شاہ فہد ایئرپورٹ، آئل تنصیب پر حملوں میں تین اموات، پاکستانی سمیت 10 زخمی: سعودی حکام

حوثیوں کی جانب سے مسلسل حملوں کے پیش نظر امریکہ نے اپنے سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ 

3 اکتوبر، 2026 کو ریاض کے جنوب میں سعودی کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب میں آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں (اے ایف پی)

سعودی حکام نے بتایا ہے کہ بدھ کو سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں ایک ایئرپورٹ اور تیل کی تنصیب پر الگ الگ حملوں کے نتیجے میں تین افراد جان سے چلے گئے جبکہ ایک پاکستانی سمیت 10 افراد زخمی بھی ہوئے۔

حالیہ دنوں میں یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کو متعدد حملوں کا نشانہ بنایا ہے، جن میں خاص طور پر ایئرپورٹس، شہری اور آئل تنصیبات شامل ہیں۔ ان میں ریاض کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر ہونے والا حملہ بھی شامل ہے جو کئی سال کے دوران مملکت کا سب سے زیادہ جان لیوا حملہ تھا۔

اس صورت حال میں امریکہ نے اپنے سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ 

سعودی وزارت توانائی نے بدھ کو ایکس پر بتایا کہ آرامکو کی شیبہ آئل فیلڈ میں ایک پروسیسنگ تنصیب کو نشانہ بنانے والے ڈرون کو کامیابی سے مار گرانے کے بعد گرنے والے ملبے سے دو افراد کی جان گئی اور دو زخمی ہو گئے۔

وزارت توانائی کے مطابق جان سے جانے والوں کا تعلق فلپائن اور نیپال سے ہے جبکہ زخمیوں میں ایک پاکستانی اور ایک انڈین شہری شامل ہے۔

وزارت توانائی نے بتایا کہ واقعے کے نتیجے میں آئل فیلڈ میں کام کرنے والے ایک کنٹریکٹر کی گاڑی میں آگ لگ گئی، جو تنصیب کے احاطے سے باہر تھی۔ مزید بتایا گیا کہ اس سے آپریشنز متاثر نہیں ہوئے۔

جبکہ سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے جمعرات کی صبح بتایا کہ بدھ کو دمام کے شاہ فہد ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں ایک شخص جان سے گیا اور دیگر آٹھ زخمی ہو گئے۔

یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم فوجی اتحاد نے جمعرات کی صبح بتایا کہ سعودی عرب کے مشرقی صوبے کی فضا میں چار ڈرون مار گرائے گئے۔

اتحاد نے بتایا کہ بدھ کو مملکت کی جانب داغے گئے سات ڈرون روکے گئے، جن میں مدینہ کا وہ علاقہ بھی شامل ہے، جہاں مسجد نبوی واقع ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر پوسٹ میں بتایا کہ ’مملکت کی جانب داغے گئے چار ڈرون روک کر تباہ کر دیے گئے ہیں۔‘

 انہوں نے ایک دوسری پوسٹ میں مزید کہا کہ ڈرون روکنے کی یہ کارروائیاں سعودی عرب کے مشرقی صوبے اور مدینہ میں کی گئیں۔

انہوں نے بعدازاں بتایا کہ مشرقی صوبے میں ہی ایک اور ڈرون بھی روکا گیا۔

اتحاد نے اعلان کیا کہ بدھ کی شام حوثیوں کی جانب سے جنوبی علاقے کی طرف داغا گیا چھٹا ڈرون اور مشرقی صوبے کی طرف داغا گیا ساتواں ڈرون روک لیا گیا۔

امریکیوں کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم

امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کو بتایا کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے مسلسل جان لیوا حملوں کے پیش نظر امریکہ نے امریکی سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ 

محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے اس اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ’ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف جارحانہ کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے، جن میں شہری ہوائی اڈوں اور دیگر اہم تنصیبات پر حملے شامل ہیں جن کے نتیجے میں عام شہریوں کا جانی نقصان ہوا ہے اور سفری نظام میں شدید خلل پڑا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’محکمے کے اہلکاروں اور ان کے اہلخانہ کی حفاظت اور سکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے۔‘

مشرق وسطیٰ میں ایک سفارتی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات، اردن، قطر اور بحرین سے بھی امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں کے کچھ اہل خانہ کو واپس بلایا جا رہا ہے، لیکن ترجمان ٹومی پگوٹ نے اس بات پر زور دیا کہ بدھ کا حکم صرف سعودی عرب میں سفارت خانے کے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہل خانہ کی روانگی کے لیے ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا