30 اپریل 1951: جب بہاولپور صوبہ بنا

بہاولپور کی صوبائی اسمبلی میں قانون سازی کے امور سرانجام دیے جاتے تھے اور ملک کے باقی صوبوں کی طرح بہاولپور صوبے کا بھی بجٹ پیش ہوتا تھا۔

نور محل جو بہاولپور کے نوابوں کا انتظامی مرکز تھا (Muhammad Ashar: CC BY-SA 3.0)

اگست 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد ریاست بہاولپور نے نوزائیدہ مملکت پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔ الحاق کے ابتدائی چند برسوں میں بہاولپور کے حکمران نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی اور حکومت پاکستان کے درمیان متعدد معاہدے کیے گئے، انہی معاہدوں میں ایک 30 اپریل1951 کو ہونے والا ضمنی معاہدہ ’انسٹرومنٹ آف ایکسیشن‘ بھی شامل ہے، جس کے تحت ریاست بہاولپور کے تمام مرکزی امور حکومت پاکستان نے لے لیے جبکہ صوبائی امور جو باقی صوبوں کو حاصل تھے، ان کا اختیار بہاولپور کو دے دیا گیا تھا۔

صوبے کا درجہ ملنے کے بعد بہاولپور میں پاکستان کے باقی حصوں کی طرح ’ایک فرد، ایک ووٹ‘ کی بنیاد پر عام انتخابات کا انعقاد ہوا تو اس وقت کی بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ نے فتح حاصل کی اور صادق آباد سے تعلق رکھنے والے سید حسن محمود صوبہ بہاولپور کے وزیر اعلیٰ بنے۔ منتخب ہو کر آنے والے وزیر اعلیٰ بہاولپور کو وہی اختیارات حاصل تھے جو دوسرے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو حاصل ہوتے تھے۔

بہاولپور کی صوبائی اسمبلی میں قانون سازی کے امور سرانجام دیے جاتے تھے۔ صوبے کا اپنا الگ سیکرٹیریٹ اور اپنا پبلک سروس کمیشن تھا۔ ملک کے باقی صوبوں کی طرح بہاولپور صوبے کا بھی بجٹ پیش ہوتا تھا۔ اگرچہ بہاولپور کا رقبہ زیادہ بڑا نہیں تھا، تاہم ایک اندازے کے مطابق 1951 اور 1952 میں بہاولپور کا بجٹ اس وقت کے صوبہ سرحد کے برابر تھا۔

بہاولپور کی یہ صوبائی حیثیت 14 اکتوبر 1955 تک ہی برقرار رہی جب وزیر اعظم محمد علی بوگرہ کی حکومت نے مغربی پاکستان کے صوبہ جات، پنجاب، سندھ، بلوچستان، بہاولپور اور شمال مغربی سرحدی صوبہ کو ملا کر ایک اکائی میں تبدیل کر کے اس صوبائی بندوبست کو ’ون یونٹ سکیم‘ کا نام دے دیا۔

ون یونٹ وہ منصوبہ تھا جسے پاکستان کی وفاقی حکومت نے مغربی پاکستان کے تمام صوبوں، ریاستوں اور قبائلی علاقہ جات کے انضمام کے لیے شروع کیا تھا۔ جس کے تحت مملکت پاکستان کے مغربی حصے کے تمام صوبوں کو یکجا کر کے 12 ڈویژن پر مشتمل ایک اکائی کی صورت دی گئی، جبکہ اس کا دوسرا حصہ مشرقی پاکستان کی صورت میں موجود تھا۔ اس طرح پاکستان محض دو صوبوں پر مشتمل ایک ریاست بن گیا۔ ون یونٹ منصوبے کا اعلان وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے 22 نومبر 1954 کو کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ون یونٹ کی اس پالیسی کا مقصد بظاہر انتظامی بہتری لانا تھا لیکن کئی لحاظ سے یہ اقدام تباہ کن تھا۔ مغربی پاکستان میں موجود بہت ساری ریاستوں نے تقسیم ہند کے وقت پاکستان میں اس ریاستی یقین دہانی پر شمولیت اختیار کی تھی کہ ان کی خود مختاری قائم رکھی جائے گی، لیکن ون یونٹ قائم کرنے کے فیصلے سے تمام مقامی ریاستوں کا خاتمہ ہو گیا۔ اس سلسلے میں ریاست بہاولپور کے علاوہ خیر پور اور قلات کی ریاستیں بالخصوص قابل ذکر ہیں۔

یکم جولائی 1970 کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر صدر جنرل یحییٰ خان نے لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے ونٹ یونٹ کا خاتمہ کرتے ہوئے متحدہ پاکستان کے تمام صوبوں کو بحال کر دیا، البتہ صوبہ بہاولپور کی صوبائی حیثیت ختم کرتے ہوئے اسے پنجاب میں ضم کر دیا گیا۔

ون یونٹ کے خاتمے کے بعد بہاولپور کو علیحدہ یونٹ کے طور پر بحال نہ کرنے پر یہاں کے عوام نے شدید ردعمل دکھایا اور صوبائی حیثیت کی بحالی کے لیے زبردست تحریک چلائی۔ اس تحریک کا مرکز بہاولپور کا فرید گیٹ بنا جہاں جلسے منعقد کیے جاتے تھے۔ یہ تحریک لگ بھگ چھ ماہ تک چلتی رہی۔ اس کے بعد تشدد سے اسے دبا دیا گیا۔ گولیاں چلیں، آنسو گیس کا استعمال ہوا۔ ان تمام افراد کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا جو اس تحریک سے وابستہ تھے۔

دسمبر 1970 کو ہونے والے پاکستان کی تاریخ کے پہلے عام انتخابات بہاولپور کی بطور صوبہ بحالی کی بنیاد پر لڑے گئے۔ اس میں ماسوائے پاکستان پیپلز پارٹی کے باقی تمام جماعتوں نے اسی مطالبے کی بنیاد پر ایک متحدہ محاذ بنایا، جس میں مسلم لیگ، تحریکِ استقلال، جماعتِ اسلامی وغیرہ شامل تھیں۔ اس پہلے عام انتخابات میں مرکزی اسمبلی کی آٹھ میں سے چھ اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی 18 میں سے 16 نشستوں پر بہاولپور سے وہ امیداوار کامیاب ہوئے جو بہاولپور کو علیحدہ صوبہ بنانے کے حامی تھے۔

انتخابات میں فقید المثال کامیابی کے بعد صوبہ بہاولپور متحدہ محاذ کے رہنماؤں نے ڈھاکہ میں شیخ مجیب الرحمٰن سے ملاقات کی، جن کی جماعت عوامی لیگ مرکزی اسمبلی کی کل 300 میں سے 160 سیٹیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کر چکی تھی۔ متحدہ محاذ کے رہنماؤں سے ملاقات کے دوران مجیب الرحمٰن نے کہا کہ میں وزیرِ اعظم بننے والا ہوں، میں بہاولپور کو علیحدہ صوبے کے طور پر ضرور بحال کروں گا۔ تاہم اس کے بعد مجیب وزیرِ اعظم بن پائے، نہ بہاولپور صوبہ بن سکا۔

بہاولپور ایک زمانے میں برصغیر کی امیر ترین ریاستوں میں سے ایک تھی، مگر اپنی حیثیت کھونے کے بعد اب محض تین اضلاع کے ڈویژن پر مشتمل ہے۔ وسط میں بہاولپور، اس کے مغرب میں رحیم یار خان اور مشرق میں بہاول نگر کے اضلاع ہیں۔ بہاولپور ڈویژن کا رقبہ 45 ہزار 588 مربع کلو میٹر ہے۔ اس میں چولستان 20 ہزار 200 کلومیٹر ہے جبکہ اس علاقے کی لمبائی 480 کلو میٹر ہے۔ اس کا مشرقی اور جنوبی حصہ بھارت کے ساتھ لگتا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ قائم کرنے کے باوجود بہاولپور کے عوام کی اکثریت اب بھی بہاولپور کے علیحدہ صوبے کی حامی ہے۔ تحریک بحالی صوبہ بہاولپور کے مرکزی رہنما قاری مونس بلوچ کے مطابق بہاولپور نے جو ترقی ریاست کے دور میں شروع کی وہ صوبے کے دور تک جاری رہی، مگر پھر تھم گئی اور آج تک جامد ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ