بنگلہ دیش ہر معاملے میں پاکستان سے آگے، ایک میں پیچھے

بنگلہ دیش کے جس سکے کو ہم ٹکہ ٹکہ کہہ کر اس کی تذلیل کرتے تھے، آج وہی ٹکہ ہمارے روپے کے مقابلے میں دوگنی طاقت رکھتا ہے۔

انسانی ترقی کے تقریباً تمام اشاریوں میں بنگلہ دیش ہم سے آگے ہے (اے ایف پی)

بنگلہ دیش2021 میں پاکستان سے آزادی کی گولڈن جوبلی منا رہا ہے۔ اس موقعے پر عوام کو بتایا جا رہا ہے کہ اس نے ہر شعبے میں پاکستان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی 2064 ڈالرز ہے جبکہ پاکستان کی اس سے آدھی یعنی 1271 ڈالرز ہے۔ پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر 20.8 ارب ڈالرز ہیں جبکہ بنگلہ دیش کے 42 ارب ڈالرز ہیں۔

پانچ سال سے کم عمر بچوں میں شرح اموات کا تناسب بنگلہ دیش میں 25 ہے جبکہ پاکستان میں 59 ہے۔ پاکستان میں 72 فیصد بچے پرائمری سکولوں میں داخل ہیں جبکہ بنگلہ دیش میں یہ تناسب 98 فیصد ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق بنگلہ دیش میں گذشتہ 10 سالوں میں 80 لاکھ لوگوں کو غربت سے نکالا گیا ہے۔ لوگوں کی آمدنی بھی اس عرصے میں تین گنا ہو گئی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ چین کے بعد یہ دنیا کی دوسری بڑی گارمنٹس انڈسٹری رکھنے والا ملک بن چکا ہے۔

بنگلہ دیش کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جس میں سے چھ لاکھ آئی ٹی میں بطور فری لانسر کام کر رہے ہیں جو دنیا کے کسی بھی ملک میں فری لانسرز کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

بنگلہ دیش زراعت سے صنعتی انقلاب میں داخل ہو چکا ہے۔ ملک میں 100 اکنامک زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ بیرونی سرمایہ کاروں کوترغیبات دے کر راغب کیا جائے۔

پاکستان کے پہلے عام انتخابات 1970  میں ہوئے تھے جو مشرقی اور مغربی پاکستان میں معاشی تفاوت پر لڑے گئے۔ عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمٰن جب اسلام آباد پہلی بار آئے تھے تو انہوں نے یہاں کی تعمیر و ترقی دیکھ کر کہا تھا کہ مجھے اسلام آباد سے پٹ سن کے ریشوں کی بو آرہی ہے۔

مشرقی پاکستان کو اس کی آبادی کے تناسب سے وسائل میں حصہ نہیں ملتا تھا جو آگے چل کر بنگلہ دیش کی بنیاد بنا۔ مگر اب سوال یہ ہے کہ پاکستا ن کو آزاد ہوئے 74 سال اور بنگلہ دیش کو 50 سال ہوئے ہیں تو پھر وہ ہر میدان میں ہمیں پیچھے کیسے چھوڑ گیا ہے؟

 معاشیات کے میدان میں نوبل انعام یافتہ امرتا سین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش نے بعض میدانوں میں حیران کن کامیابی حاصل کی ہے اس نے ایک پسماندہ ملک سے ترقی پزیر ملک کا درجہ تیزی سے حاصل کیا ہے۔

اس نے فی کس آمدنی، انسانی وسائل اور معاشی نمو میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔ 2021 میں بنگلہ دیش نے درمیانی ترقی کے حامل ملک کا درجہ حاصل کر لیا ہے جبکہ 2041 میں وہ ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔

جس تیزی سے اس نے گذشتہ کچھ سالوں میں ترقی کی رفتار دکھائی ہے وہ تمام ترقی پزیر ملکوں کے لیے ایک رول ماڈل کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔

ذیل میں ہم چند شعبوں میں پاکستان اور بنگلہ دیش کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہیں تاکہ قارئین کو اندازہ ہو سکے کہ ہم کہاں پر کھڑے ہیں اور ہم سے آزادی حاصل کرنے والا بنگلہ دیش آج کس مقام پر ہے۔

معیشت

پاکستان کی معیشت کا حجم 264 ارب ڈالر ہے۔ اس حساب سے یہ دنیا کی 40 ویں بڑی معیشت ہے۔ لیکن اگر قوت خریداری کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان کی معیشت دنیا میں 22 ویں نمبر پر آتی ہے۔

اس کی فی کس آمدنی 1271 ڈالرز ہے۔ جبکہ معاشی ترقی کی رفتار 0.4 فیصد پر کھڑی ہے جو پچھلے 68 سالوں میں کم ترین سطح ہے۔ گذشتہ مالی سال میں پاکستان کی برآمدات 21.387 ارب ڈالرز تھیں۔

اس کے مقابلے پر بنگلہ دیش کی معیشت کا حجم 338 ارب ڈالرز ہے اس حساب سے یہ دنیا کی 35ویں بڑی معیشت ہے۔ قوتِ خریداری کے حوالے سے بنگلہ دیش پاکستان سے پیچھے یعنی دنیا میں 30ویں نمبر پر ہے اور اس کی فی کس آمدنی 2064 ڈالرز ہے۔

اس کی معاشی ترقی کی رفتار جو کرونا سے پہلے ایشیا  میں پہلے نمبر پر یعنی 8.2 تھی اب وہ 3.8 پر آ چکی ہے لیکن پھر بھی پاکستان کی ترقی کی منفی رفتار سے کہیں زیادہ آگے ہے۔

بنگلہ دیش کی برآمدات 34 ارب ڈالرز ہیں۔ پاکستان میں غربت کی شرح کرونا کے بعد 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ بنگلہ دیش میں یہ 20 فیصد ہے۔ گذشتہ مالی سال میں پاکستان کو اوورسیز پاکستانیوں کی طرف سے 14.2 ارب ڈالرز بھیجے گئے جبکہ اسی عرصے میں بنگلہ دیش کو اس مد میں 19.8 ارب ڈالرز موصول ہوئے۔

تعلیم و صحت

1951 کی مردم شماری کے مطابق مشرقی پاکستان کی آبادی چار کروڑ 20 لاکھ جبکہ مغربی پاکستان کی تین کروڑ 40 لاکھ تھی۔ جبکہ آج بنگلہ دیش کی آبادی 16 کروڑ 50 لاکھ اور پاکستان کی 22 کروڑ ہے۔

پاکستان میں شرح خواندگی 60 فیصد اور بنگلہ دیش میں 75 فیصد ہے۔ بنگلہ دیش میں اوسط عمر 73 سال جبکہ پاکستان میں 68 سال ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں معیار زندگی بلند تر ہے۔ آئی ایل او کے مطابق بنگلہ دیش میں 33.2 فیصد جبکہ پاکستان میں 25.1 فیصد عورتیں کام کرتی ہیں۔

زراعت

1947 میں زراعت کا پاکستان کی معیشت میں حصہ 54 فیصد تھا جو اب کم ہو کر 20 فیصد پر آ چکا ہے۔ بنگلہ دیش میں زراعت کا حصہ 17 فیصد، صنعت کا 30 فیصد اور سروسز کا 52 فیصد ہے۔

زراعت میں بنگلہ دیش نے اتنی ترقی کی ہے کہ اسے اب فوڈ باسکٹ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش دنیا میں چاول پیدا کرنے والا چوتھا اور پاکستان دسواں بڑا ملک ہے۔ اگرچہ پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔

تاہم پھر بھی پاکستان دنیا میں کپاس کی پیداوار کے حوالے سے پانچواں بڑا ملک ہے لیکن بنگلہ دیش چین کے بعد کپاس کی درآمد کرنے والا دوسرا ملک ہے کیونکہ بنگلہ دیش کی 80 فیصد بر آمدات کا تعلق گارمنٹس سے ہے۔

دفاع

یہ واحد میدان ہے جس میں پاکستان اور بنگلہ دیش کا کوئی مقابلہ نہیں۔ پاکستان دنیا میں فائر پاور کے لحاظ سے 10 ویں نمبر پر ہے جبکہ بنگلہ دیش کا نمبر 45 واں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بنگلہ دیش کی کل فوجوں کی تعداد دو لاکھ چار ہزار ہے۔ اس کے پاس 178 ہوائی جہاز ہیں جبکہ اس کے مقابلے پر پاکستان نہ صرف جے ایف تھنڈر جیسے جہاز بنا رہا ہے بلکہ ا س کی ایئر فورس کے پاس ایف سولہ سمیت 1364 ہوائی جہاز ہیں۔

پاکستان کے کل فوجیوں کی تعداد چھ لاکھ 64 ہزار ہے۔ بنگلہ دیش کا دفاعی بجٹ چار ارب 27 کروڑ ڈالرز جبکہ پاکستان کا ساڑھے 12 ارب ڈالرز سے زائد ہے۔

پاکستان دنیا کی ایٹمی پاور بھی ہے جبکہ بنگلہ دیش اس اعزاز سے بھی محروم ہے۔ بنگلہ دیش رقبے کے لحاظ سے بھی پاکستان سے چھ گنا سے زائد چھوٹا ملک ہے۔

اور آخری بات جن ٹکوں کو ہم نے ٹکہ ٹکہ کہہ کر تذلیل کی آج ان کا ٹکہ ہمارے روپے کے مقابلے میں دوگنی طاقت رکھتا ہے۔ پاکستان میں ڈالرز 156 روپے کا ہے جبکہ بنگلہ دیش میں 84 ٹکوں کا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا