علامہ اقبال: ’جتنی فکر انہیں کشمیر کی تھی اتنی پاکستان کی نہیں تھی‘

نامور کشمیری مورخ محمد یوسف ٹینگ کا کہنا ہے کہ اقبال اُس وقت کشمیر کی آزادی کی بات کرتے تھے ’جب پاکستان بننے کا تصور بھی پیدا نہیں ہوا تھا۔‘

محمد یوسف ٹینگ کے مطابق علامہ اقبال کے آبا و اجداد بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع کولگام کے ساپر نامی گاؤں میں رہتے تھے۔ (پبلک ڈومین)

’علامہ اقبال تحریک آزادی کشمیر کے حقیقی بانی ہیں۔ یہ وہ شخصیت تھیں جنہوں نے سب سے پہلے کشمیر کی آزادی کا پرچم اٹھایا۔ یوں کہوں کہ وہ کشمیر کی آزادی کے پرچم بردار تھے۔ انہیں جتنی فکر کشمیر کی تھی اتنی پاکستان کی نہیں تھی۔ وہ ہمارے خونی رشتہ دار تھے۔‘

یہ الفاظ نامور کشمیری مورخ، محقق، نقاد اور مصنف محمد یوسف ٹینگ کے ہیں جنہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے ’نظریہ کشمیر‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایسا کہا۔

ان کے بقول علامہ اقبال اُس وقت کشمیر کی آزادی کی بات کرتے تھے ’جب پاکستان بننے کا تصور بھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ وہ شیخ محمد عبداللہ اور دیگر رہنماؤں سے پہلے کشمیر کی آزادی کی بات کرتے تھے اور کشمیری قوم کے لیے بے حد فکر مند تھے۔‘

توڑ اُس دست جفا کیش کو یارب جس نے

روح آزادی کشمیر کو پامال کیا

محمد یوسف ٹینگ کے مطابق علامہ اقبال نے متذکرہ شعر 1894 میں کہا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں ابتدا سے ہی کشمیر کی فکر دامن گیر تھی۔

’علامہ اقبال کو اس بات کا بے حد افسوس تھا کہ ایک ملک (کشمیر) کو 16 مارچ 1846 کو طے پانے والے بدنام زمانہ معاہدہ امرتسر کے تحت 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض ڈوگرہ شاہی خاندان کو فروخت کیا گیا۔‘

دہقان و کشت و جُو و خیاباں فروختند

قومے فروختند وچہ ارزاں فروختند

یوسف ٹینگ کا کہنا ہے کہ علامہ اقبال نے یہ شعر اُسی بدنام زمانہ ’سودے‘ پر لکھا تھا۔ ’وہ اپنے ایک اور شعر ’او کشت گل و لالہ بنجشد بہ خرے چند‘ میں کہتے ہیں کہ انگریزوں نے کشمیر کو چند خروں کے حوالے کر دیا۔ ان کا اشارہ گلاب سنگھ کی طرف ہے۔‘

محمد یوسف ٹینگ کے مطابق یہ علامہ اقبال ہی تھے جنہوں نے یہاں کے لوگوں کو ڈوگرہ حکومت کے خلاف اپنی آواز بلند کرنے کے لیے تیار کیا تھا۔

’آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے کشمیر کی آزادی کے لیے ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ اس ہڑتال کی اپیل کا پوسٹر میرے پاس موجود ہے۔ اس اپیل پر پورے متحدہ ہندوستان میں ہڑتال کی گئی تھی۔ جب بھی یہاں سے کوئی لاہور جا کر علامہ اقبال سے ملاقات کرتا تھا تو وہ سب سے یہی کہتے تھے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے اپنی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھنا۔‘

 

ٹینگ کا کہنا ہے کہ علامہ اقبال واحد ایسی شخصیت ہیں جو کشمیری عوام کے رگ رگ میں بستی ہیں۔

ان کے بقول: ’یہاں کے لوگوں کو شیخ محمد عبداللہ، بخشی غلام محمد، مفتی محمد سعید اور فاروق عبداللہ کے ساتھ اختلاف ہے لیکن علامہ واحد ایسی شخصیت ہیں جو ہر دل عزیز ہیں۔ یہاں کئی بڑے تعلیمی اور دیگر ادارے علامہ اقبال سے منسوب ہیں جو ان کے ہر دل عزیز ہونے کا ثبوت ہے۔ علامہ اقبال لمبی عمر نہیں پا سکے۔ وہ 60 برس کی عمر میں ہی انتقال کر گئے۔ وہ آخری دم تک کشمیر اور کشمیریوں کے لیے بات کرتے رہے۔‘

’علامہ اقبال کشمیری برہمن خاندان سے تھے‘

محمد یوسف ٹینگ کے مطابق علامہ اقبال کے آبا و اجداد بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع کولگام کے ساپر نامی گاؤں میں رہتے تھے۔

’ان کے والد شیخ نور محمد کشمیری تھے جو خود کہتے تھے کہ میں کشمیری ہوں۔ وہ کشمیری زبان میں بات بھی کرتے تھے۔ تاہم ان کی والدہ امام بی بی پنجابی تھیں۔ علامہ اقبال کے پہلے استاد سید میر حسن بھی کشمیری النسل تھے۔‘

آغا اشرف اپنی کتاب ’حیات علامہ اقبال‘ (علامہ اقبال کی سوانح عمری) میں لکھتے ہیں کہ ’علامہ اقبال کشمیری برہمن خاندان سے تھے جس نے اٹھارویں صدی کے آغاز میں اسلام قبول کیا۔‘

’علامہ اقبال کے پردادا شیخ جمال الدین کے چاروں بیٹوں شیخ عبدالرحمان، شیخ محمد رمضان، شیخ محمد رفیق اور شیخ محمد عبداللہ نے کشمیر کے ابتر حالات سے مجبور ہو کر اٹھارویں صدی کے نصف آخر میں کشمیر سے ہجرت کی اور سیالکوٹ میں آباد ہو گئے۔ علامہ اقبال کے والد شیخ نور محمد، شیخ محمد رفیق کے فرزند تھے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب علامہ کشمیر کے دورے پر آئے

کشمیر یونیورسٹی کے اقبال انسٹی ٹیوٹ آف کلچر اینڈ فلاسفی کے کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ علامہ اقبال 1921 میں پہلی اور آخری بار کشمیر کے دورے پر آئے۔

انہوں نے کہا: ’علامہ نے جب یہاں ظلم و ستم اور غربت دیکھی تو متعدد اشعار کو ضبط تحریر میں لایا جن میں سے ایک یہ ہے:

تنم گلے زخیابان جنت کشمیر

دلم ز خاک حجاز و نواز شیراز است

یعنی، اگرچہ میرا دل حجاز مقدس کی طرف مائل ہے لیکن میں اس کشمیری قوم سے تعلق رکھتا ہوں اور یہی وجہ ہے مجھے اس سرزمین سے بے حد محبت ہے۔‘

ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی کے مطابق علامہ اقبال نے ایک اور بار یہاں آنے کی کوشش کی تھی لیکن اُس وقت کی ڈوگرہ حکومت نے انہیں یہاں آنے کی اجازت نہیں دی۔

’ڈوگرہ دور میں یہاں بیگار یعنی جبری مزدوری کا نظام رائج تھا۔ کسی کو بولنے کی اجازت نہیں تھی۔ خاص طور پر مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھائے جا رہے تھے۔ علامہ اقبال اس کو لے کر بہت زیادہ مضطرب تھے۔ علامہ اقبال یہاں افلاس اور غربت کو دور ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے۔ سالہاسال سے ظلم کی شکار کشمیری قوم کو آزاد دیکھنا چاہتے تھے۔ یہ وہ شخصیت تھیں جنہوں نے کشمیریوں کو ڈوگرہ حکومت کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے ذاتی کوششیں بھی کیں۔‘

معروف کشمیری کالم نویس زیڈ جی محمد اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ 13 جولائی 1931 کے قتل عام نے علامہ اقبال کو بہت رنجیدہ کر دیا تھا۔

’انہوں نے تشدد کے متاثرین کے حق میں چندہ اکھٹا کر کے کشمیری رہنماؤں کو بھیجا۔ نیز مقید کشمیریوں کو قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے بعض نامور وکلا کو کشمیر کا دورہ کرنے کے لیے قائل کیا۔ اس پر حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے علامہ اقبال کے کشمیر میں داخلے پر پابندی عائد کی۔‘

13 جولائی 1931 کو سری نگر کی سینٹرل جیل کے احاطے میں ایک مقدمے کی سرعام سماعت کے دوران اُس وقت کی ڈوگرہ پولیس نے نہتے کشمیریوں پر اندھا دھند گولیاں برسائی تھیں جس کے نتیجے میں کم از کم 22 کشمیری مارے گئے تھے۔

’آج علامہ اقبال زندہ ہوتے تو اپنا سر پیٹتے‘

سری نگر سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’حکیم الامت‘ کے مدیر اعلیٰ ڈاکٹر ظفر حیدری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آج اگر علامہ اقبال زندہ ہوتے تو وہ کشمیر کو ٹکڑوں میں منقسم دیکھ کر اپنا سر پیٹتے۔

ان کے بقول: ’علامہ اقبال کشمیر کو متحد دیکھنا چاہتے تھے۔ بدقسمتی کی وجہ سے کشمیر آج منقسیم اور بکھر چکا ہے۔ علامہ اقبال جس کشمیر کو جانتے تھے اس میں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور لداخ بھی شامل تھے۔ اگر علامہ اقبال آج زندہ ہوتے تو وہ کشمیر کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں دیکھ کر اپنا سر پیٹتے۔ آج کا ٹکڑوں میں منقسم کشمیر علامہ اقبال کا کشمیر نہیں ہے۔‘

ڈاکٹر حیدری کے مطابق علامہ اقبال کو کشمیر سے اتنا لگاؤ، اتنا پیار اور اتنی محبت تھی کہ انہوں نے یہاں کی ہر ایک چیز پر کچھ نہ کچھ لکھا ہے۔

’ان کو کشمیر کا آپسی بھائی چارہ بہت پسند تھا کیونکہ یہاں جیسی اخوت کسی بھی ملک میں دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔ ان کے یہ اشعار مجھے یاد آتے ہیں جن میں وہ تاکید کرتے ہیں کہ آپ کشمیر سے کچھ سیکھیں۔

سو تدابیر کی اے قوم یہ ہے اک تدبیر

چشم اغیار میں بڑھتی ہے اسی سے توقیر

در مطلب ہے اخوت کے صدف میں پنہاں

مل کے دنیا میں رہو مثل حروف کشمیر

جب ہم نے حکیم الامت کا 2006 میں پہلا شمارہ نکالا تو ہم نے ان اشعار کو سرورق پر جگہ دی۔‘

کشمیری قوم کے ہمدرد و غمگسار

کشمیر کے سیاسی منظر نامے پر نصف صدی تک حاوی رہنے والے کشمیری رہنما شیخ محمد عبداللہ اپنی سوانح حیات ’آتش چنار‘ میں متعدد مقامات پر علامہ اقبال کی کشمیری قوم کے تئیں ہمدردی و غمگساری کا تذکرہ کرتے ہیں۔

انہوں نے علامہ اقبال کا دل کشمیری قوم کی مظلومی، کسمپرسی اور بے بسی و بے کسی کے درد و کرب سے لبریز ہونے کی کئی مثالیں پیش کی ہیں اور فارسی و اردو کلام میں ان کے اس جذبے کے برملا اظہار کے کچھ نمونے بھی پیش کیے ہیں۔

چنانچہ ’آتش چنار‘ کے پہلے ہی باب میں کشمیر کے شالبافوں، جن کی ہنر مندی کا سکہ دنیا کے گوشہ و کنار میں چھا گیا تھا، پر حکومت وقت کے استحصال کی داستان دلخراش بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: اس حقیقت کا مشاہدہ کشمیری قوم کے غمگسار اور درد مند شاعر علامہ اقبال نے بھی اس وقت کیا جب وہ کشمیر آئے اور اس مشاہدے نے ان سے شعر کہلوایا

بریشم قبا خواجہ از محنت او

نصیب تنش جامہ تار تارے

ان کا یہ احساس اتنا گہرا ہوگیا تھا کہ انہوں نے اردو میں بھی اس مضمون کی تکرار کی

سرما کی ہواؤں میں عریاں ہے بدن اس کا

دیتا ہے ہنر جس کا امیروں کو دوشالہ

شیخ محمد عبداللہ ’آتش چنار‘ کے ’باب چہارم‘ میں اپنے قیام لاہور کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک بار پھر علامہ لاہوری کی کشمیر دوستی کے بارے میں اپنی یاداشتوں کو سپرد قرطاس کرتے ہیں۔

 

لکھتے ہیں: ’لاہور میں اپنے زمانہ قیام میں، میں نے ڈاکٹر سر محمد اقبال کی شہرت بھی سنی، ان کے کلام سے آشنا ہوچکا تھا اور کئی نظمیں تو مجھے از بر تھیں۔ میں نے لاہور میں کئی کشمیری دوستوں سے سنا کہ علامہ کشمیر کے معاملات پر گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور کشمیری مسلمانوں کی حالت زار سے وہ شدید ذہنی اور روحانی اضطراب میں مبتلا ہیں۔‘

شیخ محمد عبداللہ، علامہ اقبال کے مظلوم و محکوم کشمیری قوم کی آواز کو بلند کرنے کے لیے اپنے کلام کے علاوہ مختلف پیلٹ فارموں کو وجود میں لانے کی کاوشوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ علامہ کشمیر کانفرنس کے بانیوں میں سے تھے۔

وہ لکھتے ہیں: کشمیری مسلمانوں کی صدائے مجبوری بلند کرنے کے لیے تقریر کا کوئی پیلٹ فارم موجود نہیں تھا۔ ریاست (کشمیر) سے ہجرت کرنے والے کچھ درد مند مسلمانوں نے اس صدی کے آغاز میں کشمیری کانفرنس کے نام سے ایک جماعت بنائی تھی۔ اس جماعت کے بانیوں میں ڈاکٹر سر محمد اقبال بھی شامل تھے اور اسی کے ایک اجلاس میں انہوں نے یہ ولولہ انگیز قطعہ پڑھا تھا،

پنجہ ظلم و جہالت نے برا حال کیا

بن کے مقراض ہمیں بے پر وبال کیا

توڑ اُس دست جفا کیش کو یا رب جس نے

روح آزادی کشمیر کو پامال کیا

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا