ہم معاہدے پر قائم ہیں، دوسرا فریق بھی وعدوں کا احترام کرے: طالبان

طالبان رہنما ہیبت اللہ اخونزادہ نے ایک غیر معمولی بیان میں امریکی عہدیداروں پر زور دیا ہے وہ کسی کو بھی معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے، تاخیری حربے استعمال کرنے اور بالآخر اس کے خاتمے کا موقع فراہم نہ کریں۔

کئی ماہ کی بات چیت کے بعد طالبان اور امریکہ نے 29 فروری کو ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے(اے ایف پی)

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں حملوں کے الزامات کے باوجود امریکہ کے ساتھ طے پائے گئے تاریخی معاہدے پر قائم ہیں۔

بدھ کو ایک غیر معمولی پیغام میں طالبان رہنما ہیبت اللہ اخونزادہ نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے، جس کے ذریعے امریکہ کو اپنی طویل ترین جنگ ختم کرنے کا موقع مل سکتا ہے، کو ضائع نہ کرے۔

اخونزادہ نے بیان میں مزید کہا کہ ’امارت اسلامیہ معاہدے کو قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور دوسرے فریق کو بھی اپنے وعدوں کا احترام کرنے اور اس اہم موقع کو ضائع نہ کرنے کی تاکید کرتی ہے۔‘

طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ ’میں امریکی عہدیداروں پر زور دیتا ہوں کہ وہ کسی کو بھی اس بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ باہمی معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے، تاخیری حربے استعمال کرنے اور بالآخر اس کے خاتمے کا موقع فراہم نہ کریں۔‘

کئی ماہ کی بات چیت کے بعد طالبان اور امریکہ نے 29 فروری کو ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت واشنگٹن سکیورٹی گارنٹیوں کے عوض اگلے سال تک افغانستان سے اپنی تمام فوجیں نکال لے گا۔

اس معاہدے کے تحت طالبان نے افغان شہروں اور غیر ملکی فوجیوں پر حملہ روکنے کا وعدہ کیا تھا تاہم انہوں نے کئی صوبوں میں افغان فورسز کو نشانہ بنانا جاری رکھا ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فروری میں ہونے والے اس دو طرفہ معاہدے سے افغان حکومت کو باہر رکھا گیا جس سے طالبان مضبوط ہوگئے ہیں اور اس معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد سے اب تک عسکریت پسندوں کے 3،800 سے زیادہ حملوں میں 420 شہری ہلاک اور 906 زخمی ہو چکے ہیں۔

افغانستان میں امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ 'طالبان نے اتحادی فوج پر حملہ نہ کرنے کے اپنے معاہدے پر عمل کیا ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زلمے خلیل زاد کا یہ بیان کابل کے ایک زچگی ہسپتال پر بہیمانہ حملے اور ایک جنازے کے دوران خود کش دھماکے کے بعد سامنے آیا ہے۔ 

اگرچہ طالبان نے ان حملوں میں کسی بھی طرح کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے تاہم افغان صدر اشرف غنی نے اس خونریزی کے لیے طالبان اور داعش دونوں کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔

صدر غنی کے الزام کے جواب میں خلیل زاد نے طالبان کے بارے میں کہا: انہوں (طالبان) نے 34 بڑے شہروں میں حملے نہ کرنے کا عہد کیا ہے اور ہمارے اندازے کی بنیاد پر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ وہ اس معاہدے کی روح کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ہسپتال پر حملہ داعش نے کیا تھا۔'

حالیہ تشدد کی لہر کے بعد افغان حکومت نے سکیورٹی فورسز کو عسکریت پسندوں کے خلاف جارحانہ اقدام اٹھانے کا حکم دیا ہے۔

طالبان نے اس حکم کا جواب افغان سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں اضافہ کر کے دیا ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ فروری کے معاہدے پر دستخط کے بعد سے تشدد کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا