ایک لرزہ خیز ناول جو 2020 کی دنیا کا عکاس ہے

امریکی مصنف رومان عالم کے اکتوبر میں شائع ہونے والے ناول کو ابھی سے کلاسک قرار دیا جا رہا ہے۔ اس ناول میں ایسی کیا خاص بات ہے؟

کئی مبصرین نے اسے سال کے بہترین ناولوں میں سے ایک قرار دیا ہے (ایکو پبلشرز)

ہالی وڈ کے شہرۂ آفاق ہدایت کار سٹیون سپیل برگ کو جب 1975 میں فلم ’جاز‘ بنانے کی پیش کش ہوئی تو انہوں نے ایک شرط پر اسے قبول کیا کہ وہ فلم کے پہلے گھنٹے میں شارک کو نہیں دکھائیں گے۔

بظاہر تو یہ بات کامن سینس کے خلاف جاتی ہے۔ ایک آدم خور شارک کی خونخواری دکھانے کا سب سے بہترین طریقہ یہی ہو سکتا ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ انسانوں کو شکار کرتے ہوئے دکھایا جائے۔

سپیل برگ کے اس فیصلے کے نتیجے میں کیا ہوا کہ فلم کا سسپینس، لوگوں کی دہشت اور اندیشوں کی ہیبت رفتہ رفتہ سپرنگ کی طرح دبتی گئی۔ ہر منظر پر لگتا، اب شارک حملہ کرے گی، اب اس کے چیرتے پھاڑتے دانت دکھائی دیں گے، حتیٰ کہ جس وقت شارک پہلی بار نظر آئی تو اس کا نفسیاتی اور جذباتی اثر اس انتہا تک پہنچ چکا تھا کہ ناظرین کے تنے ہوئے اعصاب ٹوٹنے کی حد تک پہنچ گئے اور بعض رپورٹوں کے مطابق سینما کے اندر کچھ لوگ بےہوش ہو گئے۔

رومان عالم نے اپنے نئے ناول ’دنیا کو پیچھے چھوڑ دو‘ (Leave the World Behind) میں اسی کلیے سے صرف استفادہ ہی نہیں کیا، بلکہ اسے کئی درجے اوپر لے گئے ہیں۔ تمام ناول پر ایک مہیب خطرہ، ایک فوری سانحہ سیاہ بادل کی طرح منڈلاتا رہتا ہے، لیکن یہ خطرہ کبھی پوری طرح سامنے نہیں آتا، یہ بادل کبھی کھل کر نہیں برستا اور قاری کو ہمیشہ ’ایج آف دا سیٹ‘ پر رکھتا ہے کہ جب دروازہ کھلے گا تو نہ جانے کیا ہو گا، جب گاڑی اگلا موڑ مڑے گی تو آگے کیا تباہی منہ کھولے منتظر ہو گی۔ صدمے، سانحے، وقوعے کی یہی مسلسل توقع قاری کو جلد سے جلد صفحے الٹنے پر مجبور کرتی رہتی ہے۔

سپیل برگ کے ہاتھ بندھے تھے کہ فلمی میڈیم کی مناسبت سے آخری گھنٹے میں شارک کو قریب و دور سے بار بار دکھا دکھا کر اس کی دہشت ناکی اجاگر کرنے کے کوشش کرتے رہے، لیکن رومان عالم کے پاس ایسی کوئی مجبوری تھی، ان کی جاز میں آخر تک کوئی شارک تو کیا، ٹراؤٹ تک نظر نہیں آتی۔

 ناول کی صنف Apocalyptic Fiction کی ہے اور اس کی فضا دنیا کی تباہی کے تاثر سے بری طرح لت پت ہے، لیکن ناول کے اندر کوئی حادثہ رونما ہوتے، کوئی بڑا واقعہ پیش ہوتے نہیں دکھایا جاتا۔ اس کے باوجود رومان عالم نے اپنی تیکھی نثر اور توانا منظر نگاری سے وہ نقشہ کھینچا ہے کہ درختوں کے پتے ہلنا، ایک ہرن کا گھر کے باہر کھڑے ہو کر اندر دیکھنا اور راستہ بھٹکے مرکزی کردار کی راستے میں ہسپانوی بولتی، آنسو بہاتی عورت سے مڈبھیڑ اتنے لرزہ خیز واقعات بن جاتے ہیں جو کسی بڑے سے بڑے حادثے کی منظر کشی سے حاصل نہ ہو سکتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رومان عالم امریکی ناول نگار ہیں اور اس سے پہلے ان کے دو ناول شائع ہو چکے ہیں۔ یہ ناول اس سال اکتوبر میں شائع ہوا تھا اور دنیا بھر میں اس کی تعریف و توصیف ہو رہی ہے، جو پہلے ہی نیشنل بک ایوارڈ کے لیے شارٹ لسٹ ہو چکا ہے اور کئی اداروں کی بیسٹ سیلر فہرستوں میں شامل ہے۔ توقع ہے کہ جب سال کی بہترین کتابوں کی فہرستیں شائع ہوں گی تو اس ناول کو نمایاں مقام دیا جائے گا۔

ناول میں نیویارک کے علاقے بروکلین کا ایک جوڑا اپنے دو ٹین ایج بچوں کے ہمراہ لانگ آئی لینڈ کا ایک گھر ایک ہفتے کے لیے کرائے پر لے کر چھٹیاں منانے پہنچتا ہے۔ گھر ان کی توقعات سے بڑھ کر عالیشان ہے، بالکل الگ تھلگ، دیہی علاقے کے عین بیچوں بیچ، شہر کے ہنگاموں اور تھکا دینے والی ہماہمی سے دور، جہاں سے الگ اک جزیرہ نما، جہاں پہنچ کر انسان واقعی ’دنیا کو پیچھے چھوڑ‘ دیتا ہے۔

 پہلا دن تو مزے کا گزرا، بچوں کےساتھ گپ شپ، نئے گھر میں کھانا پکانے کا تجربہ، سوئمنگ پول، قریبی سمندر کی سیر۔ اگلی رات دیر گئے دروازے پر دستک ہوتی ہے، جو دونوں میاں بیوی کو دہلا کر رکھ دیتی ہے۔ اتنی رات اس ویرانے میں کون آیا ہے؟ کوئی ڈاکو؟ کوئی پاگل؟ سیریل کلر؟

لیکن دروازے پر ایک معمر سیاہ فام جوڑا پریشان حال کھڑا ہے، جو یہ کہہ کر سفید فام جوڑے کے سروں پر یخ پانی کی بالٹی انڈیل دیتا ہے کہ وہ اس گھر کے مالک ہیں اور کسی ’ایمرجنسی‘ کی وجہ سے رات یہاں گزارنا چاہتے ہیں۔

یہاں سے ناول اپنی اصل اور تاریک آنکھیں دکھانا شروع کرتا ہے۔ پہلے پہل تو میاں بیوی، خاص طور پر بیوی کو یقین نہیں آتا کہ یہ کالے اتنے پرتعیش گھر کے مالک کیسے ہو سکتے ہیں؟ کہیں یہ گھر کے ملازم تو نہیں؟ کہیں یہ کسی مذموم مقصد کی خاطر تو گھر میں نہیں گھسنا چاہتے؟

پھر اس ’ایمرجنسی‘ کا پتہ چلتا ہے، لیکن اصل میں کیا ہوا، اس کا پتہ کسی کے پاس نہیں۔ یہیں سے وہ مرحلہ آتا ہے جس میں ناول قاری کو رولر کوسٹر پر چڑھاتا ہے، اور آخر تک ایک موہوم، غیر مرئی ہیبت میں جکڑے رکھتا ہے۔ ایک کے بعد ایک دہلا دینے والا واقعہ، رونگٹے کھڑے کر دینے والا ماجرا، لیکن قاری تو رولر کوسٹر کی سیٹ پر جکڑا ہوا ہے، وہ کیسے منظر سے ہٹ جائے؟ اس کی آنکھیں تو ’اے کلاک ورک اورنج‘ کے کردار ایلکس کی آنکھوں کی طرح چمٹی سے پکڑی ہوئی ہیں، وہ کیسے پلکیں جھپکے؟

’دنیا کو پیچھے چھوڑ دو‘ کے موضوعات تو کئی ہیں لیکن ایک موضوع جو بار بار سامنے آتا ہے، وہ یہ ہے کہ دنیا کا نظام نہ صرف کتنا پیچیدہ اور کتنا ناقابلِ فہم ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ کتنا نازک بھی ہے کہ کوئی معمولی سا ان دیکھا حادثہ، کوئی ان بوجھا واقعہ بھی ایسا ڈامینو ایفیکٹ پیدا کر سکتا ہے جو ساری دنیا کو دیکھتے ہی دیکھتے تہس نہس کر ڈالے۔

اگر پچھلے سال کسی کو یہ بات ناقابلِ یقین لگتی تو لگتی، 2020 میں بسنے والے اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ بال کی نوک سے لاکھ گنا مہین جرثومہ سارے نظام کو یوں تلپٹ کر کے رکھ سکتا ہے جیسے آئینہ خانے کو بےقابو اندھا بھینسا۔ اس لیے 2020 کے گیارہویں مہینے کا قاری کہیں زیادہ آسانی سے ناول کی دنیا کا اسیر بن جاتا ہے۔ 

 حیرت کی بات ہے کہ رومان عالم نے یہ ناول کرونا کے بحران سے پہلے لکھا تھا۔ اس وبا نے جہاں کئی دوسری چیزوں کو بےمعنی اور بےوقعت بنا دیا ہے، وہیں ’دنیا کو پیچھے چھوڑ دو‘ کی کاٹ میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔

اس ناول کی بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ نئے حالات کے لیے نئی تعبیر ساتھ لے کر آیا ہے۔ بڑے ادب کی یہی نشانی ہوتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ادب