’بابُل مورا‘ کے ذریعے ماہا علی کاظمی کا عزم: کلاسیکی موسیقی کو نئی نسل تک زندہ رکھنا

**سب ٹائٹل: ’بابُل مورا‘ سمیت تین گانوں کے ذریعے ماہا علی کاظمی کا کلاسیکی موسیقی کو Gen Z تک پہنچانے کا عزم

ماہا علی کاظمی پاکستانی موسیقی اور کلاسیکی رقص کی دنیا میں ایک ابھرتا ہوا نام ہیں، جو پرانے گانوں کو نئے انداز میں پیش کر کے نئی نسل، خصوصاً جین زی، کو کلاسیکی موسیقی اور شاعری سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ نہ صرف ایک باصلاحیت گلوکارہ ہیں بلکہ کتھک کی نفیس روایت کی امین بھی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا: ’ہم پرانے گانوں کو نئے انداز میں اس لیے پیش کر رہے ہیں کہ جین زی بھی ماضی کی خوبصورت موسیقی اور شاعری کے ساتھ جُڑ سکے۔‘
سارہ سرحندی کے ساتھ ان کا اشتراک اور نواب واجد علی شاہ کی لازوال ٹھمری ’بابُل مورا‘ اسی سلسلے کی ایک اہم پیشکش ہے۔

حال ہی میں انہوں نے اپنے تین نئے گانے آن لائن ریلیز کیے، جو سننے والوں کے لیے ایک خوبصورت موسیقی کا تجربہ ثابت ہوئے۔ ان گانوں کی خاص بات صرف دھنیں یا شاعری نہیں بلکہ ان کے پیچھے موجود بین الاقوامی تخلیقی شراکت بھی ہے۔

یہ پراجیکٹ برطانیہ میں موسیقار سارہ سرحندی کے ساتھ مکمل کیا گیا، جہاں گلوکارہ کی سریلی آواز اور سارہ کے وائیولا (مغربی موسیقی کا ساز) کی مدھر لے ایک دوسرے میں گھل مل کر مشرقی اور مغربی موسیقی کا حسین امتزاج پیش کرتی ہیں۔

ان گانوں میں سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی پیشکش ’بابُل مورا‘ ہے، جو نواب واجد علی شاہ کی لکھی ہوئی ایک لازوال کلاسیکی تخلیق ہے۔ یہ گانا جدائی، ہجرت اور درد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کی پیشکش ان کے لیے ایک ذاتی اور جذباتی تجربہ بھی رہی، کیونکہ نواب واجد علی شاہ ان کے آباؤ اجداد میں شامل ہیں۔ یوں یہ کاوش ایک خاندانی اور ثقافتی ورثے کی تجدید بھی بن گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے اپنے نئے میوزک پراجیکٹس کے پس منظر، جذبات اور مقصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشوں کا اصل ہدف نئی نسل ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ آج کے نوجوان صرف جدید میوزک تک محدود نہ رہیں بلکہ کلاسیکی موسیقی اور شاعری کی خوبصورتی کو بھی سمجھیں، تاکہ یہ ورثہ وقت کے ساتھ فراموش نہ ہو بلکہ نئی نسل کے دلوں میں زندہ رہے۔

اسی وژن کے تحت ’بابُل مورا‘ کو جدید انداز میں پیش کیا گیا۔ یہ کلام 1856 میں اس دور میں لکھا گیا جب نواب واجد علی شاہ کو برطانوی حکومت نے لکھنؤ سے جلاوطن کر کے کلکتہ بھیجا تھا۔ اس ٹھمری میں جدائی کے احساس کو دلہن کی رخصتی کے استعارے میں بیان کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا: ’اس گانے سے میرا تعلق صرف فنی نہیں بلکہ ذاتی بھی ہے۔ اسی لیے اسے گانا میرے لیے اعزاز بھی تھا اور ایک بڑی ذمہ داری بھی، جسے میں نے پوری حساسیت کے ساتھ نبھانے کی کوشش کی۔‘

یہ تخلیقی اشتراک اس وقت شروع ہوا جب وہ لندن میں اپنی خالہ سے ملنے گئیں اور وہاں سارہ سرحندی سے ان کی پہلی بالمشافہ ملاقات ہوئی۔

اگرچہ دونوں اس سے قبل بھی مختلف پراجیکٹس میں ساتھ کام کر چکی تھیں، لیکن یہ ملاقات ایک نئے تخلیقی سفر کی بنیاد بنی۔ سارہ کی تجویز پر ’بابُل مورا‘ کو جدید انداز میں ریکارڈ کیا گیا، تاہم اس کی کلاسیکی روح برقرار رکھی گئی۔

اس پراجیکٹ میں آواز اور وائیولا مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ میوزک پروڈکشن اور ارینجمنٹ بھی سارہ نے انجام دی۔ برطانوی آرٹسٹ ڈیوڈ ٹوپ کی مکسنگ نے اسے عالمی معیار کا منفرد ساؤنڈ دیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس پراجیکٹ کے ساتھ ساتھ ایک اور گانا بھی ریلیز کیا گیا جو لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے تھا۔ یہ اس وقت جاری کیا گیا جب وہ پروڈیوسر حسن فینسی کے ساتھ ’چُرا لیا‘ کے ری میک پر کام کر رہی تھیں اور اسی دوران آشا بھوسلے کے انتقال کی خبر موصول ہوئی، جس نے اس گانے کو ایک نئی معنویت دے دی۔

اسی تسلسل میں ’میرا پیار‘ بھی حسن فینسی کے ساتھ جاری کیا گیا۔ یوں مختصر عرصے میں تینوں گانوں کی ریلیز ممکن ہوئی، جن میں ہر ایک روایت اور جدت کا الگ امتزاج پیش کرتا ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ موسیقی کسی سرحد کی پابند نہیں ہوتی بلکہ مختلف نسلوں اور ثقافتوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ ان کے بقول ان کا مقصد صرف گانے بنانا نہیں بلکہ کلاسیکی موسیقی اور شاعری کو نئی زندگی دینا ہے تاکہ یہ ورثہ آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکے۔

انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے اپنی ایک خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر موقع ملا تو وہ اداکارہ ماہرہ خان کے لیے پلے بیک سنگنگ کرنا چاہیں گی، کیونکہ وہ ان کی اداکاری اور اسکرین پر موجودگی کو بے حد سراہتی ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی