جب شاہ سعود نے طواف کے دوران اپنے والد کو قاتلانہ حملے سے بچایا

1935 میں حج کے موقعے پر طواف افاضہ کے دوران سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود پر خنجر سے قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی تھی۔

سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود  (تصویر: بشکریہ وکی پیڈیا)
 

آج سے 86 سال قبل 1935 میں حج کے موقعے پر طواف افاضہ کے دوران سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم شاہ عبدالعزیز کے فرزند شاہ سعود نے یہ حملہ ناکام بنا دیا اور اپنے والد کو اس حملے سے بچالیا تھا۔

العربیہ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق شاہ عبدالعزیز نے اپنے صاحب زادے شہزادہ سعود اور اپنے ذاتی محافظ کے ہمراہ دوسرے حجاج کے ساتھ طواف کعبہ شروع کیا۔ جب انہوں نے طواف کعبہ کا پانچواں چکر شروع کیا اور حجر اسود کو بوسہ دینے کے لیے اس کے قریب پہنچے تو اس دروان حجر اسماعیل کے قریب سے ایک شخص ان کی طرف لپکا اور اپنے ہاتھ میں موجود خنجر سے شاہ عبدالعزیز پر حملے کی کوشش کی۔

تاہم حملہ آور کو دیکھتے ہی ولی عہد شہزادہ سعود اپنے والد کے اوپر گر گئے اور خنجر کا وار اپنی پشت پر برداشت کرلیا۔ اس حملے میں شہزادہ سعود شدید زخمی ہوئے۔

اسی موقعے پر دوسرے حملہ آور زمزم کے کنوئیں اور ملتزم کے مقام سے خنجر لہراتے ہوئے شاہ سلمان کی طرف بڑھے تاہم شاہ عبدالعزیز کے محافظوں نے انہیں قتل کر دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب حملہ آوروں کی شہریت معلوم ہوئی اور انتہا پسندوں کی طرف سے مزید حملے کا خدشہ پیدا ہوا تو سکیورٹی عملے نے حرم مکی کو بند کردیا۔ اس کے بعد حرم مکی کو صاف کیا گیا۔ شاہ عبدالعزیز نے اپنا طواف مکمل کیا اور گھوڑے پر سعی کی۔

شاہ عبدالعزیز پر قاتلانہ حملہ کرنے والے تینوں مجرموں کی نایاب تصاویر آج بھی موجود ہیں۔ انہیں موقعے پر ہی کیفر کردار تک پہنچایا دیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ