جوانی میں چمک تو بہت ہے لیکن نوجوان خوش نہیں

ماضی و مستقبل سے بے فکر لمحہ موجود میں جینے کی کوششوں کے باوجود نوجوانوں پر دباؤ اتنا ہوتا ہے کہ جوانی ان کے لیے تکلیف دہ بن جاتی ہے۔

عہد حاضر کی منفرد خود آگاہی کی ثقافت نے نوجوانوں سمیت ہر نسل کے لوگوں میں ناپائیداری کا تصور پختہ کر دیا ہے(تصاویر: پکسا بے)

ماضی و مستقبل سے بے فکر لمحہ موجود میں جینے کی کوششوں کے باوجود نوجوانوں پر دباؤ اتنا ہوتا ہے کہ جوانی ان کے لیے تکلیف دہ بن جاتی ہے۔  

آرتھر کرسٹل سال 2019 کے امریکی رسالے ’نیویارکر‘ میں بڑھاپے پر لکھے گئے مضمون کا اختتام مسیحیوں کی مذہبی کتاب ’کتابِ واعظ‘ کے اِس حوالے سے کرتے ہیں۔ ’ایک نسل رخصت ہوتی ہے اور دوسری قدم رکھتی ہے: لیکن زمین ہمیشہ ویسے ہی رہتی ہے۔۔۔۔ زیادہ آگاہی زیادہ دکھ کا باعث ہے اور جو علم میں اضافہ کرتا ہے وہ دکھوں میں اضافہ کرتا ہے۔‘

اس کے نیچے تبصرہ ہے کہ ’کوئی نوجوان ایسا نہیں لکھ سکتا۔‘

میں اس سے اختلاف کی جرات کرتی ہوں۔

عہد حاضر کی منفرد خود آگاہی کی ثقافت نے نوجوانوں سمیت ہر نسل کے لوگوں میں ناپائیداری کا تصور پختہ کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی وائرل ہونے والی پوسٹوں سے یہ تاثر مزید گہرا ہوتا ہے جہاں 18 سال کے بچے تک ٹک ٹاک استعمال کرنے کی عمر سے خود کو بڑا سمجھتے ہیں اور یہی بات چہرے کو زیبائشی انداز میں پیش کرنے والے رجحانات میں دیکھی گئی ہے جو خاص طور پر 80 کی دہائی کے اواخر اور 90 کی دہائی کے میں پیدا ہونے والے افراد کے لیے ہیں۔

خود میری عمر 24 سال ہے اور میں خود ذاتی طور پر لمحہ موجود میں جینے کی کاوشوں کے باوجود اس بات کی تصدیق کر سکتی ہوں کہ اس عمر میں وقت گزرنے کا احساس کتنا خوفناک ہے۔

لاک ڈاؤن نے اس احساس کی شدت میں بس اضافہ کر دیا ہے۔ ہم کئی مہینوں سے مسلسل طے شدہ معمولات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جہاں معمولی کی معاشرتی زندگی کا انتظار طویل ہوتا جا رہا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ وقت بے رحمی سے رواں دواں ہے اگرچہ ہم پھنسے ہوئے ہیں، رکی ہوئی زندگیاں جیسے الماری میں کوٹ لٹکے ہوں۔ بالخصوص ہم میں سے ان افراد کا گذشتہ سال ایک ضائع شدہ سال ہے، کہ اس دوران ہم کوئی تہلکہ مچا دینے والی کتاب نہیں چھپوا سکے، یا انقلابی کاروباری خیالات کو عملی شکل دینے سے محروم رہے۔ نوجوان جن کے باطن میں یہ تصور راسخ ہے کہ عمر کی دوسری دہائی جوش و خروش، لطف اور تجسس کی دہائی ہوتی ہے ان کے لیے ایسی حقیقی صورت حال (سکڑتے ہوئے روزگار کے مواقع، تمام سماجی تعلقات کا انقطاع، رہائش کے مسائل) کا سامنا دھوکے سے کم نہیں اور احساس محرومی کی وجہ سے ان کے لیے دوست کے جنم دن کی پارٹی سے محرومی کا مطلب ہے زندگی کی پارٹی سے محرومی۔

میں نے اپنے ذہن میں ایک فہرست مرتب کر رکھی تھی کہ مجھے 50 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے یہ کام کرنے ہیں۔ ایک یا دو ناول لکھنے ہیں۔ گلوب کمپنی کے لیے ایک سیزن کی ڈائریکشن دینی ہے۔ بالزاک کے مزاحیہ ناولز کی پوری سیریز پڑھنی ہے۔ بار بار چاہنا اور چاہے جانا ہے۔

مجھے سکھایا گیا تھا اگر انسان تہیہ کر لے تو کچھ بھی حاصل کرنا ناممکن نہیں۔ میں اس یقین کے ساتھ بڑی ہوئی تھی کہ ممکنات کے کنویں میں گہرائی تک جھانکو اور ایک ایک کر کے امکان سمیٹے ہوئے اپنا دامن بھرتے جاؤ۔ جو نہیں بتایا گیا تھا وہ یہ کہ مجھے مرنا بھی ہے، ایک یاد دہانی کہ ممکن ہے یہ سب حاصل کرنے تک میں زندہ ہی نہ رہوں۔ 23 سال تک مستقل ملازمت اور 50 سال تک بھر پور اپنی آزادانہ زندگی کی متوقع منزل سے کوسوں دور، مستقبل کے ایسے امکانات نگاہوں میں گھومتے ہیں جو ویسے خوشنما نہیں۔

گذشتہ گرمیوں کی تعطیلات میں ایک معمولی سے سیر سپاٹے کے دوران ایک خوش اخلاق ویٹر کو اپنی ماں سے مخاطب دیکھ کر (انہیں میرے متعلق فکرمندی سے روکتے ہوئے اس نے معقول بات کی کہ ’مگر وہ کوئی بچی تھوڑی ہے‘) میرا چہرہ غصے سے زرد ہو گیا۔ بچی نہ ہونے کا مطلب خود احتسابی ہے کہ میں زندگی میں کہاں کھڑی ہوں، ابھی ملازمت ڈھونڈنی ہے، ابھی یہ معلوم کرنا ہے کہ میں کس مقام پر پہنچنا چاہتی ہوں جبکہ حالت یہ ہے کہ مجھے کیفے میں ناشتہ تک امی نے لا کر دیا۔

بڑھاپے کے متعلق بہت سی چیزیں مجھے خوفزدہ کر دیتی ہے۔ پہلی چیز اپنے دماغ کے سوتے خشک ہونا اور تخلیقی صلاحیتوں کا جمود ہے۔ مصنفین کہاں پناہ لیتے ہیں جب بوڑھے ہو جائیں اور لکھ نہ سکیں؟ پھر یادداشت کا سوال ہے۔ اگر ہم وہ ہیں جو ہم یاد رکھتے ہیں تو یادداشت کھو جانے سے میں کیسی انسان بن جاؤں گی؟ کاش میں تمام سوالات کر سکتی لیکن ابھی تک اتنی ہمت نہیں۔ اگر مجھے متجسس فضا اچھا لگتی ہے تو پھر میں اس موضوع پر لکھ ہی کیوں رہی ہوں؟ شاید اس لیے کہ مجھے خود سمجھ نہیں آ رہی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی اور جو چیز سمجھ میں نہ آ رہی ہو وہ میں محسوس کرتی ہوں اس لیے سمجھ میں نہ آنا بہت اہم ہے۔

انیسویں صدی کے روس میں اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ افراد دنیا کے سفر پر نکل کھڑے ہوتے تھے اور ان کے پاس غیر سنجیدہ نوجوانوں کی طرح اس قسم کی باتوں میں سر کھپانے کی فرصت نہیں ہوتی تھی۔ شادی بیاہ اور پرسکون زندگی جیسی ذمہ داریاں جس قدر ممکن ہوتا وہ خوشی سے ملتوی کرتے جاتے تاکہ زیادہ سے زیادہ اپنے علم میں اضافہ کر سکیں اور مختلف براعظم گھوم سکیں۔ لیکن سٹیفان زویگ کی یادداشتوں پر مبنی خود نوشت میں آسٹریلیا ہنگری سلطنت کی پیش کی گئی تصویر اور بھی ناقابل فہم ہے جہاں بڑھتی ہوئی عمر کے زیادہ فوائد ہیں اس لیے آسٹریلیا اور ہنگری کے جوان بوڑھے لوگوں کا روپ دھارنے کے لیے تیز رو داڑھی کے بال چھوڑ دیتے، بغیر ضرورت سنہرے فریم والے چشمے لگا لیتے اور سنجیدگی دکھانے کے لیے ٹھہر ٹھہر کر چلتے تاکہ زیادہ سے زیادہ فوائد سمیٹ سکیں۔

آج کے معاشرے میں بوڑھے لوگ بس غائب ہو جاتے ہیں۔

یہ 2015 ہے اور میں ابھی تک میلانو میں ہائی سکول کی طالب علم ہوں۔ میں ایک روایتی کم گو اور شرمیلی قسم کی نوجوان ہوں لیکن اتنی شریف بھی نہیں کہ ہماری عمارت میں رہائش پذیر عورتیں جمعرات والے دن جب ناؤ نوش کی محفل میں بلائیں تو انکار کر دوں۔ شروع شروع میں مَیں صرف مفت کی شراب اور روایتی اطالوی روٹی تک محدود رہتی لیکن بہت جلد وہ وقت آ گیا جب جمعرات کا انتظار ہونے لگا۔ ہماری باتیں معمولی لیکن بڑی جاندار ہوتی ہیں۔ بوڑھی عورتوں کو مشروبات میں سب سے زیادہ کیمپاری پسند ہے: گریزیئلا اسے بہت ساری برف اور پروسیکو کے چھینٹوں کے ساتھ پسند کرتی ہیں، لینا کچھ ملائے بغیر ترجیح دیتی ہیں۔ کڑواہٹ ہوتی ہے لیکن اس کا رنگ چمکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مجھے خاص طور پر ماریسا کے ساتھ بہت مزہ آتا ہے۔ وہ طویل قامت لیکن کم گو ہیں جو اپنی اسقاط حمل کی گولیوں کی تاریخ سے پردہ اٹھاتی ہے۔ ان کے ہاتھ بہت پیارے اور جب چلتی ہیں تو سکرٹ لہراتے ہوئے سرسراہٹ کی آواز آتی ہے۔ ایک دن وہ تحائف اٹھائے نمودار ہوتی ہیں۔ ایک کانچ کا گلدان، اور ایک الو کی شکل کا کلپ۔ میں احتجاج کرتی ہوں کہ یہ بہت زیادہ ہے لیکن فوراً خاموش کرا دی جاتی ہوں۔ وہ نہیں چاہتیں کہ ان میں سے کوئی بھی چیز غلط ہاتھوں میں پہنچے۔ میں حیران ہوتی ہوں کہ اگر وہ چوروں سے اتنی ہی خوفزدہ ہیں تو اپنی چیزیں تالے میں کیوں نہیں رکھتیں لیکن ان سے کہتی نہیں۔ میرا پسندیدہ ترین تحفہ نیلا لبادہ ہے جس پر ہر طرف پھول بنے ہوئے ہیں۔ یہ بہت لمبا ہے اور جب میں چلتی ہوں تو یہ لہراتے ہوئے سرسراہٹ پیدا کرتا ہے۔

ایک دن اچانک ماریسا نظر آنا بند ہو جاتی ہیں۔ ہم پڑوسیوں کے دروازے پر دستک اور پرسش کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں لیکن کسی کو علم نہیں ہوتا۔ بالآخر دربان سے حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ ماریسا کا سوتیلا بیٹا جو ان کی کبھی کبھار کی کہانیوں کا شریر مرکزی کردار ہوتا تھا، انہیں کسی حفاظتی مرکز میں چھوڑ آیا ہے اگرچہ ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کون سے والے میں۔

جمعرات کی ناؤ نوش کی محفل چپکے سے دم توڑ دیتی ہے۔

آج کے معاشرے میں بوڑھے لوگ ماریسا کی طرح اچانک غائب ہو جاتے ہیں یا ان کے پاس لوگوں کے ساتھ چشم کشا تعامل کے بعد اوجھل ہوئے بنا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ کون مرد یا عورت ہوش و حواس میں ہوتے ہوئے ایسے افراد کے پاس جانا پسند کرے گی جو ہر وقت ان کے کان کھاتے رہتے ہوں ،اب چاہے یہ تبصرے ٹھیک ہوں لیکن سوہان روح بن جاتے ہیں ( کیا وہ سن سکتی ہے؟) خود پسندانہ فرسودہ خیالات، (جیسا کہ مجھے یقین ہے آپ جانتے ہوں گے۔۔۔۔) یا سیدھا شرمندہ کرنا (ٹھیک ہے بڈھے)؟ معاشرے کے بزرگ شہریوں کے لیے دوسرے لوگ واقعی دوزخ ہیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں ان سے گپ شپ کے بجائے اتوار کو پادری کی طرف جانا جانا پسند کروں گی۔

اگر انہیں بہت جلد حفاظتی مراکز میں نہ بھیج دیا جائے تو بوڑھے افراد کو باعزت طریقے سے غائب ہو جانے پر مجبور کر دیا جاتا ہے، پہلے ان کی مرضی کے خلاف کام سے ریٹائرمنٹ کی صورت میں اور پھر انہیں یہ احساس دلا کر کہ ان کی عمر بھر کی دانائی از کار رفتہ اور بے سود ہے۔ دباؤ کا شکار ایسے افراد ’خوشگوار بڑھاپے کا نمونہ‘ سمجھے جاتے ہیں لیکن ان کے مخالفین ان کا مذاق اڑاتے اور تعصب برتتے ہیں۔

میں اکثر اوقات اپنی 61 سالہ ماں کے لیے مصیبت بنی رہتی ہوں: میں ان کے درخشاں بے داغ خد و خال، جوان دل، اور موسیقی کے ذوق پر بے انتہا حیران ہوتی ہوں۔ ان کو زندہ معجزہ کہنے کے میرے تعریفی کلمات ان کے لیے تعریف سے زیادہ میری اپنی فکرمندیوں کا اظہار ہیں۔ پھر جب ان کی کام کرنے کی انتھک صلاحیت کے باوجود ایسے نظام میں جہاں ان کے ولولے کی کوئی قدر نہیں، انہیں عارضی ملازمت سے مستقل ملازمت دینے سے محروم رکھا جاتا ہے تو میں مشتعل ہو جاتی ہوں۔

یہ اچھنبھے کی بات نہیں کہ نئی نسل کو اپنی جوانی بچانے کے لیے سر توڑ کوشش کرنی چاہیے کیونکہ حسن، ذہانت اور مقبولیت صرف نوجوانوں کا حصہ ہیں۔ اگرچہ نام نہاد نوجوانوں کے کلچر نے نوجوانوں کے حق میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ نوجوان افراد سکرین کے سامنے اور گلی کوچوں میں ہوس پرستی کا تیزی سے نشانہ بنتے جا رہے ہیں جو پورن انڈسٹری کے مقبول ترین سلسلوں میں سے ایک کے مطابق ’قانونی طور پر بمشکل بالغ‘ ہیں اور سکول کی ’بے لگام جنسی تعلقات والی بچیاں‘ ہیں۔ روزمرہ زندگی میں بچوں پر آوازے کسے جاتے ہیں ،انہیں اغوا اور جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

نوجوانوں کی ہٹ دھرمی، اور نئے حالات سے ہم آہنگی کی ستائش کر کے ان کی جوانی کا تاوان وصول کیا جا رہا ہے جن کا روزگار کے لیے مارکیٹ میں قدم رکھنے سے پہلے ہی خون نچوڑ لیا جاتا ہے، اس سال یونیورسٹیوں سے گریجویشن کرنے والے طلبہ اوسطاً 50 ہزار پاؤنڈز کے مقروض ہوں گے، اور پھر مسلسل کمر توڑ محنت کرنی پڑتی ہے۔

نوجوان ملازمین سے طے شدہ وقت کے بعد بھی کام کی توقع کی جاتی ہے اور وہ جدید کاروباری تقافت کا حصہ رہنے کے لیے با امر مجبوری کرتے چلے جاتے ہیں تاکہ انہیں بے کار سمجھتے ہوئے نکال نہ دیا جائے یا ان کی ترقی نہ روک دی جائے۔ جیسے ابھی کوئی کسر باقی ہو، گذشتہ سال سے وبا کے بعد بننے والی منصوبہ بندیوں میں نوجوانوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ بوڑھے افراد کی حفاظت کے نام پر اپنی فلاح و بہبود اور معاش سے دستبردار ہو جائیں جبکہ گھروں کو قبرستان بننے یا مسلسل لاک ڈاؤن ملتوی ہونے کے دوران بوڑھے لوگوں کو تنہا یا الگ تھلگ مرنے سے روکنے میں اس چیز کا کردار نہ ہونے کے برابر تھا۔

یہاں تک کہ ملازمت ملنے سے پہلے، وقتی طور پر چند سکے کماتے ہوئے میں پیٹرسن کے مشہور نظریے millennial burnout سے میں اچھی طرح آگاہ ہو چکی تھی۔ سب سے بڑی مصیبت یہی ہے کہ میں لمحہ موجود سے لطف اندوز نہیں ہو سکتی: جیسے ہی میں نے ایک مضمون مکمل کیا بجائے یہ کہ اپنی محنت کے نتیجے میں خوشی محسوس کروں مجھے دوسرے مضمون کا کہہ دیا جاتا ہے۔ بمشکل مجھے انٹرن شپ میں ایک ماہ ہوا ہے لیکن میں تھکاوٹ کا شکار ہوں۔ ممکن ہے کچھ لوگ کہیں کہ یہ میری اپنے لکھنے کے شوق کا شاخسانہ ہے لیکن میرا دعویٰ ہے کہ کوئی بھی شخص آج مارکیٹ میں قدم رکھے اور اس کے مسابقتی دباؤ سے بچ کر دکھائے۔ اگر میں اوقات کار سے زائد وقت صرف کرنے یا راتوں رات مضمون لکھنے پر رضامند نہیں ہوتی تو میری جگہ کوئی اور لے لے گا۔ اس سے بھی بدتر چیز یہ ہے کہ روزانہ دس گھنٹے کام کرنے کے باوجود مجھے ملازمت کی کوئی ضمانت، کوئی اضافی فوائد حاصل نہیں جبکہ لندن میں رہتے ہوئے روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بیکاری کو بری نظر سے دیکھنے کی تربیت کے سبب کچھ نہ کرنا مجھے احساس جرم میں مبتلا کر دیتا ہے بجائے یہ کہ جس آرام کی ضرورت تھی وہ ملنے پر اظہار تشکر کروں۔

ہم تندہی سے ملازمت کرتے رہیں یا چھوڑ دیں اندرونی کشمکش کی عمل داری جوں کی توں رہتی ہے۔ بہرحال عمر کی دوسری دہائی ہماری زندگی کا بہترین وقت تصور کیا جاتا ہے۔ اس بات میں بھی بنیادی تضاد موجود ہے۔ ایک طرف جوانی ایسی چیز ہے جس میں ہم بھرپور موج مستی کرتے اور اسے کھونا نہیں چاہتے جبکہ اس کے برعکس بڑھاپا بالکل ہی ناپسندیدہ چیز ہے: دوسری طرف یہ ایسا وقت ہے جسے ہم میں سے کچھ لوگ (ہم میں سے غریب لوگ) مالی استحکام، پیشہ ورانہ ضمانت اور کسی ذریعہ آمدن کے بدلے تیگانے کے لیے بے چین ہوتے ہیں۔

اپنی بھرپور چمک دمک کے باوجود نوجوانی تباہ کن ہے۔ خود ستائشی کی عادی اور دوسروں کو حقیر سمجھتی نوجوانی اپنی کمزوریاں نظر انداز کرتے ہوئے سارا زور بڑھاپے کو کم تر دکھانے میں صرف کر دیتی ہے۔ نسلوں کے درمیان تضادات ختم ہونے چاہئیں کیونکہ ان کا کچھ فائدہ نہیں۔ پرانی نسل ہمیں سست اور توجہ کے طلبگار کہتی ہے اور ہم انہیں خود غرض اور نکمے ہونے کا الزام دیتے ہیں جبکہ ہمارے درمیان بے چینی پیدا کرنے کی ذمہ دار قوتوں پر غور نہیں کیا جاتا۔ ہمیں چاہیے کہ ملازمین کے استحصال اور ہر عمر کے انسانوں کے ساتھ روا غیر انسانی سلوک کے خلاف جد و جہد پر توجہ مرکوز کریں تاکہ سب کے لیے زندگی زیادہ خوشگوار ہو۔ میرا خیال ہے باہمی تعاون کا سلسلہ اسی صورت میں شروع ہو سکتا ہے اگر ہمیں دوبارہ سے ایک دوسرے کو نرمی سے مخاطب کرنا سیکھ لیں۔ ابھی تک ہماری روش نہایت افسوسناک رہی ہے۔

مجھے لگتا ہے بڑھاپے کے خوف سے نجات کا واحد راستہ دلیری سے اس کا سامنا کرنا ہے۔ میں نے پختہ عزم کر لیا ہے کہ جس قدر بوڑھے لوگ مجھے ملے میں ان سے گپ شپ کروں گی ۔ مجھے نہیں اندازہ کہ اس کا کچھ زیادہ فائدہ ہو گا یا نہیں: ممکن ہے ایسی چیزیں سامنے آئیں جو کسی اور طرح میں بالکل نہ جان سکتی۔ یا دوسری صورت میں شاید یہ جمعرات کو ہونے والی ناؤ نوش کی نئی محفل کا پیش خیمہ بن جائے۔

ماریسا کی آواز میں سن سکتی ہوں جو مسکراتے ہوئے کہتی ہیں، ’تم بہت زیادہ سوچتی ہو۔‘ انہوں نے بے خیالی میں نہایت عمدگی سے پوری نسل کی بے چارگی کو بیان کر دیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل