خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے پشاور میں رہائش پذیر کچھ دوست اکٹھے ہوئے اور انہوں نے ’سیوی بائیک کلب‘کے نام سے ایک کلب کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد پشاور میں امن کا پیغام اور پاکستان کی خوبصورتی دکھانا ہے۔
ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے سردار جو فٹنس ٹرینر ہیں اور پشاور میں فٹنس کلب بھی چلاتے ہیں، اس بائیک کلب کے بانی ہیں، جس میں 20 سے 25 دیگر بائیکرز بھی شامل ہیں۔
سردار علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ پشاور کی سڑکوں پر ایک ساتھ بائیک رائڈنگ کرتے ہیں اور دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ پشاور میں امن ہے اور خوف کی فضا کو ختم کرنا چاہیے۔
سردار علی نے بتایا: ’آج کل کے نوجوان نشے کے عادی بنتے جا رہے ہیں جبکہ معاشرے میں مختلف قسم کی برائیاں پروان چڑھ رہی ہیں۔ ہمارے بائیک کلب کا مقصد یہ بھی ہے کہ ہم ایسی غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں، جس سے شوق بھی پورا ہو سکے اور معاشرے میں ایک بہتر پیغام بھی جا سکے۔ ‘
انہوں نے بتایا کہ ان کے کلب میں بزنس مین، ڈاکٹرز، طلبہ اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں، جو اپنا فارغ وقت اس سرگرمی میں گزارتے ہیں۔
سردار علی کے مطابق: ’ہر جمعے کو ہم بائیک پر خیبر پختونخوا کے مختلف سیاحتی مقامات کا دورہ کرتے ہیں اور اس کی خوبصورتی لوگوں کو دکھاتے ہیں، جس سے ہم ریفریش بھی ہو جاتے ہیں اور ایک مثبت پیغام بھی دنیا کو جاتا ہے کہ اس صوبے میں امن ہے۔ ‘
کیا یہ مہنگا شوق ہے؟
جواد خان اسی کلب کے ایک دوسرے رکن ہیں اور سیکنڈ ایئر کے طالب علم ہیں۔ ان کے مطابق یہ اتنا مہنگا شوق بھی نہیں ہے کہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے افراد اسے برداشت نہ کر سکیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ ہیوی بائیک کی قیمت آٹھ سے 15 لاکھ کے درمیان ہے جبکہ ماہانہ مینٹیننس کا خرچہ زیادہ ضرور ہے جس پر 30 سے 40 ہزار روپے لگتے ہیں۔
جواد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’اگر نوجوان نشہ آور اشیا یا دیگر غلط سرگرمیوں پر پیسے لگاتے ہیں تو میرے خیال میں وہ اخراجات اس قسم کی مثبت سرگرمیوں اور شوق پر لگانے چاہییں۔ ‘
انہوں نے بتایا کہ مجھے بچپن سے موٹرسائیکل چلانے کا شوق تھا، یہی وجہ ہے کہ آج میں اس کلب کا ممبر ہوں اور اسے ایک مثبت مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہوں۔
سردار علی نے بتایا کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم صرف یہی بائیک چلاتے ہیں بلکہ اس کلب کے سارے ممبر اپنے اپنے شعبوں میں کام کرتے ہیں اور اپنے فارغ وقت میں بائیک کلب کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔