بیت المقدس میں اسرائیلی کارروائی: میڈیا کی زبان

ایک ملک کئی نسلوں سے ایک جگہ بسنے والے کو جبری بےدخل کر رہا ہے، لیکن اس کے لیے مغربی میڈیا کے پاس جو لفظ ہے وہ ہے Property dispute۔

مغربی میڈیا ویسے تو غیرجانب داری اور توازن کے دعوے کرتا ہے لیکن جہاں فلسطینیوں اور اسرائیل کا معاملہ آتا ہے، ان کی جانب سے برتے جانے والی زبان صاف بتا دیتی ہے کہ لفظوں کے مخصوص استعمال سے واقعے کو کیسے خلط ملط کیا جا رہا ہے۔

اس کی ایک حالیہ مثال بیت المقدس کے علاقے شیخ جراح میں پیش آنے والا واقعہ ہے۔ ہوا یوں کہ اس علاقے میں متعدد فلسطینی خاندان آباد تھے، جنہیں اسرائیل وہاں سے بےدخل کر رہا ہے۔ اس پر فلسطینیوں نے احتجاج کرنا شروع کیا تو اسرائیل نے طاقت کا استعمال کر کے متعدد افراد کو ہلاک و زخمی کر دیا۔

اب دیکھیے کہ اس واقعے کو مغربی میڈیا کیسے پیش کرتا ہے:

ایک ملک کئی نسلوں سے ایک جگہ بسنے والے کو زبردستی وہاں سے نکال رہا ہے، لیکن اس کے لیے مغربی میڈیا کے پاس جو لفظ ہے وہ ہے Property dispute۔ جیسے یہ جائیداد کے لین دین کا کوئی معمولی سا واقعہ ہو، ایسا واقعہ جس پر 15، 20 سال دیوانی عدالت میں مقدمہ چلتا رہتا ہے، آخر میں مک مکا ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد جبری بےدخلی کا معاملہ آتا ہے۔ انگریزی وسیع زبان ہے، یہاں اس واقعے کو بیان کرنے کے لیے کئی الفاظ موجود ہیں، مثال کے طور پر  Forced expulsion لیکن اس کی بجائے کئی اخباروں میں گول مول لفظ  Eviction استعمال ہو رہا ہے، جو ایک بار پھر قانونی اصطلاح ہے۔ یعنی کسی شخص نے بینک سے قرض لے کر مکان خریدا ہے اور قسطیں ادا نہیں کر پا رہا تو عدالت اس کی Eviction کا نوٹس دے دیتی ہے۔ نیچے دیے گئے نیویارک ٹائمز کے تراشے میں ایک اور ’ہومیوپیتھک‘ قسم کے لفظ Remove پر بھی غور کیجیے جو جبری بےدخلی کے تاثر کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہی نہیں، جب بھی اسرائیل اور فلسطینیوں کے احتجاج کی بات ہوتی ہے، انگریزی کے بین الاقوامی اخباروں میں دو سب سے عام لفظ جو برتے جاتے ہیں وہ ہیں Clash اور Conflict۔

عام طور پر لفظ Clash وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں دونوں فریق برابر کے ہوں۔ ایک طرف دنیا کی طاقتور ترین افواج میں سے ایک ہو، دوسری جانب غلیلوں سے ’مسلح‘ مظاہرین، تو وہاں پر Clash کا لفظ معنی کھو دیتا ہے۔

زبان کا یہ مخصوص استعمال صرف حالیہ واقعات تک محدود نہیں۔ تحقیق کار ایک عرصے سے مغربی میڈیا میں اسرائیل اور فلسطینیوں کی کوریج کے معاملے میں مخصوص زبان کے استعمال پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

جب فلسطینی اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی کرتے ہیں تو اسے Attack لکھا جاتا ہے، لیکن اسرائیلی کارروائی کو عام طور پر Retaliation یعنی جوابی کارروائی لکھا جاتا ہے۔ امریکی تنظیم ’فیئرنیس اینڈ ایکوریسی ان رپورٹنگ‘ کے مطابق تین امریکی چینلوں پر دو سال کے عرصے میں 150 مرتبہ یہ لفظ استعمال ہوا، لیکن 79 فیصد مرتبہ اسرائیلی کارروائی کے بارے میں، اور صرف نو فیصد فلسطینی کارروائی کو بیان کرنے کے لیے۔

آپ کو شاید گیلاد شالت نامی اسرائیلی فوجی یاد ہو، جسے فلسطینی عسکریت پسندوں نے 2006 میں پکڑا تھا اور 2011 میں اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے بعد رہا کیا تھا۔

اس کے بارے میں مغربی میڈیا میں جو لفظ سب سے زیادہ استعمال ہوا، وہ تھا Kidnap یعنی اغوا۔ لیکن جب اسرائیل نے اس پر ’Retaliate‘ کرتے ہوئے حماس کے 60 ارکان کو پکڑا، جن میں سے نصف ارکانِ پارلیمان تھے، تو اس کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ Arrest تھا۔

اسی طرح بی بی سی ٹیلی ویژن کی کوریج کے تجزیے کے بعد سکاٹ لینڈ کے تحقیق کار اس نتیجے پر پہنچے کہ جب فلسطینیوں کی جانب سے کیے جانے والے تشدد کی بات کی جاتی ہے تو اس کے لیے جو لفظ زیادہ استعمال ہوتے ہیں وہ ہیں Atrocity, Brutal Attack, Slaughter, Lynching۔ یہ تمام الفاظ وحشیانہ طرزِ عمل اور بربریت کا پہلو لیے ہوئے ہیں۔

اسی طرح فلسطینی حملہ آوروں کو Terrorist کہا جاتا ہے، لیکن جب کوئی یہودی انتہاپسند گروہ فلسطینیوں کو نشانہ بناتا ہے تو اسے دہشت گرد کی بجائے Extremist یا پھر Vigilante یعنی ’خدائی فوجدار‘ کہہ دیا جاتا ہے۔

زبان وہ میڈیم ہے جس کے ذریعے ہم دنیا کے تمام علوم اور معلومات تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اسی زبان کے استعمال سے حقیقت بتائی بھی جا سکتی ہے اور چھپائی بھی۔ ایک ہی واقعہ دو مختلف قسم کی زبان میں بیان کر کے اسے دو مختلف رنگ دیے جا سکتے ہیں، اور بین الاقوامی میڈیا فی الحال یہی کر رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا