کشور کمار کی شہرت کے ’آٹھ دن‘

کسی بھی دوسرے گلوکار سے زیادہ آٹھ فلم فیئرایوارڈز بھی انہیں اندر سے ہرا نہ کر سکے۔ کشور بے چین، تنہا اور اجنبی تھے اور شہرت کی چکاچوند بلندیوں پر پہنچ کر بھی وہ تنہا اور اجنبی ہی رہے۔

اداکاری کے میدان میں کشور کمار ایک کے بعد ایک ناکامی سے دوچار ہوئے۔ بطور اداکار ان کی 1946 سے 1955 کے دوران 22 فلمیں آئیں، جن میں سے 16 فلمیں بری طرح پٹ گئیں۔

وہ کون سی فلم ہے جس میں نہ صرف عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو نے کردار ادا کیا، بلکہ اردو کے ایک اور اہم افسانہ نگار اوپندر ناتھ اشک اور شاعر راجہ مہدی علی خان نے بھی اداکاری کے جوہر دکھائے؟

صرف یہی نہیں، اس فلم نے بالی وڈ کو پہلی بار ایک ایسی پاٹ دار، کھنک دار اور رسیلی آواز سے روشناس کروایا جو آج بھی کروڑوں کانوں میں رس گھولتی ہے اور آج اسی مقناطیسی آواز کی مالک شخصیت کی 32ویں برسی ہے۔

اس فلم کا نام ’آٹھ دن‘ تھا اور یہ 1946 میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ اتنے بڑے ناموں کی وجہ سے فلم نے کھڑکی توڑ کاروبار کیا ہو گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپنے نام کی مناسبت سے یہ فلم صرف آٹھ دن ہی چل کر ڈبے میں بند ہو گئی، لیکن اس کا نام آج بھی زندہ ہے۔

میں نے اوپر جس رسیلی آواز کا ذکر کیا، وہ کشور کمار کی تھی، جنہوں نے پہلی بار اسی فلم میں سر بکھیرے۔ لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی، کشور کے علاوہ مینا کپور نے بھی اپنی آواز کا جادو جگایا۔ مینا تو 1959 میں عظیم موسیقار انیل بسواس سے شادی کر کے بیٹھ گئیں لیکن کشور تو ایک عہد کی آواز بن کے ابھرے اور امر ہو گئے۔

’آٹھ دن‘ کے موسیقار ایس ڈی برمن تھے۔ کشور کو محض تین مصرعے گانے کو ملے لیکن ایس ڈی برمن کے ساتھ یہ تین سطروں کا سفر تین دہائیوں تک پھیل گیا۔ 

1948میں ایک نوجوان دیو آنند کے لیے فلم ’ضدی‘ میں کشور نے جذبی کی مشہور غزل ’مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں‘ اور لتا کے ساتھ پہلا دو گانا ’یہ کون آیا رے‘ میں آواز کا جادو جگایا۔ اس فلم کے موسیقار کھیم چند پرکاش تھے۔ دیو آنند اور کشور کی یہ جوڑی بہت چلی، بلکہ ایک طویل عرصے تک کشور نے صرف اپنے لیے گایا یا دیو آنند کے لیے۔

1954 میں عہد ساز ہدایت کار بمل رائے نے فلم ’نوکری‘ کے مرکزی کردار کے لیے کشور کو چنا۔ سلل چوہدری موسیقار تھے۔ ایک دن کشور کو بھنک ملی کہ سلل چوہدری کشور کے لیے گلوکار ہیمنت کمار کی آواز استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

کشور بھاگم بھاگ موہن سٹوڈیو پہنچے اور سلل دا سے کہا، ’دادا، جب میں خود گاتا ہوں تو کسی دوسرے گلوگار کو منگوانے کی ضرورت کیا؟‘

سلل دا نے غور سے کشور کو دیکھتے ہوئے کہا، ’اچھا تم بھی گاتے ہو؟ میں نے تو کبھی تمہارا کوئی گیت نہیں سنا۔‘

کشور نے کہا، ’ہاتھ کنگن کو آرسی کیا، ابھی سن لیجیے،‘ اور فورا شروع ہوگئے۔

سلل چوہدری نے کہا، ’ارے بھئی، تمھیں تو موسیقی کی الف ب کا پتہ نہیں۔ چلو پھوٹو یہاں سے!‘

اب تو کشور کے پاؤں تلے سے زمین سرکنے لگی۔ وہ بھاگم بھاگ ہدایت کار بمل رائے کے پاس پہنچے اور اپنی بپتا بیان کی کہ ’مجھے تو اداکاری کا شوق نہیں، میں تو فلموں میں کام ہی اس لیے کرتا ہوں تاکہ اپنے گیت گا سکوں، اور سلل دا میرے لیے کسی اور کو گوا رہے ہیں۔‘

بمل دا نے کہا، ’میں اپنی فلم کے موسیقار کے کام میں ٹانگ نہیں اڑاتا۔ میرا موسیقار ہی فیصلہ کرتا ہے کہ میوزک روم میں کیا ہو گا۔‘

اب کشور نے ’ضدی‘ فلم کے ریکارڈ لیے اور دوبارہ سلل دا کے پاس جا پہنچے۔ کہا، ’ایک بار یہ بھی سن لیجیے۔‘

سلل دا نے کہا چلو سن لیتے ہیں اور بعد میں کہا، ’یہ تو کانوں پر بوجھ ہیں اور آواز بھی صاف نہیں۔‘ کشور نے گلا صاف کرتے ہوئے کہا، ’کوئی بات نہیں، میں ابھی خود گا کر سنا دیتا ہوں۔‘

قصہ مختصر کہ جب سلل چوہدری نے دیکھا کہ یہ تو پیچھے ہی پڑ گیا ہے اور کسی طرح سے جان چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تو طوعاً و کرہاً کشور کی آواز استعمال کر لی۔

دراصل کشور کے بڑے بھائی اشوک اس وقت کے سب سے بڑے سٹار تھے۔ اشوک کی خواہش تھی کہ چھوٹا بھائی اداکار بنے لیکن کشور کو اپنے چہرے سے زیادہ آواز پہ اعتبار تھا۔ اداکاری کے میدان میں کشور ایک کے بعد ایک ناکامی سے دوچار تھے۔ بطور اداکار ان کی 1946 سے 1955 کے دوران 22 فلمیں آئیں، جن میں سے 16 فلمیں بری طرح پٹ گئیں۔

1964 میں کشور نے ’دور گگن کی چھاؤں میں‘ نام سے ایک فلم بنانے کی ٹھانی۔ کہانی لکھی، مرکزی کردار ادا کیا، ڈائریکشن دی، موسیقی ترتیب دی اور ایک گیت بھی خود لکھا۔ بالی وڈ کی تاریخ میں ایسا ہرفن مولا اور کون ہو گا۔ یہ الگ بات کہ فلم باکس آفس پر منھ کے بل گری اور کشور کے خواب اس کے ملبے تلے سسکنے لگے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈپریشن اور اکتاہٹ زندگی میں در آئی۔ ایک طرف مدھوبالا سے شادی پر خاندان ناراض تھا اور دوسری طرف مدھوبالا کی بیماری اور گھریلو جھگڑے پریشانی کا سبب تھے۔ مسلسل ناکامی سے کشور کے دل میں تلخی پیدا ہونے لگی۔ لیکن انہیں ہر حال میں کامیاب گلوکار بننا تھا۔

ایس ڈی برمن کے علاوہ کوئی موسیقار کشور پر اعتماد کرنے کو تیار نہ تھا۔ حیرت ہے نوشاد نے اپنے پورے کیریئر میں کشور سے صرف ایک گیت گوایا اور وہ بھی بہت بعد 1974 میں، محض آشا کے ساتھ دوگانا، اور دوگانا بھی ایسا جو فلم میں شامل ہی نہ ہو سکا۔ اس وقت کی کامیاب ترین جوڑی شنکر جے کشن نے رفیع کے ساتھ 341 جبکہ کشور سے واجبی قسم کے 105 گیت ریکارڈ کروائے۔

اوپی نیر اور کشور کا کل اثاثہ 42 گیت ہیں جبکہ رفیع اور نیر کا ساتھ دو سو کا ہندسہ بھی عبور کر جاتا ہے۔ روشن اور رفیع کے 92 گیتوں کے مدمقابل کشور آٹھ تک محدود ہیں۔ ایسی صورت میں برمن دادا کے ساتھ چند گیتوں کی کامیابی کشور کا من کیسے شانت کرتی۔

23 سال مسلسل جدوجہد کے بعد ہر محاذ پہ ناکامی کشور کا منہ چڑا رہی تھی۔ لتا اور کشور، دونوں کا جنم ایک سال میں ہوا اور 20 سال بعد 1949 میں لتا برسات کے ساتھ ہی نمبر ون کے درجے پر جا پہنچیں۔ کشور کو اس مقام تک پہنچنے کے لیے مزید 20 برس کشت کاٹنا تھا۔ کامیابی ان کے لیے گنجلک خواب تھی جس کا کوئی سرا ہاتھ نہ آتا تھا۔

1969 بمبئی کی فلم نگری میں ’ارادھنا‘ کی وجہ سے یادگار ہوا۔ ’ارادھنا‘ میں دادا برمن کی موسیقی، راجیش کھنہ کی من موہنی ادائیں اور کشور کی آواز نے تاریخ رقم کی۔ خاص طور پر اس فلم کا بھڑکیلا گیت ’روپ ترا مستانہ، پیار مرا دیوانہ‘ تو ایسا ہِٹ ہوا کہ کشور کے دشمن بھی ٹھٹک کر سننے پر مجبور ہو گئے۔

ارادھنا کے بعد کشور نے کبھی پلٹ کر نہ دیکھا۔ کل تک وہ تمام پروڈیوسر اور موسیقار جو کشور پر طعنہ زن تھے، اب ان کا دم بھرنے لگے۔ ایک بھیڑ تھی جو کشور کی آواز کے لیے ان کی ہر شرط ماننے کو تیار تھی۔

کشور اپنے طویل سنگھرش کے دن نہ بھولے تھے۔ انہوں نے ان تمام لوگوں سے گن گن کر بدلے لیے جو ان کا مذاق اڑاتے رہے، ان پر آوازے کستے رہے تھے۔

ارادھنا کے بعد کشور 17 برس جیے۔ اس دوران محمد رفیع سمیت کوئی دوسرا گلوکار ان کے قریب نہ پھٹک سکا۔ لیکن یہ ساری فتوحات ان کے زخموں پر مرہم نہ بن سکیں۔ آخری دنوں میں تو وہ سب کچھ تیاگ کے واپس اپنے گاؤں کھنڈوا جانا چاہتے تھے۔ شاید ان کے دل و دماغ پر ناکامی کے زخم اتنے گہرے پڑے تھے کہ کوئی بھی کامیابی ان کا اندمال نہیں کر پائی۔

کشور کی شہرت ایک کھلنڈرے بےفکرے شخص کی ہے جسے ہر وقت ہنسی مذاق اور اچھل کود سے کام ہے۔ لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ کشور یہ حرکتیں دوسروں کو ہنسانے کے لیے نہیں، اپنے اندر کے مایوس انسان کو بہلانے کے لیے کیا کرتے تھے۔

کسی بھی دوسرے گلوکار سے زیادہ آٹھ فلم فیئر ایوارڈز بھی انہیں اندر سے ہرا نہ کر سکے۔ کشور بے چین، تنہا اور اجنبی تھے اور شہرت کی چکاچوند بلندیوں پر پہنچ کر بھی وہ تنہا اور اجنبی ہی رہے۔

اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ یہ گیت کیسے ڈوب کر گا پاتے: ’میرا جیون کورا کاغذ کورا ہی رہ گیا،‘ ’او ماجھی رے دریا کا دھارا،‘ ’زندگی کا سفر ہے یہ کیسا سفر،‘ ’بڑی سونی سونی ہے زندگی یہ زندگی،‘ ’میرے نیناں ساون بھادوں۔‘

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی