اس شخص کی کہانی جو دو بار مرا

ایک شخص کی کہانی جو موٹر سائیکل حادثے اور منشیات کی زیادہ مقدار کی وجہ سے دو منٹ تک مرا رہا

(پکسا بے)

یہ زندگی سے ہماری دلچسپی ہے جو موت کو بھی ہمارے لیے سحر انگیز بنا دیتی ہے۔ کیا ہم کسی قسم کی مابعد الطبیعاتی زندگی جیتے ہیں؟ کیا ہم اس دوران کسی ایسے تجربے سے گزرتے ہیں جسے ’شعور‘ کہا جا سکے؟ 

موت انسانوں کی تخلیق کردہ اصطلاح ہے۔ بعض کے نزدیک یہ آغاز ہے جبکہ بعض اسے انتہا، اور اکثریت اسے ٹوٹ پھوٹ کی وہ حالت جب علمِ طب جواب دے جاتا ہے۔

 شعور ایسی چیز ہے جسے فلسفہ یا سائنس پوری طرح بیان نہیں کر سکتے بلکہ یہ کسی جاندار کا تجرباتی عمل ہے، اس لیے کوئی ایسا شخص جو طبی طور پر کچھ دیر موت سے ہمکنار ہو چکا ہو، وہ ہمارے لیے زندگی کے دوسری طرف جھانکنے کی بہترین کھڑکی ہے۔

ایک بار موٹر سائیکل حادثے اور دوسری بار تکلیف کش ادویات کی زیادہ مقدار کی وجہ سے ایک شخص جو دو منٹوں میں ’دو بار مرا‘ اس نے ویب سائٹ ’ریڈ اٹ‘ کے پروگرام ’جو چاہو پوچھو‘ (Ask Me Anything) میں شرکت کی اور اپنے تجربات سے متعلق سوالات کے جواب دیے۔

 موت کے احساس کے بارے میں۔۔۔

’مجھے کچھ پتہ نہیں، یہ بس تاریک خلا سا تھا۔ اس میں کچھ بھی نہیں تھا نہ کوئی خیال نہ شعور۔ دونوں مرتبہ میں ’وہاں‘ نہیں تھا۔ ہر طرف سیاہی چھا گئی تھی۔ میں اسے ایسے بیان کرنا چاہوں گا جیسے آپ تھوڑی دیر سو جاتے ہیں۔ کسی خواب کے بغیر ایک مختصر نیند کہ جب آپ اٹھتے ہیں تو لگتا ہے آپ کافی دیر سے سو رہے تھے جبکہ حقیقت میں یہ محض پندرہ منٹ کی ہوتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’مجھے صرف اس وجہ سے پتہ ہے کہ ڈاکٹر یہ سب معلومات مجھ سے بیان کرنے کے پابند تھے۔ انہوں نے کہا، جی، آپ کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ آپ کچھ دیر کے لیے مر گئے تھے۔ ہاہاہاہا۔

’اگر ڈاکٹروں نے اس کے متعلق مجھ سے کوئی بات نہ کی ہوتی تو میں اسے محض بغیر خواب مختصر نیند سمجھتا۔‘

 کیا انہوں نے ’سیاہ خلا‘ واقعی محسوس کیا تھا یا ان کی یادداشت نے خالی جگہ کو ایسے ہی پر کر دیا تھا۔۔۔

’یہ ظاہر ہے صرف ایک خلا نہ تھا۔ یہ بغیر خواب نیند جیسا تھا جب آپ محض اٹھتے نہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ وقت بہت آگے چلا گیا۔ آپ جانتے ہیں کہ کچھ دیر آپ سوئے رہے۔ عین اسی وقت آپ نے اگر خواب نہیں دیکھا تو آپ کسی بھی تجربے سے گزرنا یاد نہیں رکھ سکتے۔ تو جی ہاں اور نہیں۔ میں نے کچھ محسوس کیا اور وہ کچھ کچھ بھی نہ تھا۔‘ 

مرنے کے احساس پر۔۔۔

’پہلا احساس ایکسیڈنٹ سے بالکل کچھ ہی دیر پہلے کا تھا اور میرے دماغ میں محض ایک چیز تھی، ’اوہ شِٹ۔‘

’دوسری بار کا مجھے کوئی اندازہ نہیں۔ میں شدید تکلیف میں تھا کہ اچانک کچھ بھی نہیں تھا، یہاں تک کہ زندگی بھی نہ تھی۔ پھر میں دوبارہ بیدار ہوا اور دوبارہ تکلیف محسوس ہونے لگی تھی۔‘

کیا موت کی مختلف وجوہات مختلف تجربات سے گزارتی ہیں۔۔۔

’دونوں تجربات ہوبہو ایک جیسے تھے بس ایک فرق یہ ہے کہ ایکسیڈنٹ سے چند سیکنڈ پہلے کی کیفیت مجھے بہت واضح یاد ہے۔ لیکن اگر آپ میری بات سمجھ سکیں تو دوسری بار تکلیف اس قدر شدید تھی کہ مجھے اپنے اردگرد کا ہوش نہ تھا۔‘

 دوسرے لوگوں کی موت کے قریب تجربات کے بیانات۔۔۔

 ’میرا خیال ہے ایسی صورت حال میں ان کے دماغ ابھی فعال تھے۔ وہ جس تجربے سے گزرے وہ خواب کی ایک شکل تھا۔‘

 موت کی اطلاع دیے جانے پر۔۔۔

’میرا پہلا رد عمل تھا، اوہ میرے خدا، یہ بہت زبردست بات ہے۔ اب میں اپنے دوستوں کو بتا سکتا ہوں کہ میں مر چکا تھا اور دوبارہ زندہ ہوا وغیرہ لیکن ان میں سے اکثر خیالات مارفین کے زیر اثر تھے۔

 ’پھر حقیقت سے آنکھیں چار ہوتی ہیں اور مجھے ادراک ہوتا ہے کہ اوہ میں اس وقت مردہ ہو سکتا تھا۔ پھر مجھے سمجھ آنا شروع ہوئی کہ میری حالت دراصل کتنی خراب تھی۔

 ’مجھے یقیناً اس کا کم خوف محسوس ہوا۔ میں اب جانتا ہوں کہ موت نیند سے زیادہ بری نہیں ہے۔ جب آپ مرتے ہیں تو بس آپ موجود نہیں ہوتے اس لیے ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔‘

 مذہب اور زندگی بعد از موت پر۔۔۔

’میں ہمیشہ سے ایک ملحد رہا ہوں لیکن میرے اندر کچھ ایسا ہمیشہ ضرور تھا جسے خدا، جنت یا ہم سے بڑی کسی چیز کی امید تھی۔ میرا مطلب ہے کون نہیں چاہے گا کہ وہاں جنت نہ ہو؟

میں ابھی تک ایک ملحد ہوں اور ہمیشہ رہوں گا۔ لیکن میرا خیال ہے کہ آپ کا ایمان آپ کا ایمان ہے۔ ہم فقط یہ کر سکتے ہیں کہ اپنے تجربات دوسروں سے بیان کریں اور لوگوں کو ان کی اپنی رائے بنانے دیں۔'

 موت کے بعد زندگی کو دیکھنے کا لائحہ عمل۔۔۔

’موج مستی میں زندگی گزارنا اور دوسروں کی زندگی جس حد تک میرے لیے ممکن ہے بہتر بنانا یہی میرا مقصد ہے۔ شخصی کامیابیاں میرے مرنے کے بعد میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ واحد چیز جو میرے مرنے کے بعد زندہ رہے گی وہ زندہ لوگوں پر میرے اثرات ہیں۔ مجھے امید ہے میرے اثرات مثبت ہوں گے۔'

(یہ تحریر پہلی بار 2017 میں شائع ہوئی تھی)

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس