پاکستان افغان سرحد کی بندش کا ایک سال، کیا کھویا کیا پایا؟

ایک سال سے زائد عرصے سے جاری سرحدی بندش کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ آیا اس بندش سے خطے کے عوام کی فلاح و بہبود میں کوئی بہتری آئی ہے یا دہشت گردی کے خاتمے میں کوئی بامعنی اور پائیدار پیش رفت ہوئی ہے؟

23 فروری، 2023 کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان طورخم سرحد پر طورخم گیٹ بند ہے (اے ایف پی)

12 اکتوبر 2025 میں پاکستان افغانستان سرحد کی بندش کو ایک سال گزر چکا ہے۔ تعلقات تقریباً منجمد ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اس ایک سالہ بندش سے کیا حاصل ہوا؟

پاکستان کا بنیادی مقصد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کابل پر دباؤ ڈالنا تھا۔ بندش کے فوراً بعد نومبر اور دسمبر 2025ء میں کراس بارڈر حملوں میں کمی آئی۔ ایک تھنک ٹینک سی آر ایس ایس کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس نومبر میں تقریباً 9 فیصد اور دسمبر میں 17 فیصد تک حملوں میں کمی دیکھی گئی۔ سکیورٹی فورسز کو کچھ ریلیف ملا۔

تاہم یہ کمی عارضی ثابت ہوئی۔ 2026 کے دوران تشدد پھر بڑھ گیا۔ تیسری سہ ماہی میں تشدد میں اموات میں 83 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، خاص طور پر بلوچستان میں۔ ٹی ٹی پی اور اس کے اتحادی گروہ اب بھی سرگرم ہیں۔

پاکستان نے متعدد فضائی حملے کیے، لیکن افغانستان کی طرف سے ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی قابل تصدیق اور ٹھوس کارروائی سامنے نہیں آئی۔ تعلقات مزید خراب ہوئے اور دونوں طرف سے الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

اس بندش کے دوران نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت متاثر ہوئی بلکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ، ٹرانسپورٹ، کلیئرنگ ایجنٹس، گوداموں، بارڈر مارکیٹوں اور ہزاروں مزدوروں کا روزگار بھی شدید متاثر ہوا۔

اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2022-23 میں پاکستان کے راستے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت 102,886 کنٹینرز کی نقل و حرکت ہوئی، جن کی مالیت تقریباً 6.7 ارب ڈالر تھی لیکن مالی سال 2025-26 میں یہ تعداد کم ہو کر صرف 11,592 کنٹینرز رہ گئی، جن کی مالیت تقریباً 367 ملین ڈالر تھی یعنی مالی سال 2022-23 کے مقابلے میں کنٹینر ٹریفک میں تقریباً 89 فیصد کمی واقع ہوئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کمی کا رجحان سرحد بند ہونے سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔ مالی سال 2024 میں ٹرانزٹ کنٹینرز کی تعداد 54,114 جبکہ مالی سال 2025 میں 42,959 رہ گئی تھی، اس طرح 2025-26 میں 11,592 کنٹینرز کا حجم گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں بھی تقریباً 73 فیصد کم رہا۔

اکتوبر 2025 میں ٹرانزٹ ٹریڈ کی سرگرمیاں معطل ہونے کے وقت پاکستان افغانستان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت روزانہ ہزار سے زائد کنٹینرز کی نقل و حرکت معمول کا حصہ تھی، جو اچانک رک گئی۔ کراچی، پشاور، کوئٹہ اور سرحدی علاقوں میں بڑی تعداد میں کنٹینرز پھنس گئے جبکہ خراب ہونے والی اشیا کے حوالے سے بھی تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑا۔

فروری 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف طورخم کے راستے ماضی میں روزانہ تقریباً 500 سے 700 کارگو اور مسافر گاڑیاں گزرتی تھیں جو طویل بندش کی وجہ سے مفلوج ہوگئیں۔

تاجروں اور کاروباری تنظیموں کے مختلف تخمینوں میں نقصانات کی مختلف مالیت سامنے آئی ہے۔ ستمبر 2026 میں خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر یوسف آفریدی نے دعویٰ کیا کہ سرحد کی بندش سے مجموعی طور پر تقریباً 2.5 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، جس میں 1.644 ارب ڈالر برآمدات اور 817 ملین ڈالر درآمدات کا نقصان شامل ہے۔

اس سے قبل پاکستان افغانستان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) کے عہدیداروں نے بھی ٹرانزٹ سرگرمیوں میں کمی سے پاکستان کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ پیش کیا تھا۔

جون 2026 میں ایک اندازے کے مطابق صرف آٹھ ماہ کے دوران پاکستانی برآمد کنندگان کو تقریباً ایک ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم نقصانات کے یہ اعدادوشمار مختلف طریقہ کار اور مختلف ادوار کی بنیاد پر دیے گئے ہیں، اس لیے انہیں سرکاری طور پر تصدیق شدہ ایک ہی حتمی رقم نہیں سمجھا جا سکتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان افغانستان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق اکتوبر 2025 سے اپریل 2026 کے دوران تقریباً 10 ہزار ٹرانزٹ کنٹینرز پاکستان میں پھنسے رہے۔ رپورٹ کے مطابق افغان درآمد کنندگان کو فی کنٹینر اوسطاً تقریباً 120 ڈالر یومیہ جرمانہ، ڈیمریج اور ڈیٹینشن کی مد میں ادا کرنا پڑا، جس سے اضافی مالی بوجھ میں بھی اضافہ ہوا۔

پاکستان افغانستان سرحد کی طویل بندش نے افغانستان کو اپنے تجارتی راستے تبدیل کرنے پر بھی مجبور کیا۔ افغانستان نے ایران کی چابہار بندرگاہ سمیت وسطی ایشیا کے راستوں سے تجارت بڑھائی۔ روئٹرز کے مطابق 2025 میں افغانستان کی مجموعی تجارت تقریباً 13.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ ایران اور وسطی ایشیا کے راستوں کے استعمال میں اضافہ ہوا۔

ورلڈ بینک کے حوالے سے سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق ایران مالی سال 2025 میں افغانستان کی درآمدات کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا اور ایران سے براہ راست یا ٹرانزٹ راستوں کے ذریعے افغانستان کی درآمدات کا بڑا حصہ آنے لگا.

پاکستان کے لیے مسئلہ صرف افغان تجارت تک محدود نہیں رہا، افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک تک پاکستانی مصنوعات پہنچانے کا کاروبار بھی متاثر ہوا۔ اس راستے سے پاکستان کو ٹرانسپورٹ اور متعلقہ خدمات کی مد میں سالانہ کروڑوں ڈالر حاصل ہوتے تھے جبکہ طویل بندش کے باعث یہ آمدنی بھی متاثر ہوئی۔

اسی طرح ٹرک ڈرائیور، کنڈیکٹر، لوڈر، کلیئرنگ ایجنٹس، گوداموں کے ملازمین، کسٹمز سے منسلک کاروبار اور بارڈر مارکیٹوں کے چھوٹے تاجر بھی اس بحران سے متاثر ہوئے۔

دوسری جانب افغانستان سے پاکستان اور دیگر ممالک کو جانے والی برآمدات بھی متاثر ہوئیں، جبکہ پاکستان کے راستے افغان مصنوعات کی ریورس ٹرانزٹ ٹریڈ میں بھی غیر معمولی کمی آئی۔ مالی سال 2025 میں ریورس ٹرانزٹ کی مالیت تقریباً 454 ملین ڈالر تھی جو مالی سال 2026 میں گھٹ کر صرف 7 ملین ڈالر رہ گئی۔

تقریباً ایک سال کی اس بندش نے پاکستان افغانستان تجارت کے روایتی راستے کو تبدیل کر دیا ہے۔ 102,886 کنٹینرز سے 11,592 کنٹینرز تک آنے والی ٹرانزٹ ٹریفک، اربوں ڈالر کے تجارتی نقصانات، ہزاروں پھنسے ہوئے کنٹینرز اور متبادل تجارتی راستوں کی طرف افغانستان کی منتقلی یہ ظاہر کرتی ہے کہ سرحدی بندش کا اثر صرف بارڈر پر موجود ٹرکوں تک محدود نہیں رہا۔ اس کے اثرات کراچی کی بندرگاہوں سے لے کر پشاور، خیبر، چمن، افغانستان اور وسطی ایشیا تک پورے تجارتی و ٹرانسپورٹ نیٹ ورک پر پڑے ہیں۔

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت دوبارہ سابقہ سطح پر آ سکے گی، یا ایک سال کی بندش کے دوران پیدا ہونے والے متبادل تجارتی راستے مستقل طور پر پاکستان کے روایتی ٹرانزٹ کردار کو کم کر دیں گے؟

پاکستان افغانستان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دونوں جانب کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صرف سرحدیں دوبارہ کھول دینا کافی نہیں، کاروباری برادری کا اعتماد بحال کرنا بھی ضروری ہوگا۔ پاکستان افغانستان ٹرانزٹ معاہدے کا ازسرنو جائزہ لے کر ایسا قانونی طور پر پابند فریم ورک بنایا جائے جس میں سیاسی اختلافات کی صورت میں تجارت اور ٹرانزٹ معطل نہ کرنے کی ضمانت شامل ہو اور اس میں دونوں جانب کے سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی راستوں اور سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے افغانستان کو پاکستان کے مقابلے میں زیادہ معاشی نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت اور ٹرانزٹ کا جاری رہنا دونوں ممالک کے لیے اہم ہے، تاہم اسلام آباد نے سکیورٹی خدشات کے باعث سرحدی آمدورفت پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی ایک رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 کے بعد سرحدی بندش کے باعث پاکستان کی برآمدات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی۔ دوسری طرف عالمی بینک کے اعداد و شمار کی بنیاد پر سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق افغانستان نے پاکستان کے بجائے ایران اور وسطی ایشیا کے ذریعے متبادل تجارتی راستے اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم طویل فاصلے اور زیادہ ٹرانسپورٹ اخراجات کی وجہ سے یہ متبادل راستے افغان تاجروں کے لیے اضافی معاشی دباؤ کا باعث بن رہے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایسا قابل تصدیق سکیورٹی میکنزم ہونا چاہیے جس سے ذمہ داریاں واضح، نگرانی کا مؤثر نظام موجود اور خلاف ورزیوں کی صورت میں کارروائی کا طریقہ کار متعین ہو۔

صرف سرحدیں بند کرنا نہیں بلکہ ایسا نظام تشکیل دینا چاہیے جس سے سکیورٹی مضبوط ہو، دہشت گردی کا مؤثر انسداد کیا جائے، جائز تجارت جاری رہے، کاروبار اور روزگار محفوظ رہیں اور پاکستان، افغانستان عالمی و وسطی ایشیائی منڈیوں کے لیے مؤثر ترین تجارتی ’گیٹ وے‘ کی حیثیت برقرار رکھے۔

ایک سال سے زائد عرصے سے جاری سرحدی بندش کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اس بندش سے آیا خطے کے عوام کی فلاح و بہبود میں کوئی بہتری آئی ہے یا دہشت گردی کے خاتمے میں کوئی بامعنی اور پائیدار پیش رفت ہوئی ہے؟ اس پالیسی سے سکیورٹی مسئلے کا فیصلہ کن حل تو سامنے نہیں آیا، تاہم تجارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

مصنف پشاور میں مقیم سینیئر کاروباری شخصیت ہیں اور ستارہ امتیاز کے حامل ہیں۔ یہ تحریر ان کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی