یہ 2613 سال پہلے کی بات ہے۔ بابل کے بادشاہ بخت نصر دوم (Nebuchadnezzar II) نے صرف بیت المقدس فتح ہی نہیں کیا، بلکہ وہ یہودیوں سے اتنا عاجز آیا ہوا تھا کہ اس نے یہودی تہذیب و تمدن کے حامل اس تاریخی شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، ہیکل سلیمانی کو نیست و نابود کر دیا۔ جو سر نہیں جھکا، وہ کاٹ دیا گیا۔ جو بھاگ گئے وہ بچ گئے، جو رہ گئے انہیں جنگی قیدی بنا کر بابل بھیج دیا گیا اور بیت المقدس کو آگ لگا دی گئی۔
بابل میں جلاوطنی کو یہودی ’ایام اسیری‘ کے نام سے آج بھی یاد کرتے ہیں اور اسے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا صدمہ قرار دیتے ہیں۔
بخت نصر 43 سال بابل کا حکمران رہا۔ اس کے دور میں جو مظالم ڈھائے گئے، ان کا تذکرہ آج بھی یہودی مائیں کر کے اپنے بچوں کو ڈراتی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی بخت نصر کا دیکھا ہوا ایک خواب یہودی صحیفوں کا ایک ایسا حصہ ہے جس سے جزوی طور پر صیہونیت نے جنم لیا، اور بہت سے یہودی سمجھتے ہیں کہ دنیا پر انہیں حکمرانی کے لیے چنا گیا ہے اور ایک دن ساری دنیا پر ان کا پرچم لہرائے گا۔
بخت نصر کون تھا اور اس کے دور میں یہودیوں پر کیا گزری، اور کیا دنیا آج بھی بخت نصر کے دور کے مظالم اور اس کے دیکھے ہوئے خواب کے اثرات کی زد میں ہے؟
بخت نصر کی یہودیوں سے دشمنی کی وجہ کیا تھی؟
بخت نصر بابل کا بادشاہ تھا، جو اپنے وقت کی عظیم سلطنتوں میں شمار ہوتی تھی، جس میں آج کے عراق، شام، فلسطین، اسرائیل، ترکی اور ایران کے کچھ حصے بھی شامل تھے۔ اس وسیع و عریض سلطنت کی باگ ڈور 605 قبل مسیح میں بخت نصر نے سنبھال لی۔ وہ 43 سال تک بابل کا تخت نشین رہا۔
اس زمانے میں بابل کے مد مقابل مشرق وسطیٰ میں اشوری سلطنت قائم تھی۔ سامی خاندان سے تعلق رکھنے والے اشوری قبائل کی اس سلطنت کے عروج کا زمانہ 900 قبل مسیح سے 600 قبل مسیح کے درمیان کا ہے۔ یہ لوگ بتوں کے پجاری تھے۔ ان کے سب سے بڑے بت کا نام اشور تھا، جس سے یہ اشوری مشہور ہوئے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس دور میں یہودیوں کی کوئی متحدہ ریاست نہیں تھی بلکہ یہ دو حصوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ایک شمالی ریاست موجودہ اسرائیل تھی، جس کا دارالحکومت سامریہ تھا، جبکہ جنوبی حصے کا نام یہودہ تھا، جس کا دارالحکومت یروشلم یا بیت المقدس تھا۔ 722 قبل مسیح میں اشوریوں نے سامریہ فتح کر لیا۔ اس زمانے کا چلن تھا کہ مفتوح قوموں کو جلاوطن کر دیا جاتا تھا تاکہ وہ دوبارہ متحد نہ ہو سکیں۔ اشوریوں کے خوف سے یہودی قبائل دنیا میں گم ہو گئے، جنہیں آج یہودیوں کے ’گم شدہ قبائل‘ کا نام دیا جاتا ہے، جبکہ یہودہ کی ریاست جس کا دارالحکومت یروشلم تھا، وہ اشوریوں کی باج گزار ریاست بن گئی۔
612 قبل مسیح میں اشوریوں کی سلطنت بابل کے بادشاہ بخت نصر کے باپ نے فتح کر لی۔ بخت اس فوج کا کمانڈر تھا۔ اس کے بعد یہودہ پہلے تو باج گزار ریاست کے طور پر موجود رہی، لیکن پھر انہوں نے سرکشی شروع کر دی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ بخت نصر کمزور ہو چکا ہے۔ 601 قبل مسیح میں بخت نصر کی مصر فتح کرنے کی مہم جوئی ناکام ہوئی، تو یہودہ کے حکمران یہویاقیم نے موقع غنیمت جانتے ہوئے بابل کے خلاف کھلی بغاوت کر دی، جس پر بخت نصر کو شدید غصہ آیا اور اس نے 597 قبل مسیح میں یروشلم کا محاصرہ کر لیا۔
اس دوران یہویاقیم کا انتقال ہو گیا اور اس کا کم عمر بیٹا یکنیا تخت پر بیٹھ گیا، مگر وہ بخت نصر کے آگے مزاحمت نہ کر سکا۔ بخت نصر نے یکنیا کو اس کے مصاحبین کے ساتھ بابل جلاوطن کر کے اس کے بھائی صدقیاہ کو حکمران مقرر کر دیا۔ پھر ایک وقت آیا جب صدقیاہ نے بھی بابل کو خراج کی ادائیگی بند کر دی، تو یہ گویا بخت نصر کے خلاف بغاوت تھی، جس سے غضبناک ہو کر وہ 589 قبل مسیح میں یروشلم پر چڑھ دوڑا۔
دو برس تک اس کی فوجوں نے یروشلم کا محاصرہ کیے رکھا، جو اتنا سخت تھا کہ شہر ویران ہونے لگا، لوگ نکل کر بھاگنے لگے۔ 587 قبل مسیح میں بخت نصر کی فوجیں یروشلم کی دیواریں توڑنے میں کامیاب ہو گئیں۔ صدقیاہ نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ فرار ہونے کی کوشش کی مگر اسے گرفتار کر کے پہلے بخت نصر کے سامنے پیش کیا گیا، جس نے صدقیاہ کے بیٹوں کو باپ کی آنکھوں کے سامنے پھانسی دے دی۔ پھر صدقیاہ کی آنکھیں نکال کر اسے زنجیروں میں جکڑ کر بابل لے جایا گیا۔
یہ لمحہ یہودہ کی حکمرانی کا اختتام اور داؤدی سلطنت کے چراغوں کے گل ہونے کا اعلان تھا۔ بابل کے سپہ سالار نبو زردان نے یروشلم کی تباہی کی قیادت کی۔ ہیکل سلیمانی کو آگ لگا کر زمین بوس کر دیا اور شہر کو آگ لگا دی گئی۔ راکھ صرف شہر ہی نہیں ہوا، یہودی تہذیب و تمدن بھی خاک ہو گئے۔ بخت نصر نے بچی کھچی آبادی پر اپنا گورنر لگایا، جسے بعد میں قتل کر دیا گیا۔ بخت نصر کے مزید انتقام کے ڈر سے بچے کھچے یہودی بھی یروشلم سے فرار ہو گئے۔ یہوداہ کی سلطنت ایک آزاد ریاست کے طور پر ختم ہو گئی اور بابل کی سلطنت میں یہود نامی صوبے کے طور پر شامل کر دی گئی۔
بخت نصر کا خواب جس کی تعبیر حضرت دانیال نے بتائی
ایک طرف بخت نصر کے وہ مظالم تھے جن کی تپش آج تک یہودی تاریخ میں محسوس کی جاتی ہے، دوسری جانب اس دوران جب یہودی بابل میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے، تو بخت نصر نے ایک خواب دیکھا۔ اس عجیب و غریب خواب کی تاویل کوئی کاہن نہیں بتا سکا۔ اس زمانے میں بابل میں یہودیوں کے نبی حضرت دانیال بھی موجود تھے، جو یروشلم سے قیدی بنا کر لائے گئے تھے۔
بائبل کے مطابق کسی نے بادشاہ سے کہا کہ دانیال اس کی تعبیر بتا سکتے ہیں۔ بخت نصر نے حضرت دانیال کو طلب کیا۔ خلاف معمول حضرت دانیال نے دربار میں بادشاہ کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ بخت نصر غصے میں آیا تو حضرت دانیال گویا ہوئے کہ ’مجھے جو علم عطا کیا گیا ہے، اگر میں غیر خدا کو سجدہ کروں گا تو یہ علم مجھ سے چھن جائے گا اور میں بادشاہ کے خواب کی تعبیر نہیں بتا سکوں گا۔‘ بخت نصر نے حضرت دانیال سے خواب کے بارے میں پوچھا تو پیغمبر خدا گویا ہوئے۔
’تو نے ایک بہت بڑا بت دیکھا ہے جس کی آنکھیں سونے کی، کمر چاندی کی، پشت تانبے کی، پنڈلیاں لوہے کی اور پیٹھ کی ہڈی مٹی کی بنی ہوئی تھی۔ جب تو نے غور سے دیکھا تو اس کی ساخت نے تجھے حیران کر دیا۔ اچانک آسمان سے ایک پتھر آ کر اس کے سر کے درمیانی حصے پر گرا جس سے وہ بت پاش پاش ہو گیا۔ سونا، چاندی اور مٹی باہم مل گئے۔ پھر تو نے دیکھا کہ وہ پتھر جو آسمان سے گرا، وہ اوپر اٹھنے لگا اور جیسے جیسے اوپر اٹھتا وہ بڑا ہوتا جاتا، یہاں تک کہ اس نے تمام زمین کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ پھر ایسا ہوا کہ تجھے زمین و آسمان اور اس پتھر کے علاوہ کچھ نظر نہ آتا تھا۔‘
بخت نصر نے کہا کہ بالکل درست، یہی خواب میں نے دیکھا ہے۔ اب اس کی تعبیر بھی ارشاد فرمائیے۔
حضرت دانیال گویا ہوئے، ’بت کی مختلف دھاتوں سے مراد مختلف اقوام ہیں۔ سونے سے مراد یہ زمانہ ہے جس کا تو حکمران ہے، چاندی سے مراد وہ زمانہ ہے جس میں تیرا بیٹا حکمران ہو گا۔ تانبے سے مراد روم ہے اور لوہے سے مراد فارس ہے اور مٹی سے مراد وہ دو امتیں ہیں جن کی بادشاہ عورتیں ہوں گی۔ ایک ان میں سے یمن کے مشرق میں اور دوسری شام کے مغرب میں ہو گی۔ اور جس پتھر کے ساتھ بت کو مارا گیا وہ اللہ کا دین ہے جو آخری زمانہ میں غالب آئے گا اور باطل کو مٹا دے گا۔‘
کہا جاتا ہے کہ بخت نصر اس خواب کی تعبیر کے بعد حضرت دانیال پر ایمان لے آیا تھا۔ یہ خواب بائبل کے عہد نامہ قدیم میں بھی بیان کیا گیا ہے۔
کیا دنیا آج بھی اس خواب کی قیمت چکا رہی ہے؟
آج کی دنیا بظاہر طاقت اور مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ اس میں مذہب کی حیثیت ایک ایسے عقیدے کی ہے جس کا جدید ریاست کے امور سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، مگر یہودی عقائد کو آج بھی ریاست اسرائیل کے پیچھے ایک اہم محرک سمجھا جاتا ہے۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے جو خواب دیکھا، اس کی تعبیر میں ایک ’الہی نظام‘ کی تشکیل بھی ہے جو دنیا کے آخری دور میں رونما ہو گی۔
بظاہر 1948 میں اسرائیل کا قیام ایک تاریخی موڑ تھا، مگر اس کے پیچھے صیہونی تحریک کا یہ خواب بھی ایک مضبوط عقیدے کے طور پر موجود ہے کیونکہ صیہونیت کے ماننے والوں کے نزدیک یہ صرف ایک ریاست نہیں بلکہ اللہ کے وعدے کی تکمیل ہے۔ امریکہ میں بعض مسیحی گروہ بھی اسی وعدے کی تکمیل کے لیے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں۔
یروشلم کی حیثیت کو بھی مذہبی پیش گوئیوں سے جوڑا جاتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے جاری تنازعات کو بھی اسی آخری زمانے کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دنیا صرف سیاسی و معاشی مفادات کے مطابق نہیں چلتی، بلکہ اس میں کہیں نہ کہیں ایسی مذہبی کہانیوں، عقائد اور خوابوں کی تعبیر کا بھی گہرا تعلق موجود ہے جو صدیوں سے چلی آ رہی ہیں۔