جب ہم ایک نیا مذہب اختیار کرتے کرتے بچے

اگر ذاتیات آڑے نہ آ جاتیں تو ہم تقریباً تقریباً دنیا کا ایک نیا مذہب اختیار کر چکے تھے۔

(PictorialEvidence)

سال 2007 کی بات ہے۔ میں امریکی دارالحکومت کے نواح میں قائم حلقۂ اربابِ ذوق کا جنرل سیکریٹری تھا جس کے ماہانہ اجلاسوں میں شرکت کے دوران جہانگیر نامی ایک نوجوان سے گپ شپ ہوئی جو رفتہ رفتہ دوستی میں بدل گئی۔

اس دوستی کو مزید پشت پناہی اس طرح ملی کہ اس کے پاس گاڑی تھی، میرے پاس نہیں تھی، اس لیے کئی بار ایسا ہوا کہ اس نے اجلاس کے بعد مجھے گھر ڈراپ کیا۔ گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کا سفر ہوتا تھا، اس دوران ادب و شاعری پر بات چیت ہوتی رہتی۔ جہانگیر کسی ہوٹل میں ملازم تھا اور تھوڑی بہت غزل وزل بھی کہتا تھا جس کا ہر دوسرا تیسرا شعر وزن سے بےنیاز ہو تا تھا۔ میں کبھی کبھار کوئی لفظ آگے پیچھے کر دیتا تو وہ بڑا ممنون ہوتا۔

 ایک روز اس نے حلقے کے اجلاس سے واپسی کے سفر کے دوران نئے امریکی مذہب سائنٹالوجی کے بارے میں پوچھا کہ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے۔ مجھے کچھ زیادہ پتہ نہیں تھا، سوائے اس کے کہ ٹام کروز اور جان ٹریوولٹا جیسے مشہور اداکار اس سے وابستہ ہیں۔ جہانگیر نے اس مذہب یا کلٹ کی جزئیات بتانا شروع کیں تو ایسا معلوم ہوا جیسے اس نے سائنٹالوجی کے کسی مدرسے سے فاضل کا کورس کر رکھا ہے۔ خاص طور پر اس نے ڈایانیٹکس (Dianetics) نامی کسی اصول کی خاصی وضاحت کی جس کے تحت ہر قسم کے نفسیاتی مسائل اور ذہنی تناؤ سے چھٹکارا حاصل کیاجا سکتا ہے۔ کہنے لگا کہ ذہنی امراض کے علاج کا پورا ادارہ یعنی سائیکالوجی اور سائیکائٹری بالکل فراڈ ہے اور لوگوں سے پیسے بٹورنے کے ہتھکنڈے کے سوا کچھ نہیں، اصل معاملہ کچھ اور ہے۔ بلکہ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ چکوال میں اپنی بہن سے فون پر بات کرتے ہوئے اس اصول کی روشنی میں اس کی نفسیاتی کونسلنگ کرتا ہے اور بال بچوں اور سسرال کے جھگڑوں میں گھری اس کی بہن کو بڑا افاقہ ہوا ہے۔

میرے لیے یہ باتیں دلچسپ تو تھیں، مسئلہ یہ ہے کہ ذہن ہمیشہ سے تشکیک سے یوں پُر رہا ہے جیسے راگ سے باجا، اس لیے جہانگیر کے بیان کو نمک کی چٹکی کے ساتھ لیا، اور احتیاطاً تھوڑی سی الائچی ڈال کر انگریزی محاورے کو مشرف بہ اردو کر کے اپنے گھر کے قریب اس کی گاڑی سے اتر گیا۔

اس واقعے کے بعد دو تین مہینے تک ہماری ملاقات نہ ہو سکی۔ پھر اچانک ہی فون آ گیا۔ واشنگٹن میں سائنٹالوجی کا سالانہ اکٹھ ہو رہا ہے جس میں دگج سائنٹالوجسٹ شرکت کریں گے، اور میرے لیے سنہرا موقع ہے کہ میں اس مظہر کا قریبی مطالعہ کر سکوں، اور وہ مجھے اتوار کو دوپہر کے وقت پِک کر لے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس دن فرصت بھی تھی، موقع بھی تھا، دستور بھی تھا، اس لیے میں مقررہ دن جہانگیر کے ساتھ دریائے پوٹامک کے کنارے ہلٹن ہوٹل کی سنگِ سیاہ سے مرصع عالیشان عمارت میں پہنچ گیا۔ اندر پہنچتے ہی گویا آنکھیں چندھیا گئیں۔ ہر طرف سیاہ سوٹوں، ملبوسوں اور لبادوں کی بہار تھی۔ طرح طرح کے خوش پوش لوگ بقول مجید امجد پراٹھوں جیسے روغنی چہرے لیے ثریاکی خبر لانے والی چھت کے نیچے روشن لابی میں چل پھر رہے تھے۔ خواتین کیا تھیں، کہ جیسے طبلۂ عطار کھلا ہوا تھا، معطر معنبر بید کی لچکیلی شاخیں، اکثر سیاہ ریشمی لبادوں میں ملبوس، اونچی ایڑیوں سے ہوٹل کے پھسلواں فرش پر اس دھن سے تین تال بجا رہی تھیں کہ دل دھک سے رہ جاتا تھا۔

جہانگیر کو دیکھتے ہی کئی لوگ اس کی طرف بڑھے اور جس گرم جوشی سے اس کا حال احوال پوچھنے لگے اس سے ظاہر ہو ا کہ وہ اس میدان کا پرانا کھلاڑی ہے۔ جب اس کی گفتگوؤں کے سلسلے گہرے ہونے لگے اور مجھے ایک طرف سے تالیوں کی گونج اور نعرے سنائی دینے لگے تو میں نامحسوس طریقے سے ادھر کو کھسک گیا۔ دیکھا کہ ایک بڑے نیم تاریک ہال کے اندر سکرین پر کوئی فلم دکھائی جا رہی ہے۔ بیچ بیچ میں چند کرسیاں خالی تھیں لیکن وہاں تک رسائی کے لیے لوگوں کی ٹانگوں پر سے پھلانگ کر جانا مناسب نہ لگا اس لیے میں ایک کونے میں دیوار کے ساتھ تصویر کی طرح چپک گیا اور یہ جاننے کی کوشش کرنے لگا کہ یہ کس قسم کی فلم ہے۔

تھوڑی دیر بعد پتہ چلا کہ سائٹالوجی کے بانی ایل ران ہبرڈ کی زندگی کے بارے میں کوئی دستاویزی فلم دکھائی جا رہی ہے۔ بیچ میں جب جب ہبرڈ کی جھلکی نظر آتی، پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھتا، اور بعض لوگ تو فرطِ جذبات سے مغلوب ہو کر کھڑے ہو جاتے اور ہتھیلیاں پیٹنے لگتے۔ اس خیال سے کہ کہیں پینڈو یا پھر گستاخ نہ سمجھا جاؤں، میں بھی کبھی کبھی بیچ میں بےآواز سی تالی بجا دیتا تھا۔ فلم سے اور کچھ نہیں تو کم از کم یہ ضرور پتہ چل گیا کہ یہ لوگ اعلیٰ حضرت ہبرڈ مدظلہ سے کتنی پرجوش عقیدت رکھتے ہیں۔

کچھ اس فلم سے اور کچھ گھر واپس آپس کر نیٹ گردانی سے پتہ چلا کہ سائنٹالوجی 20ویں صدی میں ابھرنے والا کامیاب ترین مذہب ہے۔ ہالی وڈ کے ستارے ایک طرف، اس کے علاوہ بھی لاکھوں عام لوگ اس پر یقین رکھتے ہیں، اور اس کی شاخیں دنیا کے ڈیڑھ سو ملکوں میں قائم ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ لیکن اس کے بارے میں تھوڑی دیر میں۔ پہلے ہبرڈ بھائی کے بارے میں کچھ جان لیجیے۔ وہ 1911 میں امریکہ میں پیدا ہوئے تھے۔ پہلے یہ تھوک کے حساب سے سائنس فکشن ناول لکھا کرتے تھے، کہ 1950 کی دہائی کے اوائل میں انہیں بقول ان کے کچھ روحانی تجربات ہوئے جس کے بعد انہوں نے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی۔

امریکی حکومت سائنٹالوجی کو باقاعدہ مذہب کے طور پر تسلیم کرتی ہے اور اسے دیے جانے والے عطیات دوسرے مذہبوں کی طرح ٹیکس سے مبرا ہیں۔

اس مذہب کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ کائنات ذہین مخلوق سے اٹا اٹ بھری ہوئی ہے۔ خدا کی طرح کی طاقت رکھنے والی ایک سپر فطین شخصیت زینو تھا نے ساڑھے سات کروڑ سال پہلے انسانی تہذیب کی بنیاد رکھی تھی۔

فلم ختم ہوئی اور لوگ کھڑے ہو کر باآواز بلند داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے لگے تو میں بھی اسی افراتفری کا فائدہ اٹھا کر ہال سے سرک آیا۔ آگے ایک اور بڑی لابی کا سامنا تھا۔ یہاں جگہ جگہ کتابوں کے سٹال لگے ہوئے تھے۔ میں نے حسبِ عادت ایک سٹال کے آگے کھڑے ہو کر ایک کتاب کے ورق الٹنا پلٹنا شروع کر دیے۔ ابھی دو چار ورق ہی پلٹے ہوں گے کہ سیاہ سوٹ اور بو پہنے اٹھارہ انیس برس کا سرخ بالوں اور بھوری چھائیوں والا نوجوان لپکا اور مجھے اس سٹال پردھری کتابوں کے خصائل سے آگاہ کرنے لگا۔ میں نے اسے ٹال کر آگے بڑھنے کی کوشش کی، لیکن وہ کسی اور ہی مٹی کا بنا ہوا تھا، راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔ کہنے لگا، ’سائنٹالوجی کی بنیادی 56کتابوں کامکمل سیٹ مارکیٹ سے خریدیں گےتو آپ کو دو ڈھائی ہزار ڈالر سے کم کا نہیں ملے گا، لیکن آپ چونکہ پہلی بار آئے ہیں، اس لیے میں یہ تمام گنجینہ صرف اور صرف 12سو ڈالر میں آپ کے سپرد کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ‘

آپ ہی کچھ رہنمائی کریں، مجھے تو اس منطق کی آج تک سمجھ نہیں آئی۔ آپ پاکستان کی کسی بھی دکان میں پہلی بار جائیں تو دکان دار یہی کہتا ہے کہ آپ پہلی بار آئے ہیں، مستقل گاہک بنانے کے لیے خاص رعایت دے رہا ہوں۔ بلکہ اگر دکان دار بھول جائے تو گاہک یاد دلا دیتا ہے کہ بھائی پہلی بار آپ کی دکان میں آئے ہیں، کچھ تو قیمت کم کرو۔ لیکن عین اسی دوران اس کے بالکل برعکس کلیہ بھی اسی شدت سے سکۂ رائج الوقت کی طرح استعمال ہوتا ہے۔ ’باجی جی، آپ تو ہماری پرانی گاہک ہیں، آپ کے لیے خصوصی ڈسکاؤنٹ۔۔۔ ‘اور گاہک کہتا ہے:’ بھائی جی، یاد ہے پچھلے سال جب بارشیں بہت ہو رہی تھیں میں آپ کی دکان میں آیا تھا اور یہ والا جوتا خریدا تھا، کچھ تو قیمت کم کریں۔‘

میں اس دو دھاری منطق کی کاٹ سے واقف تھا، لیکن واشنگٹن ڈی سی کے اس ہوٹل میں کتابوں کے سٹال سے ہٹنے کی جو کوشش کرتا تھا، وہ مردمک ادھر سے راستہ مسدود کر دیتا تھا۔ میں نے طرح طرح کے عذر کر کے دامن چھڑانے کی کوشش کی لیکن اس الہ دین کے جن کے پاس ہر جگاڑ کی ’تگاڑ‘ موجود تھی۔ چند مثالیں دیکھیے:

میں: اے عزیزِ من، میں مصروف آدمی ہوں اور یہ کتابیں اتنی زیادہ اور اتنی موٹی ہیں کہ میں کیا میری تین نسلیں انہیں پڑھ نہیں پائیں گی۔

نوجوان: سر، میں ضمانت دیتا ہوں کہ ایک بار آپ ایک کتاب پڑھنا شروع کر دیں، تو جب تک پورا سیٹ ختم نہ کر لیں چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ میں اسی ہال میں دس لوگوں سے آپ کو ملوا سکتا ہوں جنہوں نے چھ آٹھ مہینے میں پورا سیٹ گھول کے پی لیا۔ ساتھ میں صرف آپ کے لیے ڈی وی ڈی کا سیٹ بھی شامل کر رہا ہوں۔ اس کی مالیت پانچ سو سے کم نہیں۔

میں: اتنا بنڈل میں اٹھا کر کیسے لے جاؤں گا، میرا گھر بہت دور ہے اور شام بھی ہونے والی ہے۔

نوجوان:کس علاقے میں رہتے ہیں آپ؟ میں کسی کے ساتھ گاڑی میں بھجوا دوں گا۔

آخر تنگ آ کر:

میں: یار، بات یہ ہے کہ میرے پاس 12 سو ڈالر نہیں ہیں۔ کوئی ہلکی سی بنیادی سی پیپر بیک کتاب نہیں ہے؟ یہی کوئی آٹھ دس ڈالر والی؟ فی الحال میں وہی لے لوں گا، سیٹ اگلی بار سہی۔ اب تو آنا جانا لگا ہی رہے گا۔

نوجوان (مسکرا کر اپنے بریسز والے دانت نمایاں کرتے ہوئے((پتہ نہیں مجھے ہمیشہ سے بریسز سے گھن سی کیوں آتی ہے؟))): اوہو تو یہ بات ہے! لیکن سر،کوئی مسئلہ ہی نہیں، میں آسان قسطوں پر سارا بندوبست کروا دوں گا، آپ کو پتہ ہی نہیں چلے گا، سو ڈالر ماہانہ کٹتے رہیں گے، سال بھر میں پیسے پورے اور مزے کی بات کی کوئی اضافی انٹرسٹ کے بغیر۔ ذرا کریڈٹ کارڈ تھمائیے۔

مجھے بچپن میں کسی کتاب میں پڑھا ہوا پیرِ تسمہ پا کا قصہ یاد آ گیا۔ یہ ایک معذور بڈھا ہے جو کسی راہ چلتے کو لالچ دیتا ہے کہ اسے اپنے کندھے پر بٹھا کر لے جائے تو سونے کے ذخیرے کا سراغ بتا دے گا۔ جو شخص بھی اس کو کندھے پر سوار کرتا ہے، یہ آکاس بیل کی طرح اپنے ہاتھ پاؤں کے اس کی گردن اور کمر سے مضبوطی سے لپیٹ لیتا ہے اور اس سے اپنے سارے کام کرواتا ہے۔ اس سے جان چھڑانے کی جو کوشش کرتا ہے یہ اور سختی سے چمٹ جاتا ہے۔ ذہن پر بہت زور ڈالا لیکن یہ یاد نہ آیا کہ داستان میں عمرو عیار نے آخر میں اس پیرِ تسمہ پا سے کیسے نجات پائی تھی۔

بھلا ہو میرے دوست جہانگیر کا، جسے میں اس ہبڑدبڑ میں بھول ہی گیا تھا، اسی دوران خواجہ خضر کی طرح کہیں سے نمودار ہو ا اور فوراً ہی میری مشکل بھانپ گیا۔ خدا جانے اس نےنوجوان سے کیا کہا اور میرا بازو پکڑ کر اس گرداب میں سے صاف نکال لے گیا۔ تب خیال آیا کہ داستانوں کے کردار جب کسی جنجال میں پھنس جاتے تھے تو اپنے زورِ بازو سے نہیں نکلتے تھے بلکہ عام طور پر خواجہ خضر یا اسی قسم کے کوئی اور سبز پوش بزرگ ان کی دست گیری کیا کرتے تھے۔

میرا خواجہ خضر مجھے ایک میز کی طرف لے گیا، وہاں پڑے ہوئے کاغذوں کے ڈھیر میں سے ایک فارم نکال کر اسے پر کیا، اور کہا کہ بس آپ یہاں دستخط کر دیں۔ میرے اعصاب ابھی تک جھنجھنا رہے تھے، اس لیے اب کے میں نے ہچر مچر نہیں کی اور چپکے سے دستخط کر کےفارم جہانگیر کے حوالے کر دیا۔ اس نے یہ فارم اس میز کے پیچھے کھڑے ایک شخص کو پکڑایا، ساتھ ہی جیب سے اٹھارہ ڈالر نکال کر دیے اور مجھ سے کہنے لگا، ’بس آج سے آپ سائنٹالوجی کے ابتدائی درجے کے رکن بن گئے ہیں۔‘ اس مردِ بزرگ نے کچھ بروشر اور ایک کتاب مجھے تھما دی۔

جہانگیر کہنے لگا، ’چلیں، یہ مرحلہ تو طے ہوا، اب آپ کا آڈ ٹ کرواتے ہیں۔‘

’آڈٹ؟ مگر میں نے تو کوئی کاروباری۔۔۔‘

’ارے وہ آڈٹ نہیں بھائی، یہ سائنٹالوجی کا الیکٹریکل روحانی آڈٹ ہے جس سے آپ کی تمام جذباتی، نفسیاتی اور روحانی گرہوں کا پتہ چل جائے گا۔ جیسے ڈاکٹر مریض کی تشخیص کے لیے ایکس رے نہیں کرواتے؟ ایسے ہی سائنٹالوجی کا روحانی ایکس رے ہے جسے ای میٹر کہتے ہیں۔ ادھر سے چلیے، وہ سامنے ہی ہے۔‘

جہانگیر مجھے ایک کونے میں لے گیا جہاں ایک بوتھ کے اندر ایک نوجوان خاتون بیٹھی تھی۔ لباس اس کا سیاہ تھا،مگر ٹانگوں پر اتنا مختصر کہ ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے۔ چہرہ صبح کی پہلی کرن کی طرح جگمگ اور بال ڈوبتے سورج کی مانند سنہرے۔ اس کی لمبی مرمریں گردن پر موٹے موتیوں کی مالا آویزاں تھی لیکن دل دیر تک اس ادھیڑبن سے نہ نکل سکا کہ آیا موتی گردن کی شوبھا بڑھا رہے ہیں یا گردن موتیوں کو آب دے رہی ہے؟

 خیر، جہانگیر مجھے وہیں چھوڑ کر رخصت ہو گیا اور اس قتالہ نے مجھے سٹول پر بیٹھنے کو کہا۔ اس کے سامنے ایک چھوٹی سی میز پر ایک آلہ سا پڑا تھا جس پر ایک ڈائل نصب تھا۔ آلے سے دو تاریں نکلی ہوئی تھیں اور ان تاروں کے سروں پر دو چھوٹے چھوٹے دھاتی سلنڈر لگے ہوئے تھے۔

میں نے خاتون کے سامنے دائیں طرف لکھا ہوا نیم ٹیگ پڑھا، ’نیٹلی۔‘ نیٹلی نے میری نظروں کا تعاقب کیا اور بولی، ’جی، مجھے نیٹلی کہتے ہیں۔ میں آپ کی آڈیٹر ہوں۔‘

نیٹلی کی آواز ویسی تھی جسے انگریزی میں ’ہسکی‘ کہتے ہیں۔ سنا ہے کہ جو بچے بچپن میں بہت روتے ہیں ان کی آواز ایسی ہو جاتی ہے۔ لیکن اس وقت نیٹلی کی اس ہسکی آواز نے وہ سحر پھونکا کہ میرے لیے اس کے جملوں پر دھیان دینا ہی مشکل ہو گیا۔ اسے بھی احساس ہو گیا، اور اس نے اپنے بات دہرائی، ’آر یو وِد می سر؟ یہ جو آپ میز پرمشین دیکھ رہے ہیں یہ الیکٹرو سائیکو میٹر ہے، اگر یہ نام آپ کو لمبا لگے تو آپ اسے ای میٹر بھی کہہ سکتے ہیں۔ میں اس کی مدد سے آپ کا آڈٹ کروں گی۔آپ سے کچھ سوال پوچھے جائیں گے، جس کے دوران آپ یہ دو سلنڈر اپنے ہاتھوں میں تھامے رکھیں گے۔سوال سنتے ہی آپ کے ذہن میں جو فوری جواب آتا ہے، آپ وہ دے دیں جواب سے آپ کی نفسیاتی اور جذباتی کیفیت کا اندازہ ہوتا رہے گا اور وہ اس ڈائل میں نصب سوئی اسی حساب سے حرکت کرتی رہے گی۔ جب آپ جذباتی اور روحانی طور پر زیادہ فعال ہوں گے تو سوئی کی حرکت بھی اسی حساب سے تیز تر ہوتی جائے گی۔‘

 میں نے سلنڈر ہاتھ میں مضبوطی سے تھام لیے۔

’نہیں نہیں، ایسے نہیں، تھوڑے ریلیکس ہوں۔ گرفت ہلکی رکھیں۔‘ نیٹلی نے میرے ہاتھوں کو چھو کر سلنڈر پکڑنے کا درست طریقہ بتایا اور 440 وولٹ کا جھٹکا لگا کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئی۔ ’آپ تیار ہیں، شروع کریں؟‘

’جی۔‘

’آپ کہاں پیدا ہوئے تھے؟‘

میں نے بتایا۔

’آپ کے والدین کیسے تھے، کیا کرتے تھے،بچپن کیسا گزرا؟‘

نیٹلی اسی طرح کے بےضرر سے سوال کرتی گئی۔ میرے ہر جواب پر سوئی میں ہلکی سی جنبش پیدا ہوتی تھی، اور وہ تھوڑا سا لرز کر دوبارہ اپنی پہلی حالت میں آ جاتی تھی۔

اب نیٹلی سکول کالج سے گزر کر جوانی کی حدوں تک آ گئی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ جیسے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن تجربہ کار فاسٹ بولر پہلا اوور تھوڑا سنبھال کر پھینکتا ہے۔ ابتدا میں وکٹ کے باؤنس کا اندازہ لگاتا ہے، گیند کتنی سوئنگ ہو رہی ہے، بلےباز کتنے اعتماد سے کھیل رہا ہے، خود اس کے پٹھے کتنے گرم ہوئے ہیں، وغیرہ۔ جب ان سب کا تخمینہ لگا چکتا ہے تو پھر پوری رفتار سے گیندیں پھینکنا شروع کر دیتا ہے۔ یہی حال نیٹلی کا بھی تھا۔ جوں جوں اس کے سوال آگے بڑھ رہے تھے، وہ بھی فارم میں آتی جا رہی تھی، اور مجھے لگا کہ سوالوں کی نوعیت کچھ ذاتی سی ہوتی چلی جا رہی تھی۔

اب جو کوئی مجھے قریب سے جانتاہے اسے معلوم ہے کہ میں لوگوں سے تھوڑا فاصلہ رکھتا ہوں۔ میرے ایسے دوست ایک آدھ ہی ہوں گے جو تو تکار کی سطح پر اتر آتے ہوں، ورنہ تو اکثر مجھے کسی قدر کوفت بھی ہوتی ہے کہ مجھ سے عمر میں بڑے بھی ’آپ‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ ایک طرف تو وہ صورتِ حال اور دوسری طرف کجا یہ حال کہ اب نیٹلی کے سوال ذاتیات کے مرکزے تک پہنچ کر خواب گاہ کی خلویات اور باتھ روم کی رمزیات میں گھسنے لگے۔ جوں جوں اس کے سوال تیکھے ہوتے گئے، توں توں میرے کانوں کی لویں گرم اور حلق خشک ہوتا گیا۔ ادھر ہتھیلیاں ایسی بھیگیں کہ سلنڈر تھامنا دوبھر ہو گیا۔ یہ دو شیطانی آلے ہاتھ میں تھامے سٹول پر بیٹھے بیٹھے وہ صورت بن گئی جیسے بگٹٹ بھاگتے بپھرے ہوئے گھوڑے پر بیٹھا بمشکل تمام توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں اور باگیں ہیں کہ ہاتھ سے چھوٹی جا رہی ہیں۔ ادھر سوئی کی حالت نہ پوچھیے جو کچھ دیر تک ایک پہلو پر آرام سے لیٹی ہوئی تھی، بس کبھی کبھی کروٹ بدل لیتی تھی، اب اس کا یہ عالم تھا کہ ادھر نیٹلی سوال پوچھتی، ادھر وہ بےحیا میرے منہ کھولنے سے پہلے ہی اٹھ کر یوں دھمال ڈالنے لگتی جیسے ابھی ڈائل کا شیشہ توڑ کر باہر آ جائے گی۔ میرے گلے سے کچھ نحیف سی خرخراتی آواز نکلتی تو تھی، جس کی مجھے خود سمجھ نہیں آتی تھی، مگر نیٹلی کی توجہ سوئی کی طرف زیادہ تھی، میرے جوابوں پر کم، اور وہ ہر بار پہلے سے زیادہ تیکھے سوال کا تیز باؤنسر ایک کے بعد ایک میری طرف اچھالے جا رہی تھی۔

یا اللہ یہ کس طلسمِ روح فرسا میں پھنس گیا ہوں۔ یقین ہے ایسے سوالوں کا سامنا حاتم طائی کو کرنا پڑتا تو دوبارہ کسی کی مشکلیں حل کرنے سے ہمیشہ کے لیے تائب ہو جاتا، اپنی ہی قبر کو لات مارتا، گریبان پھاڑ صحرا کو نکل جاتا۔ میں نے کنکھیوں سے اپنے مشکل کشا جہانگیر کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن معلوم نہیں وہ ظالم جان بوجھ کر کہیں سٹک گیا تھا، یا اتفاقاً سائنٹالوجسٹوں کی بھیڑ میں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

 اب کے جو نیٹلی نے ایک سوال کیا وہ اونٹ کی پشت پر آخری تازیانہ ثابت ہوا۔ لوہے کے سلنڈر میرے ہاتھوں میں انگارہ ہو گئے، میں نے جھٹک کر انہیں میز پر پٹخااور سٹول سے اٹھ کھڑا ہوا۔ نیٹلی اسی ہسکی آواز میں ’ہے ہے‘ کرتی میرے پیچھے لپکی مگر میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا جہانگیر کا انتظار کیے بغیر ہوٹل سے باہر نکلا، اور پیچھے دیکھے بغیر، کہ مبادا پتھر کا نہ ہو جاؤں، قریبی سٹیشن سے زمیں دوز ریل میں بیٹھ کر گھر چلا آیا۔

رات کو بیٹھ کر انٹرنیٹ پر سائنٹالوجی کے بارے میں تھوڑا پڑھا تو ہوش ٹھکانے آ گئے۔ پتہ چلا کہ بعض دفعہ ایسا بھی ہوا ہے کہ اسی ای میٹر کے بہانے لوگوں سے ان کی اور اہلِ خانہ کی بےحد نجی معلومات حاصل کر کے ریکارڈ کر لی گئی ہیں اور پھر ان لوگوں کو بلیک میل کیا جاتا رہا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ بہت سے مشاہیر اسی طریقے سے سائنٹالوجی کے پلو سے بندھے ہیں۔ البتہ سائنٹالوجی والے اس کا انکار کرتے ہیں اور اسے مخالفین کا پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں۔

حقیقت کیا ہے، یہ تو معلوم نہیں لیکن اس واقعے کے بعد کئی دن تک کان یوں سنسناتے رہے جیسے میر نے کہا تھا:

تفنگ اس کی چلی آواز پر لیک
گئی ہے میر گولی کان پر سے

 باقی رہا جہانگیر، تو اس کے ساتھ رابطہ کم ہوتے ہوتے معدوم ہو گیا۔ پتہ نہیں اب تک بےوزن شاعری کرتا ہے یا ادب سے کنارہ کش ہو گیا ہے۔

--------------------------------------------

پس نوشت: کراچی اور اسلام آباد میں ڈایانیٹکس سینٹر قائم ہیں جو امریکہ کے چرچ آف سائنٹالوجی سے منسلک ہیں۔ 2010 کے سیلاب کے بعد اس ادارے نے فلاحی اور امدادی کاموں میں حصہ لیا تھا اور سائنٹالوجی کی ویب سائٹ کے مطابق حکومتِ پاکستان اور عدلیہ نے سائنٹالوجی کے رضاکاروں کی بڑی تعریف کی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی