پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے سٹریٹ موومنٹ چلانے کی ہدایت پر مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ اس بار تحریک ’نیکسٹ لیول‘ کی ہو گی۔
مختلف مقدمات میں سزا پانے کے بعد جیل میں قید عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو ’سٹریٹ موومنٹ‘ چلانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پیغام کے مطابق ’سہیل آفریدی کو ہدایت دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا۔ جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں۔‘
اس سے پہلے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور بھی مختلف مظاہرے اور اسلام آباد مارچ کر چکے ہیں لیکن اس پر کارکنان کی جانب سے تنقید کی جاتی تھی کہ علی امین تحمل سے کام لے رہے ہیں جبکہ سہیل آفریدی کے آنے کے بعد ان سے سخت موقف اپنانے کی امید کی جا رہی ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو نے اسی سلسلے میں صوبائی حکومت اور پارٹی اراکین اور پارٹی کارکنان سے بات کی ہے کہ اس تحریک میں نیا کیا ہو گا۔
اسی حوالے سے مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع اللہ جان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’عمران خان کو جس طریقے سے توشہ خانہ ٹو مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے وہ بالکل غیر قانونی ہے کیونکہ اس فیصلے میں بنیادی تقاضے پورے نہیں ہوئے ہیں۔‘
’اور اسی سلسلے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پیر کو انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن کے اسلام آباد اور راولپنڈی کے تنظیمی عہدیداروں سے پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں سٹریٹ موومنٹ کے حوالے سے ملاقات کر چکے ہیں جس میں ان کو ہدایات دے دی گئی ہیں۔‘
مشیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ ’ہماری مرکزی اور صوبائی پارٹی تنظیموں کی نشستیں بھی ہو رہی ہیں اور اس (تحریک کے لائحہ عمل) کو ہم مزید ریفائن کریں گے اور عمران خان کا حکم من وعن قبول کیا جائے گا۔‘
تحریک کے حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ اس تحریک کی تمام تر ذمہ داریاں عمران خان نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دی ہوئی ہیں اور وہ جو بھی فیصلہ کریں گے چاہے دھرنا ہو اسلام آباد مارچ ہو یا خیبر پختونخوا کی سرحدوں کی بندش ہو یا مذاکرات ہوں تو یہی لوگ فیصلہ کریں گے۔
عمران خان کے موقف کی شدت میں اضافے کی وجہ
اس سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’ہماری مسلسل جدوجہد جاری ہے کیونکہ ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔‘
انہوں نے بتایا ’جس طریقے سے پولیس گردی ہوئی ہے اور چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا عمران خان ناحق قید ہیں، اور اس سارے پس منظر کو دیکھ کر ہماری تحریک کی تیاری بھرپور ہے اور پہلے بھی اسلام آباد مارچ کیا لیکن اس بار مارچ ہو یا کوئی اور منصوبہ تو وہ نیکسٹ لیول کا ہو گا۔‘
پارٹی کی سطح پر بھی پارٹی عہدیداروں کے مطابق سٹریٹ موومنٹ کے لیے تیاریاں شروع کی گئی ہیں اور گلی گلی جا کر اس تحریک کو کامیاب بنایا جائے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات اکرام کھٹانہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کارکنان کے علاوہ ہم گلی گلی میں عوام اور تاجر برادری اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو تحریک میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اکرام نے بتایا ’اس بار ہم اس تحریک کے (مقصد) کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے اور اپنے چیئرمین عمران خان کو رہا کرائیں گے۔‘
پی ٹی آئی کارکنان اور بعض عہدیداروں کی اگر بات کی جائے تو شروع دن سے وہ سوشل میڈیا پر سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے اور ان کا موقف تھا کہ وہ تحمل سے کام لے رہے ہیں اور جارحانہ سیاست نہیں کرتے۔
تاہم سہیل آفریدی سے ورکرز کی توقعات وابستہ تھیں اور ورکرز کے مطابق اب بھی ہیں کہ وہ جارحانہ سیاست کی طرف جائیں گے۔
واصف اللہ پی ٹی آئی کے حامی اور پشاور میں طالب علم ہیں اور ان کے مطابق علی امین گنڈاپور وہ نہیں کر رہے تھے جو ہم چاہتے تھے اور اسی وجہ سے ان کو تبدیل کرنا پڑا۔
واصف نے بتایا ’سہیل آفریدی کو کسی خاص مشن کے لیے لایا گیا ہے اور امید ہے یہ تحریک کامیاب ہو گی۔‘
