عید کارڈ کی روایت، جسے جدید ٹیکنالوجی نگل گئی

عید کارڈ صرف کارڈ نہیں تھے جو ہم اپنے پیاروں کو بھیجتے تھے، بلکہ اس میں چھپا پیار اور خلوص تھا، جو تیز رفتار زندگی میں اب کہیں کھو گیا ہے۔

عید کارڈ کے آنے کی دلی خوشی ہوا کرتی تھی (پبلک ڈومین)

گذشتہ دو دہائیوں میں ہمارے نوسٹیلجیا سے جڑی بہت سی خوبصورت چیزیں قصہ پارینہ بنیں، عید کارڈ کی حسین و دلکش روایت بھی انہی میں سے ایک ہے جنہیں جدید ٹیکنالوجی کا اژدہا نگل گیا۔

ہمیں وہ زمانہ اچھی طرح سے یاد ہے جب عیدالفطر کو منانے کے لیے رمضان المبارک کے آغاز سے ہی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں، ماضی میں اپنے پیاروں، رشتے داروں، عزیز و اقارب اور دوست و احباب کو عید کارڈز ارسال کرنے کی دل ستاں روایت بھی انہی تیاریوں کا حصہ ہوا کرتی تھی، جسے اب جدید ٹیکنالوجی کا اژدہا نگل گیا۔

صاحبو، اب ہم عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں نئے رشتے بنانے اور کچھ پانے کی اکساہٹ باقی نہیں رہتی، سو ہم پرانے اثاثوں اور ان سے وابستہ کہنہ سال یادوں کو سینت سینت کر رکھتے ہیں۔ برس ہا برس سے دل کی آرائش گاہ میں سجی مورتیاں ہمیں بے حد عزیز ہیں لہذا اکثر انہی مورتیوں کو چمکاتے اور یاد کارنس کی جھاڑ پونچھ کرتے رہتے ہیں۔

گذشتہ روز یوں ہوا کہ کافی عرصے بعد ڈاک خانہ اوچ شریف کا ڈاکیا بشیر احمد آیا تو ہمارے نام آنے والی کئی دنوں کی ڈاک سے اس کا تھیلا بھرا ہوا تھا۔ کچھ خطوط، کچھ کتابیں اور سب سے زیادہ عید کارڈز۔۔۔ بخدا! ایک ایک عید کارڈ کو ہاتھ میں لے کر ہم نے ان کے بھیجنے والے کرم فرما دوستوں، سہیلیوں، سجنوں اپنے پڑھنے والوں کی جادوئی خوشبو کو سچے دل سے محسوس کیا۔

وبا کے اس بددعائے ہوئے عہد میں عید کارڈز کی روایت کو زندہ رکھنے اور اس ناچیز زمین زاد کو اپنی بے کراں محبتوں میں یاد رکھنے پر ان کے لیے بہت سا پیار اور بہت سی دعائیں۔ بے قرار جی چاہا کہ اس خوشبو کی سانجھ میں ’انڈپینڈنٹ اردو‘ کے دیگر قارئین کو بھی شریک کیا جائے۔ سو زیر نظر اظہاریہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

سرود رفتہ کی بہت سی جاں ستاں یادوں کی خوشبو آج بھی دل و دماغ میں ہمکتی ہے، ان میں ایک عید کارڈز بھیجنے کی روایت بھی ہے، جس کو گاہے گاہے یاد کرتے ہوئے محبت، خلوص اور رشتوں کی سچائی کا توانا احساس ہوتا ہے، جو اب اس کلجگ میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی بازاروں میں عید کارڈز کے خصوصی سٹال سج جاتے تھے۔ ہر کوئی منفرد عید کارڈ خریدنے کی سعی کرتا۔ بعدازاں اُس پر خوب صورت لکھائی میں عید کے حوالے سے اشعار لکھے جاتے تھے۔ منچلے نوجوان زیادہ تر مزاحیہ اشعار لکھتے تھے۔ یہ شعر برسوں تک عید کارڈز پر لکھے جاتے رہے:

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گرم گرم روٹی توڑی نہیں جاتی
آپ سے دوستی چھوڑی نہیں جاتی

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ڈبے میں ڈبہ، ڈبے میں کیک
دوست ہے میرا لاکھوں میں ایک

اسی طرح اشاعتی ادارے بھی سالہا سال عید کارڈوں کی تیاری اور ڈیزائننگ پر کام کرتے تھے۔ اشاعتی اداروں کے درمیان عید کارڈز کی فروخت کے حوالے سے ایک مقابلے کا سا سماں دیکھنے کو ملتا تھا۔ عید کارڈوں کی بہتات کے باعث محکمہ ڈاک ان عید کارڈز کی ترسیل کے لیے خصوصی انتظامات کیا کرتا تھا۔

رمضان کے آخری دنوں میں ڈاک خانوں کا عملہ باقی کام چھوڑ کر صرف اور صرف عید کارڈ بذریعہ پارسل/ رجسٹرڈ اور عام ڈاک میں بک کرنے اور رسیدیں کاٹنے میں مصروف عمل ہوتا تھا۔ محکمہ ڈاک کا کام بھی معمول سے بڑھ جاتا تھا۔ لہٰذا انہیں عوام الناس کے لیے باقاعدہ ہدایت نامہ جاری کرنا پڑتا کہ بروقت عید کارڈوں کی ترسیل کے لیے فلاں تاریخ تک عید کارڈ سپرد ڈاک کر دیے جائیں۔

تاریخی تناظر میں جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ برِصغیر پاک و ہند میں عید کارڈ بھیجنے کی خوبصورت روایت کا آغاز انیسویں صدی کے اواخر میں ہوا۔ ویسے تو کئی دولت مند مسلمان گھرانے صدیوں سے سجاوٹ والے خطاطی شدہ پیغامات بھیجا کرتے تھے، لیکن عید کارڈوں کی وسیع پیمانے پر دستیابی اور ان کا ڈاک کے ذریعے بھیجا جانا انیسویں صدی کے اواخر میں ہی شروع ہوا اور یہ سلسلہ تقریبًاً سو سال جاری رہا۔ اس کے پیچھے دو وجوہات تھیں، پہلی ریلوے کا پھیلاؤ اور دوسری وجہ پرنٹنگ کی نئی سہولیات کا متعارف ہونا تھا۔

1853 میں جب ہندوستان میں ریلوے متعارف کروائی گئی تو اس کا جال صرف 34 کلومیٹر پر محیط تھا جو بڑھتے بڑھتے 1880 میں 25 ہزار کلو میٹر تک پھیل گیا۔ ریلوے کے پھیلاؤ کی وجہ سے لوگ اپنے کاروبار اور روزگار کے سلسلے میں گھروں سے زیادہ دور جانے لگے، اس سے ڈاک کا نظام بھی بہتر ہوا، جبکہ پرنٹنگ کی نئی سہولیات نے بھی عید کارڈز کا معیار اور دستیابی بڑھائی۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ابتدائی عید کارڈ بنیادی طور پر یورپ کے کرسمس کارڈز تھے، جنہیں پرنٹنگ یا ہینڈ رائیٹنگ میں مطلوبہ تبدیلیوں کے بعد عید کارڈ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ ہندوستان کی مخصوص تصاویر والے کارڈ بیسویں صدی کے اوائل میں پرنٹ ہونا شروع ہوئے۔

لاہور میں حافظ قمرالدین اینڈ سنز، حافظ غلام محمد اینڈ سنز اور محمد حسین اینڈ برادرز، دہلی میں محبوب المطابع اور بمبئی میں ایسٹرن کمرشل ایجنسی اور بولٹن فائن آرٹ لیتھوگرافر وہ پہلی کمپنیاں تھیں جنہوں نے ہندوستان میں عید کارڈز کی چھپائی کے کاروبار میں قدم رکھا لیکن لندن کی کمپنی رافیل ٹک کے چھاپے گئے ہندوستانی مسلم طرزِ تعمیر کی تصاویر والے پوسٹ کارڈ بھی استعمال کیے جاتے تھے، رافیل ٹک کے کارڈز برصغیر کی کمپنیوں سے کافی مہنگے تھے، عید کارڈز کا رواج گذشتہ صدی کے اختتام تک اپنے زوروں پر رہا اور موبائل اور انٹرنیٹ کی آمد کے ساتھ ہی دم توڑتا گیا۔

عید کارڈ کی روایت کا ختم ہونا مہنگائی کے سبب نہیں بلکہ اب کسی کے پاس اتنا وقت ہی نہیں رہا کہ وہ عید کارڈ خریدنے بازار جائے اور پھر اسے اپنے عزیزوں کو پہنچائے۔ اب نہ وہ زمانہ رہا، نہ عید کارڈوں بھیجنے کا رواج، اب صرف یہ خوب صورت یادیں رہ گئی ہیں۔ وہ محض کارڈز نہیں تھے جو ہم اپنے پیاروں کو بھیجتے تھے، بلکہ اس میں چھپا پیار اور خلوص، جو تیز رفتار زندگی میں اب کہیں کھو گیا ہے اور جو ان عید کارڈز کے ساتھ ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرتا تھا، دوسری طرف بھی منتظر پیارے اسی پیار سے ان کارڈز کے ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے تھے اور جواب میں وہ بھی پیار بھرا کارڈ بھیجتے تھے۔

اب عید کارڈوں کی جگہ واٹس ایپ، مسینجر اور جدید موبائل ایپلیکیشن نے لے لی ہے، شاید اسی لیے اب تہواروں پر وہ جوش و خروش نظر نہیں آتا جو پہلے نظر آتا تھا۔ دور حاضر موبائل فون اور سوشل میڈیا کا ہے، ان تک ہر عام و خاص کی رسائی کی بدولت نوجوان نسل انہی ذرائع سے عید مبارک کے پیغامات بھیجنے کو زیادہ سہل اور موزوں سمجھتی ہے اور عید کارڈ کے تکلفات میں نہیں پڑتی۔

موبائل فون کمپنیوں نے بھی اپنے صارفین کی سہولت اور زیادہ سے زیادہ نوجوان کو اپنے نیٹ ورک سے منسلک کرنے کے لیے بہت سے سستے پیکیجز متعارف کروائے، جو برق رفتار ہونے کے باعث عید کارڈز کی نسبت فوری طور پر متعلقہ افراد تک پہنچ جاتے ہیں، آج نسل نو کو عید مبارک کہنے کے گرچہ بہت سے ذرائع میسر ہیں، لیکن ماضی میں عید کارڈ کے ذریعے اپنے پیاروں کی عید کی خوشیوں میں شریک ہونے کی جو خوشی ہوا کرتی تھی، وہ آج مفقود ہو چکی ہے۔

بے شک ٹیکنالوجی نے لوگوں کا اپنے پیاروں سے جذبات کا اظہار کرنا کم خرچ، آسان اور پرکشش بنا دیا ہے لیکن وہ لوگ جنہوں نے عید کارڈ منتخب کرنے، لکھنے، بھیجنے اور وصول کرنے کا لطف لیا ہے، وہ چند بٹن دبانے اور چند کلکس میں وہ لطف کبھی نہیں پا سکتے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ