تھائی لینڈ میں پاکستانی ریستوران: ’ایسا لگتا ہے اپنے گلی محلے کے کھانے کھا رہے ہیں‘

تھائی لینڈ میں پاکستانی ریستوران نہ صرف ذائقے کی سفارت کاری کر رہے ہیں بلکہ پاکستان کی ثقافتی پہچان کو بھی دنیا بھر میں اجاگر کر رہے ہیں۔

تھائی لینڈ جیسے عالمی سیاحتی مرکز میں پاکستانی کھانوں نے نہ صرف مقامی آبادی کو متاثر کیا ہے بلکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کے ذائقے بھی اپنے سحر میں جکڑ لیے ہیں۔

یہ سفر 1990 کی دہائی میں اس وقت شروع ہوا جب عرب اور ایشیائی سیاحوں کی آمد میں اضافے کے ساتھ تھائی لینڈ میں حلال خوراک کی شدید کمی محسوس کی گئی۔ 

پاکستانی تارکین وطن نے اس خلا کو نہ صرف پُر کیا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ چھوٹے کھانوں کے مراکز کو بین الاقوامی معیار کے ریستورانوں میں تبدیل کرتے گئے۔ 

آج پاکستانی کھانا تھائی لینڈ کی سیاحتی شناخت کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔
 
37 سال سے تھائی لینڈ میں مقیم ملک شاہین یوسف اعوان نے چھ سال قبل ’لاہور ریسٹورنٹ‘ قائم کیا۔ 

وہ بتاتے ہیں کہ پاکستانی نام خود لوگوں کو اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔

’ہمارے ریستوران میں آنے والے پاکستانی مہمان ایک خاص سکون محسوس کرتے ہیں۔ 

’جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ مالک پاکستان سے ہے تو انہیں گھر جیسا ماحول ملتا ہے، جیسے وہ کسی پاکستانی گلی محلے کے ریستوران میں کھانا کھا رہے ہوں۔‘

تھائی لینڈ کے پاکستانی ریستورانوں میں چکن کڑاہی، مٹن کورمہ، بریانی، سیخ کباب اور دیگر روایتی پکوان خاص طور پر مقبول ہیں۔ 

یہ ڈشز نہ صرف پاکستانی سیاحوں بلکہ عرب، ایرانی اور دیگر مسلم ممالک سے آنے والے مہمانوں کی پہلی پسند ہوتی ہیں۔

35 سال سے ہوٹل و ریستوران کے کاروبار سے وابستہ عبدالغفار وارثی ’السنا‘ نامی پاکستانی ریستوران چلاتے ہیں۔ 

’ہم اپنے کھانے میں استعمال ہونے والے مصالحے براہ راست پاکستان سے منگواتے ہیں۔ پاکستانی باسمتی چاول کی خوشبو اور کوالٹی پوری دنیا میں مشہور ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’یہاں تک کہ گوشت بھی ہم پاکستانی گوشت کی دکانوں سے خریدتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ہمارے ذائقے سے واقعی لطف اندوز ہوتے ہیں۔‘

ان ریستورانوں میں زیادہ تر عملہ بھی پاکستانی ہوتا ہے، تاہم مقامی تھائی شہری بھی ان جگہوں پر کام کرتے ہیں۔ 

کھانے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان ریستورانوں میں پاکستانیوں کے ساتھ عرب ممالک، ایران اور دیگر خطوں کے سیاح بھی بڑی تعداد میں آتے ہیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے عمر سیاحت کی غرض سے کچھ دنوں سے بنکاک میں مقیم ہیں۔ 

وہ کہتے ہیں ’یہاں حلال خوراک ڈھونڈنا آسان نہیں، مگر پاکستانی ریستوران اس مشکل کو بہت حد تک حل کر دیتے ہیں۔ جب بھی پاکستانی کھانا کھاتا ہوں تو اجنبیت کم محسوس ہوتی ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے اپنے ہی شہر میں ہوں۔‘

تھائی لینڈ کے یہ پاکستانی ریستوران نہ صرف ذائقے کی سفارت کاری کر رہے ہیں بلکہ پاکستان کی ثقافتی پہچان کو بھی دنیا بھر میں اجاگر کر رہے ہیں۔ 

یہ وہ خاموش سفیر ہیں جو مصالحوں کی خوشبو اور گھر کے ذائقے کے ذریعے پاکستان کی شناخت کو بین الاقوامی سطح پر مضبوط بنا رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین