اپوزیشن اتحاد مذاکرات پر تیار لیکن پی ٹی آئی کے بیانات میں تضاد کیوں؟

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ مذاکرات ہوں یا مزاحمت، یہ ذمہ داری محمود خان اچکزئی کی ہے جب کہ عمران خان کی بہن علیمہ خان بات چیت کی مخالفت کر رہی ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین گوہر علی خان 15 جولائی 2024 کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران میڈیا سے بات کر رہے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سمیت اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے وزیر اعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی دعوت قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے نئے میثاق پر دستخط محمود خان اچکزئی کی ذمہ داری ہوں گی۔

وزیر اعظم نے منگل کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی بات کی تھی جسے اپوزیشن اتحاد نے قبول کیا ہے۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے سربراہ محمود خان اچکزئی، پی ٹی آئی کی نامزد کردہ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں۔

اتحاد کی جانب سے بدھ کو جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ملک کو درپیش مسائل، سیاسی اور معاشی بحران، امن و امان اور گورننس کے فقدان سے نکالنے کے لیے ایک نئے میثاق کی اشد ضرورت ہے۔

بیان کے مطابق: ’نئے میثاق میں اپوزیشن مستقبل میں شفاف انتخابات، متفقہ نئے الیکشن کمشنر کے تقرر، پارلیمانی بالادستی، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کی پاسداری، آئینی اور جمہوری اقدار کی مضبوطی کے لیے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔‘

اس بیان میں عمران خان کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ اگر پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں 1973 کے آئین کی بحالی، پارلیمانی اور سویلین بالادستی، اور تمام اداروں کے آئینی حدود سے تجاوز نہ کرنے پر اتفاق کرتی ہیں تو عمران خان کے نئے میثاق پر دستخط کرانے کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی اٹھاتے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مذاکرات کی دعوت تو قبول کی گئی ہے، تاہم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

ایک طرف پی ٹی آئی کی جانب سے بار بار یہ کہا جا رہا ہے کہ مذاکرات ہوں یا مزاحمت، یہ ذمہ داری عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو دی ہے، تو دوسری جانب عمران خان کی بہن کی جانب سے مذاکرات کی مخالفت ہو رہی ہے۔

عمران خان کی جانب سے سٹریٹ موومنٹ کی ہدایت پر گذشتہ روز خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع اللہ جان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ سٹریٹ موومنٹ ہو یا مذاکرات، اس کی ذمہ داری عمران خان نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو دی ہے۔

شفیع جان کے مطابق، ’محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس جو فیصلہ کریں گے، پی ٹی آئی اس پر من و عن عمل کرے گی۔‘

اسی طرح پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے جمعے کو ایکس پوسٹ میں کہا کہ وہ چار دسمبر کو اپنے ایک ٹویٹ میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ پی ٹی آئی بطور پارٹی کسی سے مذاکرات نہیں کرے گی بلکہ مذاکرات کا اختیار اپوزیشن تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پاس ہے۔

شیخ وقاص نے کہا: ’اس اتحاد میں ہماری نمائندگی موجود ہے اور اگر اس نے ایسا کوئی فیصلہ کیا ہے تو وہ ہمیں قبول ہی ہو گا۔‘

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بھی یہی بات جمعے کو لاہور جاتے ہوئے کہی اور کہا کہ محمود خان اچکزئی اور ناصر عباس جو بھی فیصلہ کریں گے، اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

تاہم دوسری جانب عمران خان کی بہن نے گذشتہ روز اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جو لوگ مذاکرات کی بات کرتے ہیں، ان کا عمران خان سے کوئی تعلق نہیں۔

علیمہ خان کے بقول: ’عمران خان جب سٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کی بات کرتے ہیں تو پھر مذاکرات کی بات کرنے والے عمران خان کے ساتھی نہیں ہوں گے۔‘

مبصرین کیا کہتے ہیں؟

اس سارے معاملے پر مبصرین کی رائے منقسم ہے اور بعض سمجھتے ہیں کہ علیمہ خان اگر مذاکرات کی مخالف ہیں تو پارٹی میں کوئی ان کا راستہ نہیں روک سکتا۔

طارق وحید پشاور میں مقیم صحافی ہیں اور پی ٹی آئی کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس وقت پی ٹی آئی سیاسی کشمکش کا شکار ہے اور بند گلی میں کھڑی ہے، جب کہ محمود خان اچکزئی ایک زیرک سیاست دان ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات سنبھالنے اور سیاست کے گر جانتے ہیں۔

انہوں نے بتایا، ’محمود خان نے مصلحت کا راستہ نکالنے کی کوشش کی ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس کا کوئی نتیجہ سامنے آئے گا۔‘

طارق وحید کے مطابق ایک طرف اگر پارٹی قائدین کی جانب سے مذاکرات پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے تو دوسری جانب علیمہ خان کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور علیمہ خان بنیادی طور پر سیاس دان تو نہیں ہیں لیکن ان کے پاس ایک ہی کارڈ ہے کہ وہ عمران خان کی بہن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’علیمہ خان اگر مخالفت کر رہی ہیں تو میرے خیال میں پارٹی میں ایسا کوئی نہیں ہے جو ان کے سامنے کھڑا ہو جائے، اور ماضی میں علی امین نے ٹکر لینے کی کوشش کی تھی لیکن اس کا نتیجہ سب نے دیکھ لیا کہ انہیں وزارت اعلیٰ سے فارغ کر دیا گیا۔‘

اس سارے معاملے پر تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخوندزادہ حسین احمد یوسفزئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ علیمہ خان کی ایک بات ہے اور دوسری طرف انہوں نے محمود خان اچکزئی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’حکومت کو مذاکرات کے حوالے سے جواب دینے سے پہلے علیمہ خان سے طویل نشست ہوئی تھی اور وہ ان تمام معاملات پر آن بورڈ ہیں۔‘

پشاور میں مقیم سینیئر صحافی و تجزیہ کار محمود جان بابر کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی قیادت میں ایسا کوئی نظر نہیں آ رہا جو کوئی فیصلہ کرے اور اسے نافذ کرے، اور پارٹی قیادت سب اس پر متفق ہو سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محمود جان بابر نے کہا کہ اسی وجہ سے محمود جان کے مطابق اب ایسے کسی فرد کی تلاش ہے جو کوئی فیصلہ کرے اور پی ٹی آئی کو قابلِ قبول ہو، تو اسی وجہ سے محمود خان کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر لوگوں کو قابلِ قبول ہیں، جب کہ پی ٹی آئی کے اندر تفریق واضح نہیں آ رہی، اور وہ مذاکرات کی باتیں آگے بڑھا رہی ہے۔

محمود جان نے کہا، ’پارٹی کے اندر مسائل موجود ہیں اور باہر کا کوئی فرد اگر کوئی فیصلہ بھی کرے تو بعد میں پی ٹی آئی یہ بھی کہہ سکتی ہے کہ یہ فیصلہ پی ٹی آئی نے نہیں بلکہ کسی اور نے کیا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست