فیس بک کا لاکھوں صارفین کے پاسورڈ سادہ ٹیکسٹ فائل میں جمع رکھنے کا اعتراف

ہزاروں ملازمین کو فیس بک اور انسٹاگرام کے لاکھوں صارفین کے اکاؤنٹس تک سالوں تک آسان رسائی حاصل تھی، کمپنی کا اعتراف

فائل تصویر: روئٹر ز 

پہلے سے ہی صارفین کی پرائیوسی غیرمحفوظ ہونے اور ڈیٹا لیک ہونے جیسے مسائل میں گھِرے فیس بک نے اب ایک اور پریشان کن انکشاف کیا ہے کہ سالوں تک اس نے لاکھوں صارفین کے پاس ورڈ سادہ ٹیکسٹ فائلوں میں جمع کیے رکھے۔  

فیس بک کی یہ غلطی ایک بلاگ پوسٹ میں سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ کیسے لاکھوں پاسورڈز کو ایسی فائلوں میں جمع رکھا گیا جو پڑھی جاسکتی تھیں۔   

فیس بک بلاگ  میں سوشل میڈیا ویب سائٹ کے انجینئرنگ، سکیورٹی اور پرائیوسی کے نائب صدر پیڈرو کاناہوتی نے کہا کہ فیس بک کے ملازمین کے لیے پاسورڈز تک رسائی آسان تھی، جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ ہزاروں صارفین کے ذاتی اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرسکتے تھے۔

تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ کسی نے ان پاسورڈز کا غلط استعمال کرتے ہوئے صارفین کے اکاؤنٹس کا نامناسب استعمال کیا۔

پیڈرو کاناہوتی نے لکھا، ’ہمارے اندازے کے مطابق ہم لاکھوں فیس بک اور ہزاروں انسٹاگرام صارفین کو اس حوالے سے مطلع کریں گے۔‘  

انہوں نے مزید کہا، ’ہمارے لیے صارفین کی معلومات کومحفوظ رکھنے سے زیادہ کچھ اور ضروری نہیں اور ہم اپنے سکیورٹی اقدامات میں بہتریاں لاتے رہیں گے۔‘  

فیس بک کے ترجمان اس حوالے سے بات کرنے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔    

یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے سے متعلق خبروں پر پہلے ہی فیس بک اور اس کے بانی مارک زکربرگ کو سکیورٹی ماہرین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

دی انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے سکیورٹی کمپنی سائبر ریسن کے چیف سکیورٹی آفیسر سیم کری نے کہا، ’پاسورڈ جمع کرنا اور وہ بھی ایک سادہ ٹیکسٹ فائل میں، جسے کوئی بھی پڑھ سکتا ہے۔ کیا آپ مذا ق کر رہے ہیں؟‘     

انہوں نے مزید کہا کہ فیس بک ایک اہم سوشل انفراسٹرکچر کی شکل لے رہا ہے، جہاں اس کی ذمہ داری عوام کی طرف ہے، ’اب گڑھے مردے اکھاڑنے کا وقت نہیں۔‘

ساتھ ہی سیم کری نے کہا: ’ہم کیسے بھروسہ کر سکتے ہیں کہ یہ پلیٹ فارم مزید پھلے پھولے گا اور لوگوں کو جوڑے گا، اگر وہ اپنے بنیادی بلاگنگ اور مسئلے سلجھانے کے عمل کو ہی ٹھیک نہیں کرسکتا۔ فیس بک کو اکیسویں صدی کے لیے سکیورٹی سٹریٹیجی چاہیے، بیسویں صدی کے لیے نہیں۔‘     

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل