قسط 5: 11 ہزار موبائل کالز میں زندگی کا سراغ!

دسمبر 2017 میں پشاور کے ایک ہاسٹل میں خودکش حملہ آور گھس گئے۔ ان کے ڈانڈے کہاں سے ملتے تھے اور اس مہنگے آپریشن کے لیے پیسہ کہاں سے آیا؟ اس حملے کی تحقیقات کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کی خصوصی سیریز کا پانچواں حصہ

دسمبر 2017 میں پشاور کے زرعی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ پر حملےکے دوران سکیورٹی اہلکار  (اے ایف پی)

انڈپینڈنٹ اردو کی اس خصوصی سیریز کی پانچویں قسط پیش ہے (پہلی قسط پڑھیے | دوسری قسط پڑھیے | تیسری قسط پڑھیے | چوتھی قسط پڑھیے)۔ اس میں سید فخر کاکاخیل نے کسی ماہر جاسوسی ناول نگار کی طرح پشاور میں 2017 میں ہونے والے خودکش حملے کے تانے بانے جوڑے ہیں۔ اس قسط وار کہانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ خودکش حملوں کی منصوبہ بندی کیسے ہوتی ہے، اور اس کے لیے رقم کیسے فراہم ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر اس میں پولیس کے مثالی کردار کا ذکر ہے جن کے سراغ رسانوں کی اس طرح اس پیچیدہ کیس کی کڑیاں ملائی ہیں کہ ان کی محنت اور ذہانت کی داد نہ دینا زیادتی ہو گی۔ 

 

کٹی انگلی دیکھ کر عبداللہ کی اہلیہ اور ان کے بھائیوں کو اغواکاروں کی نیت اور ذہنیت کا اندازہ ہو گیا تھا اس لیے وقت ضائع کیے بغیر بھائی محمد امین تین کروڑ روپوں کا بیگ لے کر پاک افغان سرحد پہنچ گئے۔

اغواکاروں کا ایک ساتھی اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اغوا کاروں کے ساتھی نے محمد امین کو تسلی دی کہ عبداللہ کا علاج کر دیا گیا ہے اور اب جتنی جلدی ممکن ہو، باقی 13 کروڑ روپوں کا بندوبست کرے۔ اغوا کاروں کے ساتھی نے اسے بتایا کہ وہ سرحد عبور کر کے پہلے افغان صوبہ ننگرہار جائے گا اور پھر وہاں سے صوبہ کنڑ، جہاں اغوا کاروں کا ہیڈ کوارٹرز ہے۔

محمد امین نے ایک نظر پاک افغان سرحد پر واقع پہاڑوں پر ڈالی اور سوچنے لگا کہ اس کا بھائی اس سے کچھ فاصلے پر پہاڑوں کے اس پار موجود ہے لیکن وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا۔

تین کروڑ کا بیگ لیے اغوا کاروں کا ساتھی افغانستان کی طرف روانہ ہوا جب کہ محمد امین واپس حیات آباد پشاور پہنچ گئے۔

ادھر حیات آباد پولیس کو بھی اندازہ ہو چکا تھا کہ ان کا پالا کسی عام جرائم پیشہ گروہ سے نہیں بلکہ ایک منظم دہشت گرد تنظیم سے ہے۔ محمد امین نے تین کروڑ روپے کی فراہمی اور پاک افغان سرحد پر پیسوں کی حوالگی کی تمام تفصیل سے پولیس کو آگاہ کیا۔

پولیس کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ اس واردات کا کوئی نہ کوئی سرا کالعدم تحریک طالبان سے جڑا ہوا ہے کیونکہ اس تنظیم کی وارداتوں کا سرا افغان صوبے کنڑ اور  ننگرہار سے ملتا تھا۔

اب کیس شعبہ انسداد دہشت گردی کو ریفر کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ 23 اگست 2017 کو یہ کیس پشاور پولیس کے شعبہ انسداد دہشت گردی کو سونپ دیا گیا۔ عبداللہ کو اغوا ہوئے چار مہینے گزر چکے تھے پولیس کسی قسم کی پیش رفت کرنے سے قاصر رہی تھی۔

شعبہ انسداد دہشت گردی پولیس نے آغاز مواصلاتی رابطوں سے کیا۔ افغانستان کے نمبروں سے اتنا معلوم ہو گیا کہ ان نمبروں سے مغوی کے بھائی کے علاوہ پاکستان میں کسی کو کال نہیں کی گئی۔

اس کے بعد حیات آباد پولیس نے تمام درج مشکوک افراد جانچ پڑتال شروع کی۔ پولیس نے حساس اداروں کی مدد سے 20 اپریل 2017 کو حیات آباد زرغونی مسجد کے قریب جائے وقوعہ کی جیو فیسنگ کا آغاز کیا۔

یونیورسٹی روڈ سے زرغونی مسجد تک مغوی عبداللہ کے روانہ ہونے، عبداللہ کے قریبی دوستوں کے ساتھ اس کے فون کا ریکارڈ، گھر کال کرنے اور پھر اغوا ہونے تک ہزاروں نمبروں اور کالوں کا ایک سیلاب تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن بالآخر تفتیش کا دائرہ 11 ہزار فون کالز تک محدود کر دیا گیا۔ سوال یہ تھا کہ ان ہزاروں کالوں میں وہ کام کی کال کون سی تھی جس سے اس اغوا کا معاملے کا کچھ سراغ مل سکے۔

ویسے تو یہ معاملہ بھوسے کے ڈھیر میں سوئی ڈھونڈنے کے مترادف تھا، لیکن کرتے کرتے پولیس کو وہ کال مل ہی گئی جس کی انہیں تلاش تھی۔ یہ کال عبداللہ کے کاروباری ساتھی بنگل نے کی تھی۔ موبائل لوکیشن سے معلوم ہوا کہ وقوعے سے کچھ دیر قبل بنگل یونیورسٹی روڈ پشاور میں ہی ایک ہوٹل پر عبداللہ کے ساتھ ہی تھا۔

گویا اغوا سے قبل مغوی کی آخری ملاقات اسی سے ہوئی تھی اور اسی کو علم تھا کہ مغوی عبداللہ کس طرف جا رہا ہے اور کس راستے سے جا رہا ہے۔ یہیں سے سرے سے سرا ملتا گیا۔ اس ملاقات کے بعد بنگل کا موبائل فون ریکارڈ دیکھا گیا۔

مغوی عبداللہ کے ہوٹل سے نکلنے کے بعد سات بجے کے لگ بھگ حیات آباد سے بنگل کے ساتھ رابطے میں جو نمبر تھے وہ چنار روڈ، یونیورسٹی ٹاؤن اور ایف آر پشاور میں موجود منصور بھائی (وہی منصور عرف بھائی جو ایگریکلچر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ خودکش حملہ میں افغانستان سے اسلحہ لانے گئے تھے)، حماد، سمیع اللہ اور پھر ہوتے ہوتے جہانگیر (پولیس ریکارڈ کے مطابق پہلے سے ہی عسکریت پسندوں کے ساتھ رابطے میں تھا)، سہیل، نوروز، زرمحمد تک جا پہنچے۔

پولیس کے کام کی کال وقوعے کے روز شام سات بج کر 16 سے 20 منٹ تک تھی۔ یعنی چار منٹ کا یہ رابطہ ان تمام کرداروں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا وسیلہ ثابت ہوا۔

پولیس ذرائع کے مطابق سہیل دراصل اغوا کی واردات کے دوران گاڑی چلا رہا تھا۔ یہ وہی سہیل ہے جس کی بہن بعد میں ایگریکلچر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں دہشت گرد کارروائی کے لیے نگرانی پر مامور رہی اور جس نے حملہ آوروں کے لیے برقعوں کا انتظام کیا۔ اس طرح نواب جو سہیل کے بہنوئی تھے اور دسمبر 2017 کو ایگریکلچر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں عسکریت پسند نیٹ ورک کے لیے تمام تر سہولت کاری میں ملوث رہے پولیس ریکارڈ کے مطابق اغوا برائے تاوان کی اس واردات میں بھی منصور کے ساتھ مل کر کردار ادا کر رہے تھے۔

اس حملے میں ملوث منصور بھی عبداللہ کے اغوا کے دوران افغانستان کے تمام آپریشنز کی نگرانی کرتے رہے۔ منصور نے ہی ایک اور ملزم حماد کے ذریعہ عبداللہ کے بزنس پارٹنر بنگل کو اس ساری واردات پر آمادہ کیا اور وقوعہ کے وقت حماد، سمیع اللہ اور بنگل نے ان چار منٹس میں اصل کوارڈینیشن کی تھی۔ ملزمان نوروز، زر محمد نے بزور اسلحہ مغوی عبداللہ کو دوسری گاڑی میں بٹھایا اور سہیل گاڑی کو ڈرائیو کرتا ہوا چنار روڈ کے روٹ پر ایف آر پشاور میں واقع ٹھکانے تک پہنچا تھا جہاں اغواکاروں کے باقی ساتھی اس کا انتظار کر رہے تھے۔

حساس اداروں اور پشاور پولیس نے حیرت انگیز طور پر ایک ہفتے کے اندر ہی اغوا برائے تاوان کے اس ہائی پروفائیل کیس کی گتھی سلجھا دی۔ اس دوران کہانی کے تمام کرداروں کی پکڑ دھکڑ بھی شروع کر دی گئی تھی۔

چھ ستمبر 2017 کو تفتیشی افسر نے ایک کال وصول کی۔ کال پر مغوی کے بھائی محمد امین نےاسے بتایا کہ اس کے مغوی بھائی عبداللہ خیر خیریت سے گھر پہنچ گئے ہیں۔ لیکن کیوں؟ کس طرح؟ ابھی تو پشاور پولیس نے مکمل نیٹ ورک کا سراغ بھی نہیں لگایا تھا۔

پھر سب سے بڑھ کر یہ سوال کہ مغوی کو کس طرح افغانستان منتقل کیا گیا؟ اور اب اس سے بھی بڑا سوال کہ اتنی آسانی سے کیسے وہ بارڈر کراس کرکے واپس بھی پہنچ گیا؟ ان سوالوں کے جواب مغوی عبداللہ کے پاس ہی ہو سکتے تھے اس لیے تفتیشی افسر اس کے گھر پہنچے۔ ۔ ۔ ۔

(اس تحریر کا اگلا حصہ کل ملاحظہ فرمائیے)

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین