فیری میڈوز پریوں کی چراگاہ

قاتل پہاڑ نانگا پربت کے دامن میں خوابوں اور خیالوں جیسی حسین چراگاہ کا کرونا سے بچ بچا کر سفر۔

(سمیرا اشرف)

اس جگہ کا یہ نام شاید اسی لیے رکھا گیا تھا کہ یہ جگہ ہے ہی ایسی، یا پھر یہاں واقعی سفید پریاں اترتی ہوں اور رات کی چاندنی میں اس چراگاہ پر رقص کرتی ہوں، ایک مدہوش پر لطف رقص، جو دنیا و مافیہا وقت اور زمانے کی قید سے آزاد ہو۔ آخر کیسی دکھتی ہوں گی وہ؟

یہ سحر اس وقت ٹوٹا جب ایک دوست نے برف کا گولہ میرے چہرے پر دے مارا ناچاہتے ہوئے ایک شدید اکتاہٹ نے مجھے جکڑ لیا، منہ بسور کر میں نے پوچھا کیا ہے؟ جواب کی بجائے سوال آیا آپ یہاں پہاڑوں کے بادشاہ کے سامنے اس طرح اکیلی بیٹھی کیا کر رہی ہیں۔ ہم پورے ایک گھنٹے سے آپ کی تلاش میں ہیں۔

ایک گھنٹہ میں ایک گھنٹے سے یہاں یوں؟ ایک عجیب سی حیرت نے مجھے گھیر لیا، میں ایک گھنٹے سے ’نانگا پربت‘ کے سحر میں تھی یا شاید اس سے بھی پہلے سے پتہ نہیں میرے تلاش شروع کب کی گئی۔ لاہور سے نکلتے ہوئے کس نے سوچا تھا کہ یہ سفر زندگی کے خوشگوار سفر کی ابتدا ثابت ہو گا۔ کس نے سوچا تھا کہ قاتل کہلائے جانے والا وہ پہاڑ واقعی قتل قلب کا باعث بنے گا۔ لیکن انسان کی سوچ سے آگے اس ہی اس خالق کی سوچ کا آغاز ہوتا ہے۔

ہم صحافی ہیں ہمیں کانوائے دیں یا پھر ہمیں ہماری ذمہ داری پر جانے دیں، چیک پوسٹ پر موجود عملے نے ہماری دونوں شرائط ماننے سے انکار کرتے ہوئے ہمیں بشام ہی رکنے کا مشورہ دیا۔ مگر ہم تین گھنٹے کا سفر کر کے واپس کیوں جائیں؟ یہ وہ پہلی پریشانی تھی جو اس سفر کے دوران پیش آئی۔

معلوم ہوا ہمیں شام پانچ بجے سے پہلے کوہستان چیک پوسٹ عبور کرنی تھی۔ اس علاقے میں سیاحوں کی سکیورٹی کے حوالے سے مسائل ہیں اور ہم تو صحافی ہیں ہمیں تو بالکل نہیں جانے دیا جائے گا نہیں، تو ہم خود خبر بن جائیں گے۔ لہٰذا پی ٹی ڈی سی بشام کا انتخاب کیا گیا۔ بشام جنت کے ٹکڑے جیسا تھا۔ ایک طرف تیز بہتے پانی کا شورآس پاس بلند و بالا پہاڑ اور ان کے درمیان خوبصورت سے لان میں رات کے دو بجے بیٹھے ہم یہ سوچ رہے تھے شکر ہے ہم رک گئے، نہیں تو اس رات کا خوبصورت نظارہ ہم گنوا دیتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صبح پانچ بجے ہم بشام سے نکلے اور دوبارہ کوہستان چیک پوسٹ پہنچے اور نو بجے کے قریب ایک شدید گرم علاقے نے ہمارا استقبال کیا۔ چلاس سنگلاخ چٹانوں اور سفید ریت کے صحرا کے درمیان تپتے علاقے جیسا تھا۔ یہاں ناشتہ کرنے کے بعد ہم نے اپنی منزل کی جانب دوبارہ سفر شروع کیا، رائے کوٹ پہنچے اور وہاں سے تین گھنٹے کا انتہائی خطرناک جیپ ٹریک ہمارا منتظر تھا۔

وائی وائی، وائی وائی یہ وہ الفاظ ہیں جو اس جیپ کے میوزک سسٹم سے نکل کر پوری وادی میں گونج رہے تھے۔ اس علاقے کی موسیقی سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ ہر طرف سنگلاخ پہاڑ تھے اور ان میں تیرنے والے سُر۔ ڈرائیور اچانک بولا، ’وہاں جائے گا تم لوگ؟‘

’نہیں نہیں ہمیں تو فیری میڈوز جانا ہے،‘ میں نے اپنے گائیڈ سے کہا تو وہ ہنسا اور بولا، ’وہیں ہے۔‘

جیپ اس انتہائی خطرناک ٹریک پر تین گھنٹے تک چلتی رہی جب رکے تو سامنے بلکل سامنے نانگا پربت تھا، سنگلاخ پہاڑ یکایک سرسبز و سفید پہاڑوں میں اور ریتیلی تپش اچانک یخ بستہ ہواؤں میں تبدیل ہو گئی۔ ہم نے فورا گرم ملبوسات نکالے اور پہننے لگے اور پھر خبر ملی ابھی تو ٹریک کرنا ہے۔

بس باجی پانچ منٹ اور، یہ ہمارا پورٹر مجھے تقریبا پچھلے تین گھنٹے سے کہہ رہا تھا۔ گھٹنوں تک آتی برف میں انسان سیدھا چل لے بڑی بات ہے یہ تو پھر پہاڑ تھا جو ہر طرح سے میرا امتحان لے رہا تھا۔ چلتے چلتے میں نے اپنے دوست سے کہا، ’اگر مجھے کچھ ہو جائے تو میری امی اور بہن سے بولنا مجھے ان سے بہت محبت ہے۔‘ یہ سن کر سب ہنسنے لگے۔

کبھی میں برف میں گری اور کبھی بہتے گلیشیئر میں گر کر خود برف بن گئی۔ ایک بات تو یقینی تھی زندہ واپسی تقریباً ناممکن ہے۔ لیکن دوستوں نے خوب ہمت بڑھائی۔ جب پانچ گھنٹے بعد بھی منزل نصیب نہ ہوئی تو میں نے ایک دوست سے کہا، ’یہ بندہ ہمیں اغوا کر کے لے جا رہا ہے اور ہم بیوقوف خود جا رہے ہیں، یہاں کوئی فیری میڈوز نہیں ہے۔‘

ہمارے گائیڈ کو بھی کچھ اتا پتہ نہیں تھا۔ اچانک دور سے ہمارے دوسرے گروپ کی آوازیں آنے لگیں، ’ہم پہنچ گئے!‘

شکر کے کلمات کیا ہوتے ہیں، یہ احساس مجھے تب ہوا ہم پہنچے تو ہر طرف اندھیرا تھا صرف ایک ہٹ میں روشنی تھی۔ وہیں ہم نے رکنا تھا۔ کپڑے، جیکٹ، گلوز جوتے، سب بھیگ چکے تھے، جنہیں بدلتے ہوئے میں رو رہی تھی اور سب ہنس رہے تھے۔ صبح تو ابھی ہوئی نہیں تھی پر ہمارا گائیڈ چہک رہا تھا، ’جاگو جاگو وہ دیکھو جس کے لیے ہم یہاں آئے ہیں۔‘

آنکھیں کھلی تو سامنے سفیدی سے سورج کی پہلی پہلی کرنیں ٹکرا کر چاروں جانب پھیل رہی تھیں جیسے کسی ہیرے کی چمک ہو۔ سب تصویریں بنانے لگے لیکن میرے لیے سب تھم گیا تھا۔

اس خوبصورت پہاڑ کی جانب دیکھو تو دل میں ایسا جنون پیدا ہوتا ہے کہ بس اسے سر کر لیں وہ اپنی طرف بلاتا ہے، مدہوش کرتا ہے اور اکثر اسے سر کرنے کا عزم جان لے لیتا ہے۔ لوگ اس لیلیٰ کے سحر میں جکڑے مجنوں کی طرح جان دے بھی دیتے ہیں، تبھی اسے قاتل پہاڑ ’دا کلر ماؤنٹین‘ کہا جاتا ہے۔ اس سحر کا اندازہ مجھے کبھی نہ ہوتا اگر میں اس کے سامنے خود کو کسی مجنوں کی طرح محسوس نہ کرتی۔

وہ پہاڑ وہ وادیاں اور سیاحت کے پیشے سے منسلک تمام لوگ اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اس خوبصورت سفر میں میرے گائیڈ بننے والے اکمل خان سیاحت کے پیشے سے چھ سال سے وابستہ ہیں ان کا کہنا ہے، ’اب تو سیاحت پیشہ کم اور جنوں زیادہ ہے، میں ان علاقوں میں نہیں جاتا تو میرا دم گھٹتا ہے۔‘

اکمل کو حکومت سے یہ شکوہ بھی ہے کہ کرونا (کورونا) وبا کے پیش نظر حکومت پاکستان نے سب سے زیادہ سیاحت کے شعبے کو نظر انداز کیا۔ اسی برے وقت میں پاکستان ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو نہایت دل شکن اقدام ہے۔ پاکستان میں ٹورزم کے ذریعے ہی کوہستان جیسے علاقوں میں تبدیلی آئی، لوگوں نے اسے اپنا ذریعہ معاش بنایا جس سے ان علاقوں کی قسمت بدلی۔ موجودہ حکومت نے اس کامیابی کا سہرا تو اپنے سر سجا لیا لیکن ان لوگوں کی کسی قسم کی کوئی مدد نہیں کی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کرونا وبا میں غیر یقینی صورتحال اور حکام کے روز بدلتے فیصلوں نے بھی ہماری مشکلات میں بجائے کمی کے بہت اضافہ کیا۔ کئی دفعہ ٹورازم کھولنے کے فیصلوں سے ہوٹل، ٹرانسپورٹ اور دیگر سروسز سے وابستہ لوگوں نے اپنی جمع پونجی سروسز کو تیار کرنے پر خرچ کر دی جس سے وہ زیادہ معاشی مشکلات میں پھنس گئے۔ ان میں سب سے زیادہ ہوٹلز مالکان اور ٹرانسپورٹرز متاثر ہوئے، یہ وہ سفید پوش لوگ ہیں جو اپنی غربت یا پریشانی کا رونا بھی نہیں رو سکتے اور حکومت پاکستان کی طرف سے ملنے والی 12 ہزار کی امداد کے مستحق بھی نہیں۔

’ایسے وقت میں ان موٹلز کو بند کرنے کا بدترین فیصلہ کیا گیا جب ان کی اہمیت اجاگر ہوئی تھی، ان موٹلز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ خوبصورت ترین مقامات پر تعمیر ہونے والے واحد موٹلز ہیں جن کے علاوہ سیاحوں کے پاس کوئی اور بہتر جگہ میسر ہی نہیں ہے.چترال میں مستوج پی ٹی ڈی سی، کیلاش پی ٹی ڈی سی، راما پی ٹی ڈی سی، پھنڈر پی ٹی ڈی سی۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں پی ٹی ڈی سی کے علاوہ کوئی بہتر آپشن ہی نہیں ہے اور ان مقامات پر پی ٹی دی سی کئی سالوں سے بہترین سروس مہیا کر رہا تھا۔‘

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کے سٹاف کی خدمات کو سراہا جاتا مگر انہیں تو سرے سے ہی فارغ کر دیا گیا جو سیاحتی شعبہ سے وابستہ افراد کے لیے انتہائی حیران کن اور قابل افسوس امر ہے۔

پاکستان سیاحتی انڈسٹری کی بدولت دنیا میں اپنا نام بنا رہا ہے۔ حکومت وقت اس انڈسٹری کی مشکلات میں کمی کر کے زرمبادلہ کمانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ساکھ بھی بہتر کر سکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تصویر کہانی