قسط 3: حملہ آور لائیو ویڈیو کسے دکھا رہے تھے؟

دسمبر 2017 میں پشاور کے ہاسٹل میں خودکش حملہ آور گھس گئے۔ ان کے ڈانڈے کہاں سے ملتے تھے اور اس مہنگے آپریشن کے لیے پیسہ کہاں سے آیا؟

(اے ایف پی)

انڈپینڈنٹ اردو کی اس خصوصی سیریز کی تیسری قسط پیش ہے (پہلی قسط پڑھیےدوسری قسط پڑھیے)۔ اس میں سید فخر کاکاخیل نے کسی ماہر جاسوسی ناول نگار کی طرح پشاور میں 2017 میں ہونے والے خودکش حملے کے تانے بانے جوڑے ہیں۔ اس قسط وار کہانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ خودکش حملوں کی منصوبہ بندی کیسے ہوتی ہے، اور اس کے لیے رقم کیسے فراہم ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر اس میں پولیس کے مثالی کردار کا ذکر ہے جن کے سراغ رسانوں کی اس طرح اس پیچیدہ کیس کی کڑیاں ملائی ہیں کہ ان کی محنت اور ذہانت کی داد دیے بغیر رہا نہیں جا سکتا۔ 

یکم دسمبر 2017:  صبح کی اذانیں گونج رہی تھیں۔ خود کش حملہ آور افغانستان سے براستہ بلوچستان پشاور کے قریب پہنچ چکے تھے، جبکہ اسلحہ اور بارود کو عباس، ابراہیم اور منصور نے  ڈرائیور سہیل کے بہنوئی نواب کے گھر پہنچا دیا تھا۔ رات بھر خودکش حملہ آوروں وقار، سمیع اللہ اور صابر نے جاگ کر گزاری اور ساری رات فاتح مرکز، افغان صوبہ کنڑ میں اپنے گزرے وقت اور ساتھیوں کے بارے میں گفتگو کرتے رہے۔

نماز فجر کے بعد تینوں نے آخری بار اسلحہ، گرینیڈ اور بارودی جیکٹیں وغیرہ چیک کیں۔ سہیل کی بہن نے تین برقعوں کا بندوبست پہلے سے کیا ہوا تھا۔ شہر بھر میں جگہ جگہ چیک پوسٹیں بنی تھیں اس لیے برقعہ پوش تینوں حملہ آوروں کو اگر کہیں روکا جاتا تو انہوں نے کہنا تھا کہ صبح صبح ایمرجنسی ہے اور وہ تین خواتین خیبر ٹیچنگ ہسپتال جا رہی ہیں۔

ان کا نشانہ ایگریکلچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ تھا جو ہسپتال سے ملحق تھا۔ عسکریت پسندوں کی جانب سے برقعے کے اس طرح کے استعمال نے مقامی تہذیب و ثقافت کو کتنا نقصان پہنچایا اس کا خمیازہ اس جنگ میں عام لوگوں کو بھگتنا پڑا۔

برقع پہنانے کے بعد سہیل ان تینوں حملہ آوروں کو لے کر مختلف راستوں سے ہوتا ہوا یونیورسٹی ٹاؤن میں داخل ہوا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے یونیورسٹی روڈ پر واقع خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے مرکزی دروازے کے طرف رکشہ موڑا۔

آٹھ بج کر 20 منٹ پر اس نے ایگریکلچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے دروازے پر تینوں برقع پوش خودکش حملہ آوروں کو اتارا۔ تینوں حملہ آوروں نے برقعے اتار کر پھینک دیے۔ صبح صبح گیٹ پر ایک ہی گارڈ موجود تھا۔ ’تڑ تڑ تڑ۔ ۔ ۔‘ قاری صابر نے فائرنگ سے گارڈ کو مار کر مشن کا باقاعدہ آغاز کیا۔

اس کے بعد اس نے سمیع اللہ اور وقار کو مختلف راستوں سے اندرونی عمارت میں داخل ہونے کا کہا۔ تینوں حملہ آور ایگریکلچر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے مرکزی گیٹ سے ملحق خالی میدان سے گزرتے ہوئے فائرنگ کرتے ہوئے عمارت کے اندر داخل ہوئے۔ سمیع اللہ اور قاری صابر نے موبائل آن کیے۔ موبائل کو انہوں نے پہلے سے چھاتی پر لگا کر وڈیو لائیو سٹریم آن کر دیا تھا۔ اب وہ جو کچھ کر رہے تھے، وہ سب موبائل میں ریکارڈ ہو رہا تھا۔

’رکو، ٹھہرو!‘ قاری صابر ان کو ہدایات دے رہا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 موبائل دراصل ننگرہار میں موجود کمانڈر فاتح کو اس کارروائی کی لائیو فیڈ بھیج رہا تھا۔ انسٹی ٹیوٹ کے کلاس رومز خالی تھے اس لیے حملہ آوروں نے رہائشی کمروں کی راہ لی۔ فائرنگ کرتے ہوئے حملہ آور مسلسل اللہ و اکبر کی صدائیں بلند کر رہے تھے۔ ان کی نقل و حرکت سے پتہ چل رہا تھا کہ ان کو اندرونی عمارت کا تمام نقشہ پہلے سے دکھایا گیا تھا۔

وہ ہر راہداری سے گزرتے وقت فائرنگ کر رہے تھے تا کہ خوف و ہراس پھیلے اور ڈر کر لوگ باہر نکلیں۔ اس دوران کئی طلبہ عمارت کے مختلف راستوں سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے تاہم کئی طلبہ نے کمروں میں رہنے کو ترجیح دی کہ اگر وہ باہر نکلے تو مار دیے جائیں گے۔

یہی ان کی غلطی تھی۔ اس دوران ایک نے کہا، ’گرینڈ پھینکو، گرینیڈ پھینکو!‘ دراصل وہ چاہتے تھے کہ دھماکوں سے ڈر کر عمارت کے مختلف حصوں میں چھپے لوگ باہر نکلیں اور ان کو قتل عام میں آسانی ہو۔

اس دوران سکیورٹی اہلکار بھی عمارت کے اندر پہنچ چکے تھے لیکن انہیں حملہ آوروں کی لوکیشن کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔

سمیع ہدف کی تلاش میں ایک کمرے میں داخل ہوا اور وہاں موجود طلبہ پر فائرنگ شروع کر دی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں باہر فورسز کو پتہ چل گیا کہ حملہ آور کس طرف ہیں۔ انہوں نے باہر سے بھرپور کارروائی شروع کر دی جس کا انجام تینوں حملہ آوروں کی ہلاکت پر ہوا۔ ادھر ڈرائیور نے صبح جب ان تین حملہ آوروں کو اتارا توخود رکشہ چھوڑ کر قریب خیبر ہسپتال کی عمارت میں داخل ہو کر ہجوم میں گم ہو گیا۔

 کہانی جہاں سے شروع ہوئی تھی وہیں آ کر ختم ہو گئی۔ بلاشبہ یہ پشاور پولیس، حساس اداروں اور سی ٹی ڈی پختونخوا کے گمنام ہیروز کی ایک بڑی کامیابی تھی جو اتنے بڑے پیمانے پر پھیلے اور وسیع نیٹ ورک تک پہنچ گئے، گرفتاریاں کیں۔

آگے عدالتی معاملات چلتے رہتے ہیں جو عموماً وقت طلب ہوتے ہیں اور کیس کا فیصلہ ٹھوس ثبوتوں، قوانین اور جرح کے نتائج پر ہی ہوتا ہے، البتہ پولیس نے اس کیس کی ساری تفتیش انہی معلومات پر مرتب کر لی تھی۔

البتہ ایک سوال اب بھی جواب طلب تھا۔ سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کے اعلیٰ عہدیدار یہ سوچ رہے تھے کہ آخر اتنے بڑے آپریشن کے لیے پیسہ کہاں سے آیا؟ یہ وسائل کہاں سے دستیاب ہوئے؟ ان تمام افراد کو قدم قدم پر پانی کی طرح پیسہ کس نے فراہم کیا؟

ایگریکلچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے واقعے نے مزید سوالوں کو جنم دیا۔ تب کاغذوں میں بکھرے اسی واقعے کے چند ناموں پر ان کی نظر پڑی۔ یہ نام ان کے لیے نئے نہیں تھے۔ تب ان کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اچھا تو پیسہ یہاں سے آیا، کمال ہے ان پر اس پوری کارروائی میں ان کی نظر کیسے نہیں پڑی؟ ابھی چند ماہ پہلے کی ہی تو بات ہے جب۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(اس تحریر کا اگلا حصہ کل ملاحظہ فرمائیے)

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین