امریکہ: سوشل میڈیا کمپنیوں کو حاصل قانونی تحفظات ختم کرنے کا منصوبہ

ٹوئٹر کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی انتخابات میں پوسٹل بیلٹ کے بارے میں دو ٹویٹس پر فیکٹ چیک کے لیبل لگائے جانے کے بعد صدر نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو حاصل تحفظات کو ختم کرنے لیے حکم نامے پر دستخط کر دیے۔

اول آفس میں ایگزیکٹیوآرڈر پر دستخط  کرنے سے پہلے صدر ٹرمپ (اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے جمعرات کو اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایک حکم نامے پر دستخط کردیے ہیں جس کے تحت ٹوئٹر جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کو اُن کے مواد پر حاصل قانونی تحفظات ختم ہو جائیں گا۔

صدر کے ناقدین نے اُن کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام کی بھونڈی کارروائی قرار دیا ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر کے ایگزیکیٹو آرڈر میں حکومتی اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس امر کا جائزہ لیں کہ آیا آن لائن پلیٹ فارموں کو اُس مواد کے معاملے میں ذمہ داری سے مستثنیٰ ہونا چاہیے جو اُن کے لاکھوں صارفین پوسٹ کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بدھ کو ٹوئٹر نے امریکہ میں پوسٹل بیلٹ سے متعلق صدر ٹرمپ کی دو ٹویٹس پر فیکٹ چیک کا لیبل لگا دیا گیا تھا۔

 

صدارتی حکم پر عمل درآمد کی صورت میں دہائیوں سے جاری مثال ختم  ہو جائے گی اور انٹرنیٹ پلیٹ فارموں کو'اشاعتی اداروں'کے طور پر لیا جائے گا جو ممکنہ طور پر صارفین کے مواد کے ذمہ دار ہوں گے۔

صدر ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں رپورٹروں کو بتایا ہے کہ انہوں نے ایسا اس لیے کیا چونکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے پاس صارفین کے درمیان انفرادی یا اجتماعی سطح پر ہونے والے کسی بھی طرح کی مواصلات کو سینسر، محدود، ایڈٹ کرنے، اُن کی شکل تبدیل کرنے، انہیں چھپانے اور تبدیل کرنے کے وسیع اختیارات ہیں۔ انہوں نے کہا ہم مزید ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

امریکی صدر نے یہ حکم نامہ ایک دن قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر غصے کا اظہار کرنے کے بعد جاری کیا ہے۔

ٹوئٹر نے پہلی بار صدر ٹرمپ کی دو ٹویٹس کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے اُن پر حقائق کا جائزہ لینے کی ضرورت کے لیبل لگا دیے تھے۔ 

ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان حالات میں ٹوئٹر غیرجانب دار عوامی پلیٹ فارم نہیں رہا اور ایک ایسا ایڈیٹر بن گیا ہے جس کا اپنا نکتہ نظر ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کے بارے میں بھی ایسا ہی کہا جا سکتا ہے چاہے وہ گوگل ہو یا فیس بک ہو۔

ناقدین نے کہا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ کے پاس نجی انٹرنیٹ آپریٹروں کو کنٹرول کرنے یا اُس قانون میں تبدیلی کا کوئی اختیار نہیں ہے جسے سیکشن 230 کے طورپر جانا چاہتا ہے۔ اس قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کے تحت فیس اور ٹوئٹر جیسا آن لائن پلیٹ فارموں کو ترقی کرنے کی اجازت ہے۔

امریکی سول لبرٹیز یونین نے صدر ٹرمپ کے حکم کوایسی سوشل میڈیا کمپنیوں کو سزا دینے کی کھلی اور غیرآئینی دھمکی قرار دیا جن سے صدر ناراض ہیں۔

سانتاکلارا یونیورسٹی میں ہائی ٹیک لا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ایرک گولڈمین نے کہا ہے کہ صدارتی حکم نامہ قانون میں تبدیلی سے زیادہ سیاسی دھمکی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا