عمران خان کے پسندیدہ نومسلم سکالر علامہ اسد کون ہیں؟

یہودی خاندان سے تعلق رکھنے والے علامہ محمد اسد جن کی خدمات کو علامہ اقبال، علامہ سلیمان ندوی اور مولانا مودودی نے بھی سراہا۔

علامہ محمد اسد ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے تھے (پبلک ڈومین)

 وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اپنی سوانح عمری ’میں اور میرا پاکستان‘ میں لکھا ہے کہ چارلز ایٹن کے علاوہ جس نو مسلم نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ علامہ محمد اسد (لیوپولڈ وائس) ہیں۔ بہت سے لوگ سوال کر رہے ہیں کہ علامہ اسد کون ہیں اور ان ایسی کیا بات تھی جس سے عمران خان متاثر ہوئے۔ اس تحریر میں ہم انہی سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کریں گے۔

علامہ اسد کا تعلق آسٹریا سے تھا اور وہ 1900 میں ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا نام لیوپولڈ وائس رکھا گیا۔ ان کے والد انہیں سائنس دان بنانا چاہتے تھے لیکن انہیں طبعی علوم سے کوئی رغبت نہ تھی۔ انہوں نے کچھ عرصہ آسٹریا کی فوج میں بھی گزارا۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر وہ ویانا یونیورسٹی میں داخل ہو گئے اور دو سال تک فلسفہ اور آرٹ کی تعلیم حاصل کرتے رہے۔
وہ یورپ کے بہت سے نوجوانوں کی طرح ذہنی پراگندگی اور پریشان خیالی سے دوچار تھے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے دماغ میں اپنے موروثی مذہب کی حقانیت کے بارے میں شکوک پیدا ہونا شروع ہوگئے۔ آخر کارانہوں نے یہودیت سے منہ موڑ لیا۔
انہوں نے اپنے والد کی خواہش کے برعکس یونیورسٹی چھوڑ دی اور 1920 میں جرمنی کے دارالحکومت برلن چلے گئے۔ وہاں انہیں بطور صحافی ایک اچھی ملازمت مل گئی، لیکن انہوں نے جلد ہی یہ ملازمت چھوڑ دی اور 1922 میں اپنے ماموں کے پاس یروشلم چلے گئے جو وہاں بطور نفسیاتی معالج کام کر رہے تھے۔

فلسطین میں قیام کے دوران انہوں نے وہاں کی صورت حال کے بارے میں رپورٹیں مغربی اخبارات کو بھیجنا شروع کر دیں۔ اس کے نتیجے میں جرمنی کے ایک موقر اخبار نے انہیں مشرق وسطیٰ میں اپنا نمائندہ مقرر کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے دو اخبارات سے بھی مراسلہ نگاری کے معاہدے کیے۔
پونے دو سال بعد وہ دوبارہ برلن چلے گئے۔ وہاں مختصر قیام کے بعد وہ دوبارہ مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ ہو گئے۔ وہ 1924 میں قاہرہ پہنچے۔ وہ دو سال تک اپنی صحافتی ذمہ داریوں کے سلسلے میں مصر، اردن، شام، حجاز، عراق، کردستان، ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا کے شہروں سمرقند اور بخارا کا سفر کیا۔ وہ 1926 میں ایک دفعہ پھر برلن واپس چلے گئے اور اپنے پرانے اخبار سے منسلک ہو گئے۔ انہوں نے ایلسا نامی ایک خاتون سے شادی کر لی جو ان سے 22 سال بڑی تھیں۔

اسی دوران ان کی روحانی کایاکلپ ہوئی اور انہوں نے 1926 میں ڈاکٹر عبدالجبار خیری کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسد نے مغربی تہذیب کو دجالی و شیطانی تہذیب قرار دیا ہے۔ وہ جنوری 1927 میں اس تہذیب سے اپنا تعلق ختم کر کے حجاز چلے گئے۔ اسی ماہ حج کے دوران ملیریا کے باعث ان کی بیوی انتقال کر گئیں۔ وہ تقریباً پانچ سال تک سعودی عرب میں قیام پذیر رہے۔ اس عرصے میں ان کا شمار سعودی عرب کے بانی ابن سعود کے خاص مقربین میں ہونے لگا۔ انہوں وہاں ایک عرب خاتون سے شادی کی لیکن یہ شادی چند ماہ میں ختم ہو گئی۔ اس کے بعد ان کی تیسری شادی ہوئی جن سے ان کے اکلوتے بیٹے طلال اسد کی ولادت ہوئی۔
اس کے بعد لیبیا کے جنوبی علاقوں میں شروع ہونے والی سنوسی تحریک ان کی امیدوں کا مرکز بن گئی۔ انہوں نے کئی ہفتوں کے پر خطر سفر کے بعد سنوسی مجاہدین کے سپہ سالار عمر المختار سے البرقہ میں ملاقات بھی کی۔ ان کی واپسی کے چند ماہ بعد اطالوی فوج نے مجاہدین کو شکست دے دی۔ عمر المختار کو زخمی حالت میں گرفتار کر کے 15 ستمبر 1931 کو پھانسی دے دی گئی۔ یہ خبر ان کے لیے شدید مایوسی کا باعث تھی۔

وہ 1932 میں مدینہ سے ہندوستان چلے آئے۔ علامہ اقبال، مولانا سلیمان ندوی، سید ابوالاعلیٰ مودودی اور نواب بھوپال حمیداللہ خان جیسی شخصیات نے دل کھول کر ان کی علمیت اور جذبۂ اسلامیت کو سراہا۔ مودودی صاحب نےان کے بارے میں ایک خط میں لکھا: ’دورجدید میں اسلام کو جتنے غنائم (مال غنیمت) یورپ سے ملے ہیں ان میں سے یہ سب سے زیادہ قیمتی ہیرا ہے۔ اسلام کی سپرٹ اس میں پوری طرح حلول کر گئی ہے۔ اور اسلام کواس نے ان علما سے زیادہ اچھی طرح سمجھا ہے‘ جو 50 برس سے درس وتدریس میں مشغول ہیں۔‘ (بحوالہ خطوط مودودی)۔
علامہ اقبال کی خواہش تھی کہ ایک ایسا علمی مرکز قائم کیا جائے جہاں دینی اور دنیاوی علوم کے ماہرین جمع ہوں اور وہ اسلام کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق پیش کریں اور ایسی کتابیں لکھیں جو فکری انقلاب برپا کر دیں۔

ان کی اس خواہش کی تکمیل کی ایک صورت چودھری نیاز علی کے تعلیمی منصوبے دارالاسلام کے باعث پیدا ہوئی۔ نیاز علی ایک متمول زمیندار تھے۔ انہوں نے 1935 میں گورداس پور کے شہر پٹھان کوٹ سے چند میل کے فاصلے پر جمال پور نامی قصبہ میں ایک ایسے ادارے کے قیام کا ارادہ ظاہر کیا جہاں قابل اور صاحب بصیرت سکالرز جدید تعلیم یافتہ افراد اور علما کو قرآن پڑھائیں اور اسلامی موضوعات پر تحقیق کریں۔

اسد نے اس منصوبے کو سراہا اور اسے جدید مغربی تعلیم کے پھیلائے ہوئے زہر کے لیے ایک تریاق قرار دیا۔ علامہ اقبال نے بھی اس منصوبے میں گہری دلچسپی لی اور انہوں نے کہا تھا کہ اس ادارہ کو ایسا بنائیں گے کہ اس کا اثر یورپ تک پہنچے گا۔ وہ نزدیک مسلمانوں کی سب سے بڑی ضرورت فقۂ اسلامی کی تشکیل جدید کو مسلمانوں کی سب سے بڑی ضرورت قرار دیتے تھے۔ وہ اس ادارے سے یہ کام لینا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ اسد اس ادارے کی سربراہی کریں لیکن ان کے لیے یہ ممکن نہ ہوا اور اس طرح مودودی صاحب اس ادارے کے سربراہ بن گئے۔ تاہم علامہ اقبال، محمد اسد اور سید مودودی نے دینی اور جدید علوم کے ماہرین کی ایک قابل جماعت تیار کرنے کا جو خواب دیکھا تھا وہ حقیقت کا روپ نہ دھار سکا۔



اسد دوسری جنگ عظیم کے دوران تقریباً چھ سال تک پس دیوار زنداں رہے۔ رہائی کے بعد انہوں نے ڈلہوزی نامی قصبے میں سکونت اختیار کی۔ ڈلہوزی پٹھان کوٹ سے اسی کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ایک صحت افزا پہاڑی مقام ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کے اذہان کو اندھی عقیدتوں اور زوال آمادہ رسومات سے آزاد کرانے کے لیے عرفات نامی انگریزی رسالے کا آغاز کیا۔
قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور چلے آئے۔ لاہور میں انہیں محکمہ اسلامی تعمیرنو کا ناظم بنا دیا گیا۔ انہوں نے اسلامی دستور کا ایک خاکہ مرتب کیا۔ مرکزی حکومت نے حکومت پنجاب سے محمد اسد اور ان کے محکمہ کی سرگرمیوں کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا۔ ان پر ریاست کو رجعت پسندی کی طرف دھکیلنے کا الزام لگایا گیا۔ اس کے نتیجے میں انہیں ایک مفصل یادداشت مرکزی حکومت کو پیش کرنا پڑی۔ اس یادداشت میں انہوں نے علما کے فہم اسلام اور ان کے تصور اسلامی ریاست پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسلامی ریاست اور شریعت کا ایک متحرک اور ترقی پسند تصور پیش کیا۔ لیکن مقتدرحلقوں کی مخالفت میں کوئی کمی نہ آئی اور 1949 کے اوائل میں یہ محکمہ ختم کر دیا گیا۔
اس کے بعد ان کی خدمات وزارت خارجہ کے سپرد کر دی گئیں۔ شروع میں انہیں مشرقِ وسطیٰ ڈویژن کا ناظم مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں انہیں نیو یارک بھیج دیا گیا۔ وہاں وہ پولا حمیدہ نامی ایک نومسلم خاتون سے شادی کرنا چاہتے تھے لیکن وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے شادی کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ چنانچہ بادل نخواستہ وہ 1952 میں وزارت خارجہ سے مستعفی ہو گئے۔ انہوں نے 1957 میں تقریباً آٹھ ماہ کے لیے پنجاب یونیورسٹی میں بھی ملازمت کی۔
محمد اسد نے تین جلدوں میں ترجمہ و تفسیر کا منصوبہ بنایا تھا۔ انہوں نے 1976 تک ترجمہ و تفسیر کا کام مکمل کر لیا تھا۔ تاہم اکتوبر 1964 میں پہلی جلد کی اشاعت کے بعد دوسری اور تیسری جلد کی طباعت اور اشاعت کا کام تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔ جلد اول کی اشاعت اور اس کی تقسیم میں رابطہ عالم اسلامی نے سعودی عرب کے ایما پر کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ رابطہ عالم اسلامی نے اس کے نسخے کثیر تعداد میں خرید کر تقسیم بھی کیے تھے۔ اسد نے بعض قرآنی آیات کے ترجمہ و تفسیر میں عقلی تاویلات سے کام لیا تھا، جس کے سبب رابطہ کے بعض اراکین کی طرف سے اس پر اعتراضات کیے گئے۔
چنانچہ رابطہ کی طرف سے ترجمہ کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی۔ اس کے ارکان میں سید ابو الاعلیٰ مودودی اور سید ابوالحسن علی ندوی شامل تھے۔ کمیٹی کے ارکان نے اسد کے ترجمہ و تفسیر قرآن کو روایتی راسخ العقیدہ سوچ سے ہم آہنگ نہ پاکر رابطہ کی طرف سے اس کی اشاعت اور تقسیم روک دینے کی سفارش کی تھی۔ اس فیصلے سے ان کا دل بہت دکھا۔ انہوں نے ڈاکٹر رشید جالندھری کے نام ایک خط میں لکھا کہ یہ نام نہاد علما تازہ ہوا کے ہر جھونکے سے خو ف زدہ رہتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان لوگوں نے اسلام کو چھوئی موئی بنا دیا ہے۔ وہ کئی سال تک رابطۂ عالمی اسلامی نے یہ معاملہ سلجھانے کی کوشش کرتے رہے لیکن انہیں کامیابی نہ ہوئی۔ اس تنازعے کے باعث ان کے لیے مالی مسائل پیدا ہوئے۔

اسد اجتہاد کے پرجوش حامی تھے۔ وہ ان علما سے اتفا ق نہیں کرتے جنہوں نے شرائط اجتہاد کی ایک طویل فہرست بنا کر اسے عملی طورپر ناممکن بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق فقہ کا قدیم سرمایہ فرسودہ اور ناکارہ ہو چکا ہے (اسلامی ریاست کی تشکیل جدید)۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شروع میں جہاد و قتال کے بارے میں محمد اسد کا نقطۂ نظر خاصا سخت تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں نرمی آتی گئی۔ اپنی آخری تحریروں میں انہوں نے جہاد (قتال) کو سراسر ایک دفاعی اقدام قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اسلام میں جارحانہ اور اقدامی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں۔

وہ اسلامی ریاست کے قیام کی غرض سے طاقت کے استعمال اور انقلاب سے متعلق سید قطب اور آیت اللہ خمینی کے نظریات پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سیاسی انقلاب کا تصور سراسر مغربی ہے جو زبردستی مسلمانوں کے ذہنوں میں ٹھونسا جا رہا ہے۔ وہ علما کی اکثریت کے برخلاف اسلامی ریاست میں مختلف سیاسی جماعتوں کے وجود کو خلاف اسلام قرار نہیں دیتے۔ مجلس شوریٰ کے قیام کے حوالے سے بھی ان کی رائے ان علما سے مختلف ہے جو نامزدگی کے ذریعے اس کی تشکیل کے حامی ہیں۔
شاید ایسی تبدیلیوں کے باعث مودودی صاحب نے ان پر تنقید کرنی شرو ع کر دی تھی۔ انہوں نے اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ اسد ’قبول اسلام کے ابتدائی زمانے میں راسخ العقیدہ اور باعمل مسلمان تھے‘ مگر بعد میں آہستہ آہستہ انہوں نے نام نہاد روشن خیال مسلمانوں کے انداز اپنا لیے، بالکل اصلاح پسند یہودیوں کی مانند۔ حال ہی میں انہوں نے اپنی عرب مسلمان اہلیہ کو طلاق دے کر ایک ماڈرن لڑکی سے شادی کر لی ہے اور یوں ان کا انحراف افسوس ناک انداز میں حتمی صورت اختیار کر گیا ہے۔‘
وہ کچھ عرصہ جنیوا میں قیام پذیر رہے اور پھر مراکش چلےگئے۔ انہوں نے 1978 میں جبرالٹر میں دارالاندلس نامی ایک اشاعتی ادارہ قائم کیا۔ وہ 1983 میں پرتگال منتقل ہوئے اور چارسال بعد سپین چلے گئے۔ ان کی زندگی کے آخری سال سپین کے شہر مالقہ میں گزرے۔ وہیں ان کا 20 فروری 1992کو انتقال ہوا۔ انہیں غرناطہ کے مسلم قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی تجہیز و تکفین کا انتظام سعودی حکومت نے کیا تھا۔

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا!

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ