نوجوانوں میں سگریٹ نوشی: قانون موجود مگر عمل نہیں

پاکستان میں قانون موجود ہے کہ 18 سال سے چھوٹی عمر کو سگریٹ نہیں بیچی جا سکتی، مگر اس پر عمل کتنا ہوتا ہے؟

(پکسا بے)اگر والدین بروقت بچوں کو پکڑ لیں تو انہیں سگریٹ نوشی کی عادت سے بچ جائیں گے 

اسد جب 13 سال کے تھے تو انھوں نے پہلی بار اپنے دوست کی آدھی بچے ہوئی سگریٹ پی۔ وہ نویں جماعت کے طالب علم تھے۔ سکول کی چھٹی ہو چکی تھی۔ وین کا انتظار ہو رہا تھا۔ دوست کے اکسانے پر انھوں نے درخت کی آڑ لے کر جلدی جلدی دو تین کش لگائے۔

انھیں آج بھی یاد ہے کہ انہیں خوب کھانسی ہوئی تھی۔ سگریٹ دوست کے والد کی تھی۔ ان کا ہم جماعت اپنے والد کا آدھا بچا ہوا سگریٹ کا ڈبا چپکے سے اٹھا لایا تھا۔ کچھ ہفتوں تک یہ سلسلہ دو چار کش سے آدھی سگریٹ تک چلتا رہا۔ وہ اور ان کا دوست، دھویں سے گول گول چھلے بنانا چاہتے تھے، بالکل ایسے ہی جیسے ٹی وی میں دکھاتے ہیں۔

 شوق شوق میں سگریٹ پھونکے کی یہ خوشی اس وقت غارت ہو گئی جب ان کی والدہ کو ان کے کپڑوں سے سگریٹ کی بو آنے لگی اور انھوں نے براہ راست پوچھ گچھ کی۔ جھوٹ بولنے کے چکر میں وہ والدہ کی تیز نظروں سے بچ نہیں سکے۔ پکڑ میں آ گئے اور انہیں قبول کرنا پڑا۔

 آج وہ 23 سال کے نوجوان ہیں اور پچھلے ماہ ہی انہوں نے اپنی پہلی نوکری کا آغاز کیا ہے۔

اسد اب سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے وقت پروالدہ کے ہاتھوں دھر لیے گئے ورنہ وہ بھی نوعمری میں ہی اس لت کا شکار ہو جاتے۔ اسد کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس عمر میں تو گھر والوں کے دباؤ کی وجہ سے نکل آئے۔ لیکن انھوں نے اپنے کئی ہم جماعتوں کو پہلے پہل چھپ چھپ کر اور پھر چین سموکر بنتے دیکھا، بلکہ ان کےکالج کاایک ہم جماعت سگریٹ پیتے پیتے نشے کا شکار ہوا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 پا کستان کا قانون برائے انسداد سگریٹ نوشی 2017

شاید کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ پاکستان میں ایک قانون موجود ہے جس کے مطابق عوامی جگہوں، بسوں، تفریح مقامات اوردفتروں میں سگریٹ یا دیگر تمباکو والی اشیا ایک مخصوض جگہ کے علاوہ کہیں اورنہیں پی جاسکتی۔ جبکہ 18 سال سے چھوٹی عمر کو سگریٹ نہیں بیچی جا سکتی۔ یہ قانون یہ بھی کہتا ہے کہ تعلیمی اداروں کے اندر اور 50 میٹر کی حدود تک سگریٹ نہیں بیچی جا سکتی۔

لیکن قومی وزارت برائے صحت کے ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے 5-15سال کی عمر کے 1200 بچے ہر روزسگریٹ نوشی میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

گلوبل ایڈیلٹ سروے 2014 کے مطابق پاکستان کے22.2 فیصد مرد اور 12.4  خواتین سگریٹ پیتی ہیں۔ 11.4فیصد مرد اور 3.7 فیصدخواتین نیکوٹین کسی اور شکل میں لے رہی ہیں، جبکہ 4.7 فیصد مرد اور 1.1 فیصد خواتین شیشہ یا حقے کے شکل میں تمباکو پیتی ہیں۔ ٹوبیکو اٹلس کی رپورٹ کے مطابق  15 سال سے بڑی عمر کے 20.6 فیصد پاکستانی روزانہ سگریٹ پیتے ہیں، جبکہ تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والی اموات کی شرح 16.99 فیصد ہے۔

ڈاکٹر شہلا مظہر نشے کے عادی افراد کے لیے کام کرتی ہیں۔ نوعمری میں سگریٹ کی لت کے بارے میں کہنا ہے کہ ’اگر غلطی اور شوق میں آ کر کسی بچے نے دوست کی چرس یا ہیروئن سے بھری سگریٹ پی لی تو لامحالہ وہ نشے کا شکار ہو جائے گا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میرے پاس آنے والے بہت سے غریب طبقے اور سڑک پر رہنے والے اکثر بچے 6-7 سال کی عمر میں کوڑے سے ملنے والی سگریٹ کے ٹوٹوں سے ہی سگریٹ نوشی کا شکار ہوئے۔ یعنی سگریٹ، نشے کی طرف پہلا قدم ثابت ہوتا ہے۔ لہٰذا پہلے ہی قدم پر انہیں روک لینا چاہیے۔‘

سگریٹ فروش کیا کہانی سناتے ہیں؟

گلشن اقبال میں قائم ایک چھوٹی سے سگریٹ اور پان شاپ کے مالک عبداللہ نے بتایا کہ ’اب عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔ یہ ایک کمرشل ایریا ہے۔ یہاں ہمارے پاس بڑوں کے ساتھ ساتھ نو عمر بچے بھی آتے ہیں۔ لیکن خود نہیں بلکہ اپنے والد کے حوالے سے سگریٹ طلب کرتے ہیں۔ ہم کبھی باتوں باتوں میں پوچھ لیتے ہیں۔ کس نے منگائی ہے؟ 15، 16 سال کے لڑکے لے جاتے ہیں، اب ان سے کیا پوچھیں۔‘

اس ہی طرح آئی آئی چندریگر روڈ کے اطراف میں قائم کئی کریانہ شاپ پر ناصرف سگریٹ نوشی کے اشتہار اور پوسٹر آویزاں ہیں۔ بلکہ وہاں مختلف ذائقوں اور انداز میں سگریٹ بیچی جارہی ہے۔ ایک دکاندار موسیٰ کا کہنا ہے کہ ’اب خواتین کو سگریٹ خریدتے ہوئے کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی۔ مختلف ذائقوں اور نکوٹین کی کم اور زیادہ مقدار والی سگریٹ ہر جگہ ہی دستیاب ہیں۔ ویسے بھی ہچکچانے والوں کی آسانی کے لیےاب نیکوٹین، velo کی ڈبی اور ساشے میں دستیاب ہے۔‘

قانون کی کھلے عام خلاف ورزی ہو رہی ہے

ڈاکٹر جاویداحمد خان، آغا خان ہسپتال میں بحیثیت پلمونالوجسٹ کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر جاوید کہتے ہیں کہ ’ہمارے ہاں قانون کی پابندی نہیں ہے۔ ہمارا قانون کچھ کہتا ہے لیکن ہم کرتے کچھ ہیں۔ ہم روز ہی دیکھتے ہیں کہ ہمارے اردگرد قانون کی کھلے عام خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ نو عمر بچے اپنے دوستوں کے اثرات لیتے ہیں۔ ہمارے پاس والدین اپنے بچوں کو لے کر آتے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کا بیٹا صرف سگریٹ پیتاہے۔ لیکن اب اس کے پاس سے چرس اور الکوحل کی بو بھی آنے لگی ہے۔ یعنی شوقیہ سگریٹ نوشی سے شروع ہونے والا یہ سفر آگے ہیروئین اور شراب کی طرف لے جاتاہے۔‘

سگریٹ نوشی کے دماغی صحت پر اثرات

ڈاکٹر فرح اقبال ماہر نفسیات ہیں اور جامعہ کراچی کے شعبہ نفسیات کی سربراہ ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ بچوں اور بڑوں دونوں ہی کے لیے سگریٹ نوشی، جسمانی صحت کے مقابلے میں دماغی صحت کے لیےزیادہ نقصان دہ ہے۔ دماغی صحت کی بیماریاں کیونکہ نظر نہیں آتیں۔ اس لیے اس جانب توجہ نہیں دی جاتی۔

’ہمارے احساسات اور جذبات کی شدت، ڈوپامین ہارمون کی مرہون منت ہوتی ہے۔ تمباکو یا نیکوٹین، ڈوپامین ہارمون کے اخراج میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ لوگ، تھکن، چڑچڑے پن، تناو اور موڈ سوئنگ کا بھی شکار ہو سکتے ہیں۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ یہ اثرات وقتی نہیں بلکہ دیرپا ہوتے ہیں کیونکہ جب ایک بارہمارا دماغ نکوٹین کا عادی ہوجائے تو جب تک جسم کو نکوٹین نہیں مہیا کی جائے گی۔ دماغ ڈوپامین پیدا نہیں کرئے گا۔ سگریٹ نوش نیروسیزم یعنی شک کا شکار رہتے ہیں۔ انہیں خود پر اعتماد نہیں رہتا ہے۔ بلکہ سامنے والے کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ میل جھول اور تعلقات خراب ہونے کے ساتھ، انہیں لگتا ہے کہ سگریٹ نوشی کر کے ہی وہ اپنا اعتماد بحال کر سکتے ہیں۔‘

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’ساتھ ہی سب سے بڑا نقصان یادداشت کا ہوتا ہے۔ کیونکہ ہمارےپھیپڑوں اور دماغ، دونوں کو ہی آکسیجن کی ضرورت رہتی ہے۔ نکوٹین کے استعمال سے دماغ میں آکسیجن کم ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے سیکھنے، بولنے اورنئی نئی چیزیں کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ یہ نا صرف دماغی خلیوں کو بلکہ ہپوکیمپس  (دماغ کا وہ حصہ، جو یادداشت کو محفوظ کرتا ہے) کو بھی متاثر کرتا ہے۔

’ساتھ ہی ہمارے جسم میں ایسے ہارمون ہوتے ہیں۔ جو تناو اور پریشانی کو دور کر دیتے ہیں۔ لیکن نکوٹین کا عادی جسم خود تناو کو دور نہیں کرتا۔ بلکہ وہ سگریٹ پینے پر ہی تناو کم کرنے والے ہارمون خارج کرتا ہے۔ اور یہ لوگ نیند اور بھو ک کی کمی کا شکار رہتے ہیں۔‘

بچوں میں سگریٹ نوشی کی روک تھام کیسے کی جا سکتی ہے؟

ڈاکٹر جاوید احمد خان کی تجویز ہے کہ اگر والدین بروقت بچوں کو پکڑ لیں تو وہ اس بری عادت سے بچ جائیں گے۔ پوری دنیا میں 30 سال سے تمباکو اور سگریٹ کےا شتہارات پر پابندی ہے۔ ہم نے ٹی وی پر تو پابندی لگا دی لیکن شاپنگ مال میں دیکھ لیں۔ وہاں اشتہارات ہیں۔ دکانوں پر ہیں۔ یعنی ترغیب کے کئی راستے ہیں جس سے سختی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

جبکہ ڈاکٹر فرح سمجھتی ہیں کہ ’والدین اور خاندان کے دیگر افراد کا کام ہے کہ وہ بچوں پر توجہ دیں۔ سگریٹ نوش بچوں کی رنگت پیلی، جسم کمزور، وزن میں کمی اور خشکی بڑھ جاتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ نوعمر بچوں اور لڑکوں لڑکیوں کو ڈانٹ ڈپٹ سے روکا نہیں جا سکتا۔ والدین اور بڑے سمجھائیں کہ تم نے مزہ لینے کے لیے سگریٹ پی ہے۔ تم میرے لیے بہت اہم ہو، بہت اچھے ہو۔ والدین کو جذباتیت کی نہیں بلکہ بچوں کویقین دلانا ہو گا کہ وہ ان سے غیر مشروط محبت کرتے ہیں اورانہیں مستقل مدد کی ضرورت ہو گی۔‘

 ہر طرح کے میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔ انہیں صرف ظاہری صحت کا ہی نہیں بلکہ دماغی صحت کے نقصانات بتائیں۔ انہیں سمجھانا پڑے گااوربار بار انہیں بتانا پڑے گا۔ ان کی سماجی زندگی متاثر ہوگی۔ کیونکہ وہ چھپ کر پی رہے ہیں۔ ان کی غذا کا بھی خیال رکھیں۔ مصروف رکھیں اور توجہ بٹائیں۔

بچوں کے لیے کام کرنے والی فلاحی تنظیم ’سپارک‘ کے ملک عمران احمد نے بتایا کہ ’پاکستانی جن کی صحت پر کل تمباکو نوشی کی وجہ سے خراب ہوتی ہے، وہ کل اخراجات کا 8.3 فیصد ہے۔ جو پاکستان کے جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے، موجودہ ٹیکس پانچ سال سے تبدیل نہیں کیا گیا۔ ملک عمران عالمی ادارہ صحت کی دی گئی تجویز سے متفق ہیں کہ ایف بی آر سگریٹ کے ڈبے کی ریٹیل قیمت میں 70 فیصد تک کا اضافہ کرے۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ پورے جنوبی ایشیا میں پاکستان میں سگریٹ کی قیمت سب سے کم ہے۔ اسے بڑھایا جانا چاہیے اور کم عمر افراد کو سگریٹ کی فروخت نہ کرنے کے قانون پر سختی سے عمل درآمد کروانا چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت