطابق شی جن پنگ صدارتی مدت کی حد کو ختم کرکے تاحیات صدر بن سکتے ہیں۔ 

ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ معیشت کھولنے کو سیاسی اصلاحات کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: چین پر اویغور مسلمان خواتین کو بانجھ بنانے کا الزام

چین میں اس سال ایک اور سالگرہ منائی جائے گی تاہم کمیونسٹ پارٹی اس بات کو یقینی بنانا چاہے گی کہ اس کو یاد نہ کیا جائے، یہ تیانمان سکوائر پر جمہوریت نواز مظاہرین پر وحشیانہ جبر کی 30 ویں سالگرہ ہے۔

صدر شی جن پنگ کی حکومت نے معاشرے پر بھی اپنی گرفت سخت کردی ہے۔ ان کے طویل دورِ اقتدار میں سیاسی کارکنوں کو نظربند کیا گیا ہے، انٹرنیٹ پر سنسرشپ عائد ہے یہاں تک کہ نوبیل امن انعام یافتہ سیاسی مخالف لیو زیاؤبو کو اُس وقت بھی رہا نہیں کیا گیا جب وہ جیل میں کینسر سے مر رہے تھے۔

شہریوں کی نگرانی کے لیے حکام چہرے کی شناخت جیسی ٹیکنالوجی کا تیزی سے استعمال کر رہے ہیں۔

دوسری جانب سنکیانگ خطے میں مسلم اویغور نسلی گروہ نے بڑی مشکل سے یہ سیکھا ہے کہ حکومت کی مخالفت کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ وہاں دس لاکھ سے زیادہ افراد کو حراستی کیمپوں میں اس لیے رکھا گیا ہے تاکہ نام نہاد دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا