عمر کے کس حصے میں لوگ سب سے زیادہ خوش رہتے ہیں؟

اگر آپ کو زندگی کے ایک سال کا انتخاب کرنا ہو جس میں آپ باقی ساری زندگی گزارنا چاہتے ہوں تو وہ کون سا سال ہو گا؟

کیا آپ اوائل جوانی کو ترجیح دیں گے جب موج مستی کے لیے فرصت ہی فرصت ہوتی ہے؟ (پکسا بے)

کیا آپ نو سال کی عمر منتخب کریں گے جب آپ زندگی کی بیشتر بھاری ذمہ داریوں سے آزاد اور ان کے بجائے دوستوں کے ساتھ کھیل کود اور پہاڑے یاد کرتے ہوئے وقت صرف کرتے ہیں؟

یا آپ اوائل جوانی کو ترجیح دیں گے جب آپ کے پاس دوستوں سے ملنے، سفر کرنے، کلبوں اور میخانوں میں موج مستی کے لیے فرصت ہی فرصت ہوتی ہے؟

مغربی کلچر میں نوجوانی کو بڑا مثالی دور تصور کیا جاتا ہے اس لیے ممکن ہے آپ حیران ہوں کہ ایک حالیہ جائزے میں جب یہی سوال پوچھا گیا تو زیادہ تر لوگوں کا جواب 9 یا 23 نہیں بلکہ عمر کا 36 واں سال تھا۔

تاہم زندگی کے مختلف مراحل کا مطالعہ کرنے والے نفسیات دان (ڈیویلپمنٹ سائیکالوجسٹ) کے طور پر میرے لیے یہ جواب نہایت معقول تھا۔

میں گذشتہ چار سال سے لوگوں کی زندگی کے تیسرے اور چوتھے عشرے کے ابتدائی برسوں کے تجربات کا مطالعہ کر رہا ہوں اور تحقیق کی بنا پر یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ زندگی کا یہ مرحلہ مشکلات کے باوجود نہایت پر اطمینان ہوتا ہے۔

ملازمت اور دوسروں کی دیکھ بھال

جب میں عمر کے تیسرے عشرے میں بطور محقق کام کر رہا تھا اس وقت اسی مرحلے کے متعلق زیادہ مطالعہ کرنا چاہتا تھا۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ عمر کے تیسرے اور چوتھے عشرے میں پہنچے والے افراد پر کوئی بھی تحقیق نہیں کر رہا جس نے مجھے تذبذب میں ڈال دیا۔

عمر کے اس دورانیے میں تو بہت کچھ ہوتا ہے: گھر خریدنا، شادی کرنا یا طلاق لینا، ملازمت ڈھونڈنا، ملازمت تبدیل کرنا، بچے پیدا کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا۔

تحقیق کے دوران مختلف اصطلاحات وضع کر لینا سہولت کا باعث ہوتا ہے۔ اس لیے میں نے اور میرے ہم پیشہ ساتھیوں نے 30 سے 45 سال کے دورانیے کو ’مستحکم بالغ عمر‘ کا نام دیا اور پھر اس کی بہتر تفہیم کے لیے کمربستہ ہو گئے۔

اگرچہ ابھی تک مواد جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے لیکن ہم اس عمر کے 100 افراد کے انٹرویو کر چکے ہیں اور مزید 600 سو لوگوں کا اضافی مواد بھی اپنے جائزے میں شامل کیا ہے۔

یہ وسیع منصوبہ شروع کرتے ہوئے ہمیں توقع تھی کہ مستحکم جوان افراد خوش باش لیکن ابھی تک سخت محنت کی زندگی بسر کر رہے ہوں گے۔

ہمیں اندازہ تھا کہ عمر کے اس دورانیے میں ملازمت، خاندان اور دوستی میں استحکام یا جسمانی و علمی پختگی کی صورت میں انہیں صلہ مل چکا ہو گا لیکن چند اہم مشکلات بھی درپیش ہوں گی۔

جس بنیادی ترین مسئلے کی ہمیں توقع تھی اسے ہم نے ’ملازمت اور دوسروں کی دیکھ بھال‘ کا نام دیا۔

اس کا مطلب ملازمت کے مطالبات اور زندگی کے تیسرے اور چوتھے عشرے میں شامل ہونے والے دیگر افراد کی دیکھ بھال کو بیک وقت ساتھ لے کر چلنا ہے۔

منتخب کردہ ملازمت میں ترقی کی سیڑھیاں چڑھنے کی تگ و دو ،جبکہ اس دوران بچوں کی دیکھ بھال اور والدین بالخصوص بوڑھے والدین کی خدمت شدید ذہنی دباؤ کا باعث اور سخت محنت کی متقاضی ہوتی ہے۔

تاہم جب ہم نے اپنے اعداد و شمار پر نظر ڈالی تو حیران رہ گئے۔

جی ہاں لوگ جذبات سے مغلوب اور محدود وقت میں بہت کچھ کرنے کی بات کر رہے تھے۔ لیکن انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ نہایت مطمئن ہیں۔ وہ تمام چیزیں جو ان کے لیے ذہنی دباؤ کا موجب تھیں خوشی کے اسباب بھی وہی مہیا کر رہی تھیں۔

مثال کے طور پر چوالیس سالہ یُوینگ نے کہا، ’اگرچہ عمر کے اس مرحلے کی بہت سی پیچیدگیاں بھی ہیں لیکن میں اب بہت زیادہ خوشی محسوس کرتا ہوں۔‘

39 سالہ نینا نے سادہ لفظوں میں اپنی کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’میں انتہائی خوش ہوں۔‘ (تحقیقی قواعد کے مطابق اس مضمون میں اصل کے بجائے فرضی نام استعمال کیے جا رہے ہیں۔)

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب ہم نے اپنے اعداد و شمار کو مزید باریک بینی سے پرکھا تو یہ بات واضح ہونا شروع ہو گئی کہ لوگ کس لیے زندگی کے کسی دوسرے سال کی نسبت 36 سال کی عمر میں رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ زندگی کا خوبصورت اور جذبات سے بھر پور وقت ہے۔ لوگوں کے مطابق تعلقات اور ملازمت میں سالہا سال کی تگ و دو کے بعد ایسا لگتا ہے وہ کسی منزل پر پہنچ گئے ہیں۔

36 سالہ مارک کہتے ہیں، ’کم سے کم مجھے ایسا لگتا ہے جیسے ہر چیز ٹھکانے پر ہے۔ گویا مجھے ایک مشین جوڑ کر مکمل کرنا تھی جس کے تمام پرزے بالآخر اپنی درست جگہ پر لگ چکے ہیں۔‘

اوائل جوانی کی افراتفری کے بعد اطمینان کا سانس

اوائل جوانی سے ملازمت، تعلقات اور روز مرہ زندگی کے لیے تمام صلاحیتیں استعمال کرنے کے بعد لوگ نہ صرف استحکام محسوس کرتے ہیں بلکہ ان کے بقول خود اعتمادی اور اپنے آپ کی بہتر تفہیم بھی پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔

36 سالہ جوڈی اوائل جوانی کے تجربات کی قدر کرتی ہیں کیونکہ ان کی بدولت انہیں دانش حاصل ہوئی۔

وہ کہتی ہیں: ’اب آپ زندگی کی ایسی دہائی میں داخل ہو چکے ہوتے ہیں جس میں ٹھہراؤ ہے۔ جب آپ مڑ کر اوائل جوانی پر نظر ڈالتے ہیں تو ضروری نہیں کہ اس وقت کی خواہشات غلط محسوس ہوں۔

یہ بس ایک موقع ہوتا ہے جس میں آپ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ کو کن چیزوں کی ضرورت نہیں اور کیا آپ کے لیے مناسب نہیں۔ سو 30 سال کے بعد آپ کسی ایسے شخص کے ساتھ ملاقاتوں میں بے تحاشا وقت ضائع نہیں کرتے جو نتیجہ خیز ثابت ہونے والا نہیں، کیونکہ آپ اس سے پہلے کئی افراد سے ملاقاتیں کر چکے ہوتے ہیں اور خود پر اتنا اعتماد اور یقین ہوتا ہے کہ صاف انکار کر سکیں۔

آپ کے دوستوں کا دائرہ بہت محدود ہوتا ہے کیونکہ آپ ایسے لوگوں سے جان چھڑا چکے ہوتے ہیں جن کی آپ کو ضرورت نہیں، جو الٹا پریشانیوں کا سبب بنتے ہیں۔‘

جن مستحکم جوانوں کے ہم نے انٹرویو کے ان کی اکثریت نے تسلیم کیا کہ اوائل جوانی کی نسبت 30 سال کے بعد وہ زیادہ خوش تھے اور اس خوشی نے بڑھتی ہوئی عمر کے جسمانی آثار کے متعلق ان کے نقطہ نظر کو بھی متاثر کیا۔

بنیادی طور پر یہ تحقیق شمالی امریکہ کے متوسط طبقے کے افراد سے کیے گئے انٹرویوز پر مبنی ہے اور شریک لوگوں کی اکثریت سفید فام افراد پر مشتمل تھی۔

مزدور طبقے یا کئی دہائیوں سے نسلی تعصب کے شکار گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ممکن ہے پختہ جوانی کا یہ دور بہت خوشگوار نہ ہو۔

ثال کے طور پر 37 سالہ لیزا کہتی ہیں، ’اگر جسمانی طور پر میں عمر کے کسی پہلے حصے میں جاؤں تو اس کے ساتھ اس حصے کی جذباتی و ذہنی کیفیت بھی مجھے قبول کرنا ہو گی جو میں بالکل بھی نہیں چاہتی۔ مجھے ہر روز جذبات کے ہاتھوں میں بے بس ہونا پڑے گا۔‘

ضروری نہیں کہ سب کے لیے یہ مثالی ہو

ہماری تحقیق کا مطالعہ کرتے ہوئے چند ضروری باتیں پیش نظر رہنی چاہییں۔

بنیادی طور پر یہ تحقیق شمالی امریکہ کے متوسط طبقے کے افراد سے کیے گئے انٹرویوز پر مبنی ہے اور شریک لوگوں کی اکثریت سفید فام افراد پر مشتمل تھی۔ مزدور طبقے یا کئی دہائیوں سے نسلی تعصب کے شکار گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ممکن ہے پختہ جوانی کا یہ دور بہت خوشگوار نہ ہو۔

یہ بات بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ ملازمت اور بچوں کی دیکھ بھال کو ویڈ 19 کی وجہ سے بالخصوص خواتین کے لیے مزید مشکل ہو گئی ہے۔ اس وجہ سے ممکن ہے عالمی وبا اطمینان میں کمی کا باعث بنی ہو خاص طور پر پختہ عمر کے ان جوانوں کے لیے جو والدین ہیں اور بیک وقت ملازمت اور بچوں کی دیکھ بھال کی بھاری ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لوگوں کا عمر کے پہلے اور دوسرے عشرے کی نسبت تیسرے عشرے کو خوشگوار ترین وقت سمجھتے ہوئے ترجیح دینا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہمیں اِس حصے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔

بہرحال آہستہ آہستہ اس کا رجحان پڑ رہا ہے۔ میری تحقیق کے علاوہ حالیہ دنوں میں کیلین شیفر نے ایک نہایت عمدہ کتاب لکھی جس کا نام ہے ’لیکن آپ ابھی تک بہت جوان ہیں‘ (But You’re Still So Young) جو 30 سے 40 سال تک کے دورانیے میں زندگی مستحکم کرنے والے افراد کا جائزہ پیش کرتی ہے۔

وہ اپنی کتاب میں ملازمتوں کی تبدیلی، تعلقات کی کامیابی اور بچے کی پیدائش کے لیے درکار زرخیزی کے متعلق واقعات بیان کرتی ہیں۔

میرے ہم پیشہ دوستوں اور مجھے توقع ہے کہ ہمارا اور شیفر کا کام محض نقطہ آغاز ہے۔ مستحکم جوانی کی مشکلات اور کامیابی کی بہتر سوجھ بوجھ پیدا ہونے سے معاشرہ عمر کے اس مرحلے میں لوگوں سے بہتر تعاون کر سکے گا اور اس یقین کے ساتھ کہ یہ سنہرا دور صرف خوشگوار یادیں نہیں چھوڑ کر جاتا جنہیں ہم بعد میں بڑے شوق سے پیچھے مڑ کر دیکھیں گے بلکہ بعد کی پوری زندگی کے لیے مضبوط بنیاد بھی استوار کرتا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق