ملتان: ’یہ قتل آم نہیں ہے‘

کیا واقعی ملتان میں آموں کے باغات بےدردی سے ختم کیے جا رہے ہیں؟ معاملے کے تقصیلی جائزے کے بعد انڈپینڈنٹ اردو کی خصوصی رپورٹ۔

’ہمارا 15 لاکھ روپے ایکڑ والا رقبہ ایک کروڑ روپے میں فروخت ہو رہا ہو تو آپ خود بتائیں کہ کیا ہم آموں کا اچار ڈالیں  گے؟‘ (اے ایف پی فائل

’ہمارا درانی خاندان افغانستان سے ملتان آ کر آباد ہوا۔ ہمیں یہی زمینیں الاٹ ہوئیں۔ میرے نانا حامد خان درانی کے بھائی تقسیم برصغیر سے قبل ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم تھے اس لیے ان کے پورے بھارت میں تعلقات تھے۔

’انہیں باغبانی کا شوق تھا۔ انہوں نے 100 سال پہلے بھارت کے مختلف علاقوں سے آموں کی نایاب اقسام اکھٹی کرنا شروع کیں۔ کئی سال میں اڑھائی سو سے زائد اقسام موضع صدر پور میں واقع اپنے باغ میں جمع کیں اور ان کی دیکھ بھال کی۔

’اس وقت سے یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا آ رہا ہے۔ یہ واحد باغ تھا جو اس خطے میں سب سے زیادہ اقسام کے آم اگاتا تھا۔ یہیں سے دیگر ورائٹی دوسرے باغوں کے مالکان کو دی گئیں۔

’یوں تاریخی اعتبار سے یہ باغ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ پورا موضع 1800 ایکڑ پر محیط ہے جس میں 1600 ایکڑ پر ہمارے خاندان کے باغات ہیں۔

’ہمارے آباؤ اجداد کی طرح ہم نے بھی ان نایاب نسل کے درختوں کی نہ صرف آبیاری کی بلکہ بچوں کی طرح پالتے آئے ہیں۔

’ان باغات میں جن اقسام کے آم ہیں وہ حکومتی اداروں یا دیگر باغبانوں کے پاس بھی موجود نہیں۔ اس لحاظ سے یہ قومی ورثہ بنتا ہے۔

’لیکن چند سال پہلے یہاں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی قائم ہوئی۔ انہوں نے بوسن روڑ سے ملحقہ ان باغوں کے علاقے میں نیا شہر آباد کرنا شروع کیا تو نوٹیفائیڈ ایریا میں ہمارے باغ بھی شامل ہوگئے۔‘

اب ہم پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ یہ باغ فروخت کر دیے جائیں۔ ہم اپنے آباؤ اجداد کی وراثت کیسے بیچ دیں؟

یہ داستان ہے ڈی ایچ اے ملتان سے ملحق باغوں کے مالک خاندان سے تعلق رکھنے والے مبشر خان درانی کی۔

انہیں آج کل باغ فروخت نہ کرنے پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس طرح کی اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں جن سے ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے والے بڑے گروپ باغ اور فصلوں کی زمینیں خریدنے کے متمنی ہیں۔

بیشتر تو بخوشی مہنگے داموں فروخت کر رہے مگر بعض کے لیے اپنے پرکھوں کی نشانیاں چھوڑنا دشوار ہے۔

ملتان میں کہاوت مشہور ہے کہ آم کا درخت بیٹے کی طرح کئی سال میں پالنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مبشر درانی اور ان کے خاندان والے اپنے باغوں سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔

پنجاب کے جنوبی شہر ملتان میں آموں کے باغات کی کٹائی کے حوالے سے خبریں گذشتہ دنوں زیر بحث رہیں۔

مینگو سٹی قرار دیے جانے والے اس شہر سے کچھ ایسی ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں جن میں آموں کے درختوں کی کٹائی کے مناظر تھے۔

ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد اس بارے میں کچھ خبریں بھی گردش کرنے لگیں جن میں خاص طور پر کچھ ایسی ہاؤسنگ کالونیوں کو نشانہ بنایا گیا جنہوں نے ملتان میں نئے منصوبے شروع کیے ہیں۔

ان کہانیوں میں کتنی صداقت ہے؟ کیا واقعی آموں کے باغات بےدردی سے ختم کیے جا رہے ہیں؟ کیا واقعی کاشت کاروں کو اپنے باغات اونے پونے داموں فروخت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے؟ اور کیا واقعی نئے منصوبہ ساز مینگو سٹی کی شناخت مجروح کر رہے ہیں؟

ان حقائق کا جائزہ لینے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے معاملے کا تفصیلی جائزہ لے کر یہ خصوصی رپورٹ تیار کی ہے۔

تحقیق سے بعض حیران کن باتیں سامنے آئی ہیں اور جو کچھ عوام کو بتایا جا رہا ہے اس کے برعکس بھی کئی پہلو سامنے آئے ہیں۔

ان سے معلوم ہوا کہ ملتان درحقیقت نئے منصوبوں کے ذریعے ترقی کی نئی منزلوں کی طرف گامزن ہے۔ تاہم کئی بنیادی مسائل بھی اسے درپیش ہیں۔

باغات کی کٹائی سے آموں کی مجموعی پیداوار تو زیادہ متاثر نہیں ہوئی مگر ماحولیات کو نقصان ضرور پہنچا ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات ملتان ظفر اقبال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سٹی فیز ٹو سمیت بعض سوسائٹیز کو درختوں کی کٹائی سے متعلق این او سی جاری نہیں ہوئے۔

’ہم نے محکمہ ماحولیات کو رپورٹ بھیج دی کہ شجاع آباد روڑ پر بننے والی سٹی ہاؤسنگ سکیم میں بہت درخت کاٹے جائیں گے، جس سے ماحول خراب ہو جائے گا۔ ان کی درخواست مسترد کر دی جائے تاہم ابھی یہ معاملہ زیر غور ہے۔‘

کیا باغات زبردستی خریدے گئے؟

اس سوال کے جواب میں ڈی ایچ اے کو 25 ایکڑ زمین فروخت کرنے والے موضع کوٹلہ سادات کے زمیندار محمد علی نے بتایا کہ ڈی ایچ اے کی وجہ سے کاشت کار خوشحال ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ’ہمارا 15 لاکھ روپے ایکڑ والا رقبہ ایک کروڑ روپے میں فروخت ہو رہا ہو تو آپ خود بتائیں کہ کیا ہم آموں کا اچار ڈالیں گے؟‘

ان کے مطابق صرف وہ ہی نہیں اور بہت سے کاشت کار بھی مہنگے داموں زمینیں فروخت کر کے یا تو کاروبار شروع کر رہے ہیں یا بڑے شہروں میں رقبے خرید رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ان کی زندگیاں اس طرح تبدیل ہو جائیں گی۔ ’شہروں میں ترقی کا سفر جاری رکھنے کے لیے روایتی اور فرسودہ نظام کو ترک کرنا پڑتا ہے۔ آموں کے کاشت کار آموں کی برآمد اور جوسز کی صنعت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔‘

دوسری جانب بعض زمین دار ایسے بھی ہیں جو تمام تر ترغیبات کے باوجود اپنے رقبے اور باغات ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کو مہنگے داموں بھی فروخت کرنے کو تیار نہیں۔

مبشر درانی کا کہنا ہے کہا کہ ان کا خاندان یہاں 18سو ایکڑ کا مالک ہے لیکن ہم ایک مرلہ بھی زمین فروخت نہیں کرنا چاہتے۔ ’ہم اپنی دھرتی کو ماں سمجھتے ہیں۔‘

ان کا الزام تھا کہ ڈی ایچ اے ایسے حربے اختیار کر رہی ہے کہ وہ دباؤ میں آ کر خود ہی یہ علاقہ چھوڑ جائیں۔

’ہمارا صدیوں پرانا راستہ بند کر دیا گیا جس کے خلاف عدالت میں کیس بھی زیر سماعت ہے جبکہ ہمارے خلاف جھوٹے مقدمات بھی درج کرائے جا رہے ہیں۔‘

ہم یہ علاقہ کیوں چھوڑیں۔ یہاں ہمارے بزرگوں کی قبریں بھی ہیں۔ ہمیں پیسے کی ضرورت نہیں۔ کاشت کاری اور باغبانی ہمارے لیے باعث توقیر ہے ہم اپنی عزت کا سودا نہیں کرسکتے۔

مبشر کے مطابق ان کے پاس ڈی ایچ اے حکام آئے اور زمین فروخت کرنے کی پیش کش کی تو انہوں نے انہیں ایک پیشکش کی کہ وہ ان کے ساتھ معاہدہ کریں کہ یہاں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ’باغات میں پکنک پوائنٹ بنا کر ڈی ایچ اے منصوبے کے ساتھ منسلک کر دیں، اخراجات بھی ہم کریں گے اور انتظام بھی ہم چلائیں گے لیکن انہوں نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔‘

کیا نئی کالونیوں سے آموں کی پیداوار کو خطرہ ہے؟

پاکستانی فوج کے ذیلی شعبہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے ایک افسر جنید خان (فرضی نام) نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈی ایچ اے نے اب تک نو ہزار ایکڑ رقبہ خریدا ہے جس میں چھ سے سات سو ایکڑ آموں کا باغ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2013 میں جب منصوبے پر کام شروع ہوا تو صرف سڑکوں میں آنے والے آموں کے درخت کاٹے گئے تھے جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتھارٹی نے فیصلہ کیا کہ جن زمین داروں سے رقبہ خریدنا ہے انہیں بھی آموں کے درخت نہیں کاٹنے دیں گے۔

’ہم نے مینگو اینکلیو بنائے ہیں اور کوشش ہے کہ ان درختوں کو نہ صرف محفوظ بنایا جائے بلکہ مزید پودے بھی لگائے جا رہے ہیں۔‘

جنید کے مطابق ڈی ایچ اے میں آموں کے زیادہ سے زیادہ پودے لگا کر پہلا مینگو رہائشی ایریا بنائیں جو اس شہر کی پہچان ہے۔

ملتان کے بوسن روڑ پر جس علاقے میں باغات ہیں وہاں سب سے پہلے بچ ولاز تعمیر ہوئے جس کا رقبہ ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) شعبہ شہری ترقی کے ڈائریکٹر خواجہ وقاص کے مطابق 21 سو 40 کنال ہے۔

سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی فیز ون جو بوسن روڑ پر ڈی ایچ اے کے مقابل بنائی گئی، اس کا رقبہ تین ہزار کنال رجسٹرڈ ہے۔

خواجہ وقاص کے مطابق سٹی فیز ٹو جو شجاع آباد روڑ پر بنائی جا رہی ہے، اس کا رقبہ سات ہزار 32 کنال رجسٹرڈ ہوا ہے مگر زمین کی مزید خریداری بھی جاری ہے جو بعد میں درج کرائی جائے گی۔

ملتان مینگو گروورز ایسوسی ایشن کے صدر ظفر مہے نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بوسن روڑ پر بچ ولاز بننے سے آٹھ مربعوں یعنی 200 ایکڑ پر آم کے باغات ختم ہوئے۔ پھر ڈی ایچ اے بننے سے ابھی تک 95 ہزار آموں کے درخت کاٹے جا چکے ہیں اور مزید باغات کی زمینیں خریدی جا رہی ہیں۔

ظفر مہے نے دعویٰ کیا کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے داماد نے سٹی ہاؤسنگ سکیم فیز ون بوسن روڑ پر بنایا، جس کے لیے کم و بیش 40 ہزار آموں کے درخت کاٹے گئے اور اب شجاع آباد روڑ پر سٹی ہاؤسنگ سکیم فیز ٹو بنایا جا رہا ہے جو آموں کے باغات کا ایریا ہے جس میں 22 مربع زمین سابق چیف سیکرٹری یوسف نسیم کھوکھر سے خریدی گئی۔

اس میں بھی باغ تھا اور دیگر زمینداروں سے رقبے خریدے گئے جو 100 مربع تک بنتا ہے، انہوں نے بھی آموں کے درخت کاٹنا شروع کر دیے ہیں۔

ظفر مہے نے مزید کہا کہ انہوں نے کئی بار ایم ڈی اے کو درخواستیں دیں کہ آموں کے باغات والے ایریا کو گرین بیلٹ قرار دے کر تعمیرات رکوائی جائیں لیکن کسی نے نہیں سنی اور نہ ہی کسی کو روکا گیا۔

زاہد حسین گردیزی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے کزن ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ملتان کو مینگو سٹی سرکاری طور پر قرار دیا گیا اور یہاں عالمی مینگو نمائش بھی کرائی گئیں جن سے دوسرے ممالک میں بھی ملتان کے آموں کو مزید پسند کیا گیا اور برآمدات میں بھی اضافہ ہوا۔ ملتان میں آموں کا پلپ محفوظ بنانے کے لیے پلپ پلانٹ بھی لگایا گیا۔

لیکن حکومتی پالیسی نہ ہونے کے باعث پہلے بچ ولاز اور دیگر چھوٹی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور آبادیوں کی وجہ سے آم کے باغات کٹنا شروع ہوئے۔ اب ڈی ایچ اے اور سٹی ہاؤسنگ سکیم جیسے بڑے منصوبوں کی وجہ سے سینکڑوں ایکڑ پر باغات کاٹ دیے گئے اور کاٹے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے ان کی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے اسلام آباد میں ملاقات ہوئی تو ان کے سامنے بھی یہ معاملہ اٹھایا کہ ڈی ایچ اے باغوں کو کاٹ کر نہ بنایا جائے۔

اس مقصد کے لیے کچھ فاصلے پر دریائے چناب کے قریب بنجر زمینوں پر نیا سٹی بنا دیا جائے جیسے لاہور میں راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنی ہے۔

اس بارے میں بتایا گیا کہ اس زمین پر ڈی ایچ اے نہیں بن سکتا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آموں کے درخت کم سے کم کاٹے جائیں گے اور ملتان کے کینٹ ایریا میں گرین بیلٹس پر بھی آموں کے پودے لگائے جائیں گے جو لگائے بھی گئے لیکن یہ ہزاروں ایکڑ باغوں کا متبادل تو نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح سٹی ہاؤسنگ سکیم میں بھی باغ کاٹے جا رہے ہیں ۔

اس کے برعکس حکومتی اعداد وشمار ان خدشات کی نفی کر رہے ہیں۔

مینگو ریسرچ سینٹر ملتان کے عہدے دار ڈاکٹر محمد طارق سے جب انڈپینڈنٹ اردو نے پوچھا کہ ملتان میں کتنے رقبے پر باغ ہیں اور درخت کٹنے سے پیداوار پر کوئی فرق پڑا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ضلع ملتان میں 75 سے 76 ہزار ایکڑ رقبے پر آموں کے باغ ہیں۔

گذشتہ پانچ سال کے دوران مجموعی پیداوار میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جتنے درخت کٹتے ہیں اتنے ہی نئے باغات کاشت ہو رہے ہیں جبکہ موسمی اثرات آندھیوں اور بارش سے پھل جھڑنے سے بھی پیداوار میں تھوڑا بہت فرق آتا ہے۔

ڈاکٹر طارق کے مطابق ایک ایکڑ آم کے باغ کی پیداوار 10 ٹن ہوتی ہے، پہلے ایک ایکڑ میں 32 تک پودے لگائے جاتے تھے لیکن اب ہائی ڈینسٹی ٹیکنالوجی کے تحت کاشت کے تجربات جاری ہیں جن سے ایک ایکڑ میں 80 تک پودے لگائے جاسکیں گے جبکہ بعض زمین داروں نے اپنے طور پر دو سے چار ایکڑ تک خود ہی کاشت کر لیے ہیں۔

ان کے خیال میں باغوں کی دیکھ بھال میں اضافے اور درخت کاٹنے سے روکنے کی پالیسی پر حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت لازمی ہے۔

ان کے مطابق ملک بھر سے آم کی برآمدات میں 25 سے 30 فیصد ملتان کا آم شامل ہوتا ہے۔ ان میں دسہری، چونسا، کالاچونسا، انورلٹور، لنگڑا اور مالٹا آم سمیت 12 اقسام شامل ہیں۔

موجودہ صورت حال کے مینگو سٹی پر ماحولیاتی اثرات؟

جامعہ بہاؤالدین زکریا شعبہ ماحولیات کے سربراہ ڈاکٹر عبدالواحد نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران ملتان کے ماحول میں بہتری آئی ہے۔

اس کی بڑی وجہ بنجر زمینوں پر فصلیں اور باغات کی کاشت ہے، تاہم شہر میں بھی شعبہ ہارٹیکلچر نے گرین ایریاز بنائے اور سڑکوں کے اطراف بڑی تعداد میں پودے لگائے ہیں اور فلائی اوورز کے نیچے بھی گرین بیلٹس بنا دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا چند سال پہلے تک ملتان میں مٹی بھری آندھیاں آتی تھیں اب صرف ہوائیں چلتی ہیں مٹی نہیں ہوتی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عبدالواحد کے مطابق بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے آنے سے آموں کے باغات اگر کسی حد تک متاثر ہوئے ہیں تو وہ اندر پودے اور گرین ایریاز بنا کر ماحولیاتی مسائل کو حل کر دیتے ہیں۔

ان کے خیال میں ان بڑی ہاؤسنگ کالونیوں پر تنقید کی بجائے اندرون شہر اور دیگر گنجان آبادیوں میں شجرکاری کی مہم چلانی چاہیے، اس سے زیادہ بہتری آئے گی۔

ماحولیات سے متعلق اگر مجموعی جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے تمام بڑے شہروں کے ایئر انڈکس ماحولیاتی آلودگی کے اعتبار سے عالمی معیار پر پورا نہیں اترتے۔

ہاؤسنگ کالونیوں کی قانونی حیثیت؟

پاکستان کے دیگر بڑے شہروں کی طرح ملتان کی بڑھتی ہوئی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے 15 سال پہلے ایک ماسٹر پلان بنایا گیا جس کے تحت گرین ایریاز (جہاں تعمیرات کی اجازت نہیں ہوتی) کو براؤن ایریاز (جہاں تک تعمیرات کی اجازت ہوتی ہے) میں تبدیل کیا گیا تھا۔

ڈائریکٹر جنرل ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی آغا محمد علی عباس نے کہا کہ پنجاب حکومت کے فیصلے پر ملتان کا 2005 میں ماسٹر پلان بنایا گیا جس میں تعمیراتی علاقے کا رقبہ بڑھایا گیا تھا۔

اس منصوبے کی منظوری 2008 میں دی گئی تھی۔ اسے 2008 تا 2028 کا منصوبہ قرار دیا گیا اور 2013 عمل درآمد کی اجازت دے دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ڈی ایچ اے، بچ ولاز، رائل آرچرڈ اور سٹی ہاؤسنگ سکیم فیز ون اور ٹو براؤن ایریاز میں بنائی گئی ہیں۔

آغا محمدعلی کے مطابق بڑی یا چھوٹی جو بھی ہاؤسنگ سوسائٹی بنائی جاتی ہے سب سے پہلے ہم چیک کراتے ہیں کہ سوسائٹی کے لیے خریدا گیا رقبہ گرین ایریا میں تو نہیں، اس کے بعد جتنی زمین خریدی جائے اس کا ریکارڈ جمع کرانا ہوتا ہے، پھر سیوریج، پانی وبجلی سڑکوں کی تعمیر، پارکس اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کا جائزہ لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ ماحولیات سمیت دیگر اداروں سے این او سی لینا بھی سوسائٹی مالکان کے لیے لازمی ہوتا ہے۔

ڈی جی ایم ڈی اے کے مطابق ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لیے زمینوں کی خرید و فروخت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا جو بھی اپنی زمین یا باغ کسی بھی ہاؤسنگ سوسائٹی کو فروخت کرنا چاہے اور جس ریٹ پر دینا چاہے وہ بااختیار ہوتا ہے، تاہم کسی کی زمین پر اس کی مرضی کے خلاف قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ قانونی طور پر جو علاقہ نقشے میں دیا گیا ہے کہ یہاں تک تعمیرات کی اجازت ہے وہاں کسی کو بھی ہاؤسنگ سکیم یا تعمیرات کرنے سے منع نہیں کر سکتے۔

آغا محمد علی کے مطابق جہاں بھی شہر پھیلتے ہیں وہاں پہلے فصلیں یا باغات ہی ہوتے ہیں جو کاشت کاروں نے خود لگائے ہوتے ہیں، اب ان کی مرضی وہ کاشت کریں، باغ لگائیں نہ لگائیں، زمین رکھیں یا نہ رکھیں، زبردستی تو منع نہیں کیا جا سکتا۔

ویسے تو ملک کے دیگر شہروں کی طرح ملتان میں بھی آبادی تیزی سے پھیل رہی ہے لیکن ڈی ایچ اے، سٹی ہاؤسنگ سکیم شہر کی سب سے بڑی سکیمیں ہیں اور یہ شہر کے باہر آبادی سے کچھ فاصلے پر بنائی جا رہی ہیں۔

ملتان کے جنوب میں بوسن روڑ اور متی تل روڑ کے درمیان ڈی ایچ اے بنائی گئی ہے. اس کا ایک حصہ قادر پور راواں کے قریب لاہور روڑ سے منسلک ہو چکا ہے۔

یہ وسیع رقبے پر پھیلی ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ شہر کی سب سے بڑی اور علاقے کے لحاظ سے مہنگی زمین ہے جہاں ایک کنال پلاٹ کی قیمت 50 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ ایک نیا شہر آباد ہو رہا ہو۔ یہ سوسائٹی 16 سے زائد مواضعات پر مشتمل ہے۔

اسی طرح سٹی ہاؤسنگ سکیم کا پہلا فیز بوسن روڑ سے کافی پیچھے تک پھیلا ہوا ہے۔ وہاں بھی تعمیرات کا آغاز ہوچکا ہے اور پلاٹ کی قیمت فی الحال 50 لاکھ سے ایک کروڑ روپے فی کنال تک بتائی جاتی ہے۔

ان کا دوسرا فیز ملتان سے شجاع آباد جانے والی سڑک پر بلیل پل پر بنایا جا رہا ہے۔ یہ ابتدائی مراحل میں ہے جہاں سڑکوں کی تعمیر کا آغاز بھی کچھ دن پہلے کیا گیا۔

انتظامیہ کے مطابق ابھی فائلوں کی فروخت شروع ہوئی ہے، پلاٹ نمبر الاٹ نہیں کیے جا رہے۔ یہاں ابتدائی طور پر 35 سے 50 لاکھ روپے تک فی کنال پلاٹ کی فائلیں فروخت ہو رہی ہیں۔ اس سکیم کے ساتھ لاہور سکھر موٹر وے گزرتا ہے جو شہر کا جنوبی علاقہ ہے۔

ملتان کے باغات کاٹ کر ہاؤسنگ سوسائٹیز بننے پر عدلیہ نے بھی نوٹس لیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے دورہ ملتان کے دوران باغوں کی کٹائی کا نوٹس لیتے ہوئے حکام کو قانونی کارروائی کی ہدایت کی تھی جس پر ضلعی حکومت نے تمام کالونیوں کو باغوں کی کٹائی سے اجتناب کا پابند کیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے واٹر اینڈ انوائرمینٹل کمیشن کے چیئرمین جسٹس (ر) علی اکبر قریشی کی درخواست پر سماعت کی تو عدالت نے دریافت کیا کہ ماحولیات کی رپورٹ کے بغیر درختوں کی کٹائی کیسے ممکن ہے؟

عدالت عالیہ نے  ضلعی حکومت ملتان سے اس بارے میں وضاحت بھی طلب کر لی ہے۔ درخواست گزار کے مطابق ڈی ایچ اے اور دیگر ہاؤسنگ سوسائٹیز نے چھ ہزار ایکڑ رقبے پر آموں کے باغ کاٹ دیے ہیں۔

دوسری جانب سابق جج لاہور ہائی کورٹ ظفراللہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کی منظوری قانونی طور پر لازمی ہے، جس کے لیے ماحولیات، واپڈا، گیس اور سکیورٹی اداروں کی کلیئرنس ضروری ہے۔

12 این او سی درکار ہوتے ہیں لیکن جب تک ایم ڈی اے حتمی منظوری نہ دے تعمیراتی کام شروع نہیں ہوسکتا۔

ماحولیات کا این او سی بھی لازمی ہے۔ تاہم اگر کوئی سوسائٹی انتظامیہ یقین دہانی کرائے کہ وہ جتنے درخت کاٹیں گے اتنے گرین ایریا بنا کر لگائیں گے پھر اتھارٹی کو اختیار ہوتا ہے کہ اعتراض دور کر کے این او سی جاری کر دیا جائے۔

لیکن این او سی جاری ہونے سے پہلے درختوں کی کٹائی یا تعمیراتی کام شروع کرنا غیرقانونی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق